اسلام اور امت مسلمہ پر ڈاکٹر مبارک علی کا حملہ

200

اب مسئلہ یہ ہے کہ ہر نبی اور اس کے عہد کا ظہور ایک ماورائے تاریخ تجربہ یا Meta Historical Experience ہوتا ہے اور خود تاریخ اس تجربے سے جنم لیتی ہے۔ لیکن ڈاکٹر مبارک نے اس تجربے کو اُلٹ کر نبوت کی پوری تاریخ ہی کا انکار کردیا ہے۔ اس انکار میں رسول اکرمؐ کے ظہور کا انکار بھی شامل ہے۔ تاریخ کا مارکسی تناظر یہ ہے کہ آلاتِ پیداوار اور پیداواری رشتوں کے بدلنے سے تاریخ بدلتی ہے مگر رسول اکرمؐ کے ظہور کے وقت نہ آلات پیداوار تبدیل ہوئے نہ پیدا واری رشتوں میں کوئی فرق آیا مگر رسول اکرمؐ کی بعثت اور نزولِ قرآن نے انقلاب بھی برپا کیا اور تاریخ کو بھی بدل ڈالا۔ رسول اکرمؐ کی بعثت اور آپؐ کی بے مثال جدوجہد اور عمل ہی نے وہ چیز پیدا کی جسے اسلامی تہذیب اور اسلامی تاریخ کہا جاتا ہے۔ جدید مغربی تہذیب کا تصور تاریخ یہ ہے کہ تاریخ خطِ مستقیم یا سیدھی سطر کی صورت میں سفر کررہی ہے اور مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔ اس تصور، تاریخ کو انگریزی اصطلاح میں تاریخ کا Linear تصور کہا جاتا ہے۔ لیکن کوئی باشعور اور صاحب علم مسلمان تاریخ کے اس تصور کو ایک لمحے کے لیے بھی تسلیم نہیں کرسکتا، اس لیے کہ مسلمانوں کا تصور تاریخ دائروں یا Cyclic ہے۔ یعنی مسلمانوں کے یہاں تاریخ دائرے میں سفر کررہی ہے اور اپنی اصل کی طرف لوٹ کر خود کو دہراتی رہتی ہے۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ دنیا میں ایک لاکھ 24 ہزار پیغمبر آئے۔ ہر پیغمبر نے ایک ہی بات کہی۔ اس نے کہا خدا ایک ہے۔ میں خدا کا بھیجا ہوا پیغامبر ہوں۔ خدا ایک ہے۔ وہی ہمارا خالق، مالک اور رازق ہے۔ اسی کی طرف سے ہم آئے ہیں۔ اس کی طرف ہم لوٹ کر جائیں گے۔ چناں چہ صرف اسی کو رب مانو، اسی کی عبادت کرو، اسی کے بتائے ہوئے حلال کو حلال اور حرام کو حرام تسلیم کرو اور آخرت میں جواب دہی کے تصور کو ہر دم سامنے رکھو۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو مسلمانوں کی تاریخ نے خود کو دو چار بار نہیں ایک لاکھ 24 ہزار مرتبہ دہرایا ہے۔ تاریخ کے خود کو دہرانے کا دوسرا ثبوت رسول اکرمؐ کی ایک حدیث ہے۔ آپؐ نے فرمایا میرا زمانہ رہے گا جب تک اللہ چاہے گا۔ اس کے بعد خلافت راشدہ ہوگی اور اس کا زمانہ رہے گا جب تک اللہ کو منظور ہوگا۔ اس کے بعد ملوکیت ہوگی اور اس کا زمانہ رہے گا جب تک اللہ کو پسند ہوگا۔ اس کے بعد کاٹ کھانے والی آمریت ہوگی اور اس کا زمانہ رہے گا جب تک اللہ کی مرضی ہوگی۔ لیکن اس کے بعد زمانہ ایک بار پھر خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کے تجربے کی جانب لوٹے گا۔ اس حدیث شریف سے بھی ثابت ہے کہ مسلمانوں کی تاریخ اصل کی طرف لوٹ کر خود کو دہرائے گی اور اس عمل کو دہرانے کی پشت پر تاریخ نہیں ماورائے تاریخ اصول یا Meta Historical Principle ہوگا۔ اس بات کے معنی یہ ہیں کہ مسلمانوں کا عہد زرّیں صرف ’’ماضی کی یادگار‘‘ نہیں بلکہ یہ عہد پہلے بھی عنوانات بدل بدل کر بار بار آچکا ہے اور یہ ایک بار پھر آئے گا۔ یہی وجہ ہے کہ علما، مسلم دانش ور اور مسلم مورخین رسول پاکؐ کے عہد مبارک اور خلافت راشدہ کے زمانے کو مسلمانوں کے عہد زرّیں یا Golden Peried کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں اور کررہے ہیں۔ چوں کہ مسلمانوں کی تاریخ ماورائے تاریخ عمل یا Meta Historical Process سے ظہور میں آتی ہے اس لیے وہ زمان و مکان کی بھی اسیر نہیں ہے۔ اقبال نے کہا ہے
خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زنّاری
نہ ہے زماں نہ مکاں لاالہ الااللہ
اقبال کہہ رہے ہیں کہ ہمارے زمانے میں عقل جدید سائنس کے زیر اثر زمان و مکان کی مالا جپ رہی ہے اور انہیں فیصلہ کن اور تقدیر ساز سمجھتی ہے مگر مشیتِ ایزی اور ارادہ الٰہی کسی زمان و مکان یا Time and Space کا پابند نہیں۔ خدا جب چاہتا ہے زمان و مکان کو بے معنی بنادیتا ہے اور تمام فطری قوانین یا Phisical Laws عضو معطل بن کر رہ جاتے ہیں۔ مگر ڈاکٹر مبارک خدا کو مانتے ہیں نہ رسول اکرمؐ پر ان کا ایمان ہے نہ انہیں اسلام سے کچھ لینا دینا ہے چناں چہ وہ تاریخ اور زمکان کو خدا کی طرح پوجتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہوتا ہے تاریخ سے ہوتا ہے زمان و مکان سے ہوتا ہے۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ اسلام تاریخ یا زمان و مکان سے آگاہ نہیں یا ان کے وجود کو تسلیم نہیں کرتا۔ کرتا ہے مگر اس کے نزدیک ان تمام چیزوں کی اہمیت ثانوی ہے۔ اصل چیز خدا اور اس کی مشیت اور ارادہ ہے۔
ڈاکٹر مبارک کے لیے ’’احیا‘‘ کا خیال اتنا وحشت انگیز ہے کہ انہوں نے اسے مسلمانوں کا ذہنی دیوالیہ پن قرار دیا ہے۔ حالاں کہ احیا کا تصور اپنی اصل میں ایک انقلابی تصور ہے۔ احیا کا مطلب ہے اصل کی طرف لوٹ کر انحراف سے جان چھڑانا۔ انسان صحت مند رہنا چاہتا ہے۔ اس لیے کہ صحت زندگی کی اساس بھی اور اس کا معیار بھی۔ لیکن انسان بہرحال بیمار پڑ جاتا ہے۔ بیمار پڑ جاتا ہے تو صحت خراب ہوجاتی ہے۔ صحت زیادہ خراب ہوجائے تو زندگی کے خاتمے کا اندیشہ پیدا ہوجاتا ہے۔ چناں چہ انسان ’’علاج‘‘ کرتا ہے۔ ’’دوا‘‘ کھاتا ہے۔ ’’معالج‘‘ سے رجوع کرتا ہے اور بالآخر صحت کو ’’دوبارہ‘‘ پانے میں یا اس کا ’’احیا‘‘ کرنے میں کامیاب رہتا ہے۔ ماضی میں جب معاشرے ایمان کو ترک کرکے اور توحید کو چھوڑ کر کفر، شرک اور انحراف کی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے تھے تو اللہ ان کی روحانی، تہذیبی اور تاریخی صحت کو بحال یا درست کرنے کے لیے پیغمبروں کو روحانی اور اخلاقی معالج کے طور پر مبعوث فرماتا تھا۔ اور اس طرح توحید اور ایمان کا ’’احیا‘‘ ہو جاتا تھا۔ رسول اکرمؐ پر نبوت ختم ہوگئی مگر اسلامی تاریخ میں مجددّین کے ذریعے ’’احیا‘‘ کا عمل اب تک جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا۔ چناں چہ احیا کا تصور سیکولر، لبرل اور سوشلسٹ عناصر کے لیے دیوالیہ پن کی علامت ہوگا، مسلمانوں کے لیے احیا زندگی ہے، صحت ہے، زندگی اور صحت کا معیار ہے، سوشلزم کے پاس احیا کا تصور نہیں تھا اس لیے وہ ایک بار بیمار ہوا تو دوبارہ کبھی صحت کی طرف نہ جاسکا اور فنا ہوگیا۔ سیکولرازم، لبرل ازم اور سرمایہ داری بھی احیا کے تصور سے محرومی کی وجہ سے ’’غریب‘‘ ہے۔ چناں چہ ان کی صحت ایک حد سے زیادہ خراب ہوگئی تو یہ نظام اور یہ تصورات بھی باقی نہیں رہیں گے۔ ویسے دیکھا جائے تو سوویت یونین کے آخری صدر گورباچوف نے ’’گلاسنوٹ‘‘ اور ’’پروستاریکا‘‘ کی پالیسیوں کے ذریعے سوشلزم
کے ’’احیا‘‘ یا اس کی صحت کی ’’بحالی‘‘ کی کوشش کی مگر وہ کامیاب نہ ہوسکے اور کیسے ہوتے سوشلزم بیچارہ ’’زمان و مکان‘‘ اور ’’تاریخ‘‘ کا اسیر تھا۔ لبرل ازم بھی بحران کا شکار ہے اور مغرب میں لبرل ازم کا سب سے بڑا علمبردار ہفت روزہ ’’دی اکنامسٹ‘‘ اپنے ایک حالیہ شمارے میں لبرل ازم کے ’’احیا‘‘ کے لیے ’’اقدامات‘‘ تجویز کرچکا ہے۔ ٹوائن بی جدید مغرب کے دو عظیم ترین مورخین میں سے ایک ہے۔ اس نے جاپانی دانش ور اکیدا کے ساتھ ایک مکالمے میں صاف کہا ہے کہ مغرب مر رہا ہے اور اس کو بچانے کے صرف دو ہی طریقے ہیں، ایک یہ کہ وہ کسی نہ کسی قسم کی روحانیت اختیار کرے اور یہ کہ وہ ٹیکنالوجی کے عشق سے جان چھڑائے۔ مغرب ٹوائن بی کے مشورے پر عمل کرکے روحانیت کی طرف جائے گا تو ماضی کی طرف جائے گا۔ ’’احیا‘‘ کی طرف جائے گا اور ٹیکنالوجی کے عشق سے جان چھڑائے گا تو اپنے ’’حاضر و موجود‘‘ اور اپنے ’’جدید‘‘ پر تھوکے گا۔ یورپ کو جدید، روشن خیال اور عقل پرست ہوئے صدیاں ہوگئیں مگر اب یورپ کے ہر ملک میں نسل پرستی اور قوم پرستی کی لہر چل رہی ہے۔ یہ یورپ میں نسل پرستی اور قوم پرستی کا ’’احیا‘‘ ہے۔ ارے بھائی جب ’’بیماریوں‘‘ کا ’’احیا‘‘ ہوسکتا ہے تو خوبیوں، معنویت اور حسن و جمال کا ’’احیا‘‘ کیوں نہیں ہوسکتا؟ جس طرح نسل پرستی اور قوم پرستی ایک ’’Idea‘‘ ہے اسی طرح توحید، عہد رسالتؐ، سیرت طیبہؐ، ریاست مدینہ اور خلافت بھی ایک Idea ہی ہے۔ بُرے Ideas کا احیا ہوسکتا ہے تو اچھے Ideas کا بھی احیا ہوسکتا ہے۔ بُرے Ideas زمان و مکان سے بالاتر ہوسکتے ہیں تو اچھے Ideas بھی زمان و مکان سے بالاتر ہوسکتے ہیں۔ ڈاکٹر مبارک کا یہ خیال بھی غلط اور نا مبارک ہے کہ جب تک مسلمان ماضی کی قید سے نہیں نکلیں گے اس وقت تک وہ تخلیقی یا خیال کی آزادی کے حامل نہیں ہوں گے۔ مسلمانوں نے اپنے ماضی سے رشتہ توڑے بغیر علوم و فنون میں سات سو سال تک یورپ سمیت پوری دنیا کی امامت کی۔ چوں کہ مسلمان ماضی میں ایسا کرچکے ہیں اس لیے وہ آئندہ بھی ایسا کرسکتے ہیں، البتہ مغرب نے جیسے ہی سائنس و ٹیکنالوجی، ترقی کی اس نے اپنے مذہب اور اپنے ماضی پر تھوک دیا۔ لیکن یہ تجربہ مغرب کے ساتھ مخصوص ہے۔ ڈاکٹر مبارک علی اسے مسلمانوں پر کیوں مسلط کرنا چاہتے ہیں؟۔