بھارت: سمجھوتہ ایکسپریس دھماکا کیس کا فیصلہ آج متوقع

133

بھارت میں پنچ کولا کی قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کی خصوصی عدالت سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکہ کیس کا آج فیصلہ سنائے گی۔

18 فروری 2007 کو رونما ہونے والے اس واقعے کے مقدمے میں این آئی اے نے سوامی اسیم آنند سمیت بعض ہندو انتہا پسندوں کو موردِ الزام ٹھہرایا ہے۔ این آئی اے نے عدالت میں یہ دلائل دیئے تھے کہ اس دھماکے میں پاکستانی مسلمانوں کو ہدف بنایا گیا تھا۔

سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے کے اصل ملزم سوامی اسیم آنند ہیں جن کا تعلق ایک انتہا پسند تنظیم ‘ابیھنو بھارت’ سے ہے۔ دیگر ملزمان میں لوکیش شرما، سندیپ ڈانگے اور رما چندر کلسانگرا کے نام قابل ذکر ہیں۔

سوامی اسیم آنند سمجھوتہ ایکسپریس کے علاوہ مکہ مسجد اور اجمیر درگاہ سمیت دیگر دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھی ملزم تھے لیکن وہ ان میں سے بعض واقعات میں بری ہوچکے ہیں۔

سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکے کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا جا رہے جب دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔

یاد رہے بھارت اور پاکستان کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس دلی سے بھارت کے آخری اسٹیشن اٹاری کی طرف جا رہی تھی کہ نصف شب کے قریب جب یہ ٹرین ہریانہ کے شہر پانی پت کے دیوانی گاؤں کے نزدیک پہنچی تو اس کے ایک کمپارٹمنٹ میں بم دھماکہ ہوا۔ دھماکے سے دو بوگیاں آگ کی لپیٹ میں آ گئیں۔ اور اس واقعے میں 68 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت پاکستانی شہریوں کی تھی۔

واضح رہے کہ اس طویل مقدمے میں درجنوں سرکاری گواہ منحرف ہو چکے ہیں۔ اور ان گواہوں کی تعداد تقریبا تین سو تھی۔