حکومت کی رخصتی برسوں نہیں مہینوں کی بات ہے، مولانا فضل الرحمن 

91
ڈیرہ اسماعیل خان: جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمن اپنی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس کررہے ہیں
ڈیرہ اسماعیل خان: جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمن اپنی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس کررہے ہیں

ڈیرہ اسماعیل خان(صباح نیوز)جمعیت علمائے اسلام (ٖف) کے سر براہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت کی رخصتی سالوں نہیں مہینوں کی بات ہے۔ ہفتے کو ڈیرہ اسماعیل خان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پاکستان کی نظریاتی شناخت کو ختم کیا جارہا ہے، ختم نبوتﷺ اورتحفظ ناموس رسالتﷺآئین کا تقاضا ہے،آئین کی نفی ہورہی ہے، یہ روش ہمیں کسی صورت قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز اسلام آباد کی شاہراہوں پر جس طرح بے حیائی اور فحاشی کا مظاہرہ
ہوااور مادر پدر آزادی کا جھنڈا بلند کیا گیااس سے قوم تشویش میں مبتلا ہے،جب ملک میں بے حیائی کو پروان چڑھایا جائے گا تو حیادار بھی پھر میدان میں آئیں گے،ہمارے سوشل میڈیا کارکنان کو حکومت مخالف پوسٹوں پر گرفتار کیا جارہا ہے،کیا کسی جمہوری ملک میں تنقید پر بھی گرفتار کیا جاتا ہے ؟ ہم ان اقدامات کی پرزور مذمت کرتے ہیں، نیشنل ایکشن پلان مدارس اور مذہبی طبقے کو نشانا بنانے کے لیے استعمال ہوا تو پھر ہم بھرپورمزاحمت کرنے کا حق رکھتے ہیں،ہم نے ملک بھر میں ملین مارچ کیے،ہمارے اجتماعات سے کسی عام عوام کو تکلیف نہیں ہوئی،ہم ریاست مخالف نہیں مگر جب ملک میں بے حیائی کو پروان چڑھایا جائے گا تو حیادار بھی پھر میدان میں آئیں گے اور ہم متنبہ کرتے ہیں کہ رک جائیں وگرنہ جو اقدام ہم اٹھائیں گے وہ قانون کے دائرہ کار میں ہوں گے،آج جو قانون اور آئین کے تحت کام کررہے ہیں انہیں غدار اور ملک دشمن قرار دے کر روکا جارہا ہے، ہماری افواج اور اسٹیبلشمنٹ آئین اور قانون کے دائرہ کار میں رہ کر اپنے فرائض سرانجام دیں گے تو ہم ان کی مکمل تائید کریں گے،انصاف کاتقاضا ہے کہ نواز شریف کو صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں،پی ٹی آئی کی حکومت اس وقت احتساب کے نام پرنوازشریف سمیت مخالفین سے انتقام لے رہی ہے،یہ جبربندہوناچاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اب تک ملک بھر میں 8ملین مارچ کیے ہیں،اب ہمارااگلا پڑاؤ24مارچ کو شمالی وزیرستان اور 31مارچ کو سرگودھامیں ہوگا ۔ ہم نے ملکی موجودہ صورت حال کے حوالے سے متحدہ مجلس عمل کا اجلاس طلب کیا ہے اسی طرح جمعیت علمائے اسلام کی مجلس عاملہ کااجلاس بھی طلب کر رہے ہیں جس میں ملک کی آئندہ کی حکمت عملی پر غورکیاجائے گا۔انہوں نے کہاکہ عریانیت اورسرعام ناچ گانا ہوگا تواس کاردعمل ضرور آئے گا ، ہم حکمرانوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ چیزیں رک جانی چاہیے ورنہ اس کے خلاف ردعمل آسکتاہے ۔