خواتین کیلئے چک دار اوقات کار ،ٹرانسپورٹ اور ڈے کیئر جیسی سہولیات ناگزیر ہیں،ورکنگ ویمن ٹرسٹ کے تحت سیمینار

188
کراچی: خواتین کے عالمی دن پر ورکنگ وومن ٹرسٹ کے تحت سیمینار سے اکرم خاتون ، ریحانہ افروز، تحسین فاطمہ، طلعت فخر ، رومیصہ زاہدی ودیگر خطاب کررہی ہیں
کراچی: خواتین کے عالمی دن پر ورکنگ وومن ٹرسٹ کے تحت سیمینار سے اکرم خاتون ، ریحانہ افروز، تحسین فاطمہ، طلعت فخر ، رومیصہ زاہدی ودیگر خطاب کررہی ہیں

کراچی ( اسٹاف رپورٹر)چانسلر جناح یونیورسٹی اکرم خاتون نے کہا ہے کہ عالمی یوم خواتین کے لیے اس سال کام میں توازن کا پیغام نہایت موزوں اور وقت کی ضرورت ہے ۔پیشہ وارانہ خواتین کے لیے ڈے کیئر کی سہولت کی فراہمی کے لیے حکومتی منظوری ایک اہم کامیابی ہے ۔اس بات کا اظہار انہوں نے وورکن وومن ٹرسٹ کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں منعقدہ ایک خواتین کانفرنس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ ایسے تمام اقدامات کیے جائیں جو خواتین کے لیے کام کے ماحول کو سازگار بنا سکیں اور بنائے گئے قوانین پر عمل کرایا جائے ۔انہوں نے کہاکہ ہماری 70 فیصد خواتین دیہی علاقوں میں ہیں جو کہ اعداد و شمار میں آتی ہی نہیں۔وومن بینک کی صدرات کے دوران ہم نے دیہی خواتین کو بھی فائنانس کیاجس کے نتیجے میں وہ روایتی سیکٹر میں آ گئیں،اس سے بڑے اثرات مرتب ہوئے ۔انہوں نے کہاکہ بڑے پیمانے پر خواتین کے لیے ٹیکنیکل ،ووکیشنل اور کیرئیر گائڈنس ادارے وقت کی ضرورت ہے ۔قومی ترقی کے عمل میں خواتین کی مؤثر اور فعال شرکت کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی ہونی چاہیے ۔وورکنگ وومن کا سب سے اہم مسئلہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ لچکدار اوقات کار کے طریقہ کار کو رائج کرتے ہوئے خواتین کو تمام تیر آئینی و شرعی حقوق فرہم کیے جائیں۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معروف ماہر تعلیم رومیصہ زاہدی نے کہاکہ ہمارا بڑا چیلنج یہ ہے کہ ہمارے ہاں اولڈ ہومز اور ڈے کیئر سینٹر کھلتے جا رہے ہیں،فیملی سپورٹ کا تصور ختم ہو رہا ہے اور سوسائٹی اندر سے کھوکھلی ہو رہی ہے ۔وومن ایمپاورمنٹ کے پیچھے عورتوں پر مظالم کو ایشو بنایاگیا، جس کے پیچھے صرف مغرب کے رنگ میں رنگنے کا منصوبہ ہے۔پاکستان میں 30عورتیں 2018 ء میں غیرت کے نام پر ماری گئیں جبکہ امریکا نے 2016ئمیں ڈومیسٹک وائلنس میں 1809 خواتین کی اموات رپورٹ کیں۔ 2000خواتین روزانہ کال کرتی ہیں اور اپنے اوپر مظالم کی شکایت درج کراتی ہیں ۔ میل ڈومیننس کا نعرہ بنیادی طور پر جہالت کا شاخسانہ ہے ۔انہوں نے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے کہاکہ سیکڑوں خواتین آج بھی اپنے اہل خانہ کے ساتھ ایبارشن کا مطالبہ لے کر آتی ہیں لیکن کہتے ہیں کہ پہلے الٹرا ساؤنڈ کرلیں لڑکی ہو تو کریں لڑکا ہو تو نہ کریں۔ایک ایسی عورت جسے آزادی کے نام پر باپ،بھائی بیٹے ،شوہر کی ’غلامی‘ ( ذمے داری )سے آزاد کروا کرایک باس کی غلامی میں دے دیں گے تو کیا یہ دانش مندی ہے ؟ جان لیں کہ کیمپینئن شپ پھر بھی چل سکتی ہے مقابلہ نہیں چل سکتا۔خواتین و مرد ایک گاڑی کے ٹائر ہیں ساتھ چلیں گے تب ہی گاڑی چلے گی۔ کانفرنس کے موقع پر عالمی یوم خواتین کی مناسبت سے چانسلر جناح یونیورسٹی اکرم خاتون کو بینکنگ کے شعبہ میں نمایاں خدمات انجام دینے پر لائف ٹائم ایوارڈ دیا گیا۔اکرم خاتون فرسٹ وومن بینک کی پہلی صدر بھی رہ چکی ہیں ۔ انہیں وومن بینک کا بانی کہا جاتا ہے ۔ان کی مجموعی خدمات پر اب تک 50اعزازات سے نوازا جا چکاہے۔ورکنگ وومن ٹرسٹ پاکستان کا رجسٹرڈ غیر سرکاری ادارہ ہے جو ایک دہائی سے پاکستان بھر میں وورکنگ وومن کے مسائل کے حل کے لیے ایک جامع اور مربوط کوشش کر رہا ہے ۔ ورکنگ وومن ٹرسٹ نے عالمی یوم خواتین کی مناسبت سے کراچی کے مقامی ہوٹل میں خواتین کانفرنس کی صورت میں ایک خوبصورت اور با مقصد تقریب کا انعقاد کیا جس کا عنوان ’ بہتری کے لیے توازن ‘رکھا گیا تھا۔ کانفرنس میں صحت، صحافت، علم و ادب، معیشت، قانون ، تعلیم سے تعلق رکھنے والی کئی نمایاں خواتین شریک تھیں۔ کانفرنس میں ورکنگ وومن کے ذیلی پروجیکٹ ’ہنر بنائے زندگی ‘کے تحت دیہی خواتین کو ہنر مند بنا کر تیار کیے گئے تھے جن کے بارے میں شرکاء کا کہنا تھا کہ پاکستانی خواتین کے ہاتھ سے بنائی گئی ان ملبوسات اور اشیاء کا معیار عالمی برانڈز سے کیا جا سکتا ہے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معروف ماہر معیشت لبنیٰ فاروق ملک نے کہاکہ پاکستانی خواتین کا جو صحیح معنی میں معاشی پہیہ گھمانے میں کردار ہے وہ ان فارمل معیشت میں ہے ۔ گھریلو صنعتوں کو مربوط کرنے کی ضرورت ہے یا کوئی پلیٹ فارم دے کر اسکو ایک قوت بنائیں تو ایک بڑا اثر ڈالنے والا کام ہوگا۔سماجی میڈیا پر دیکھیں تو کئی خواتین ملبوسات بیچنے سے لے کر کھانوں تک ایک بڑا معاشی پہیہ چلا رہی ہیں۔ اس حوالے سے خواتین کی لائف اسکلز کی تربیت ہونی چاہیے ۔ ضیاالدین یونیورسٹی کی چانسلر تانیہ وقارنے ذہنی مسائل اور پریشانیوں سے نکلنے کی راہ بتاتے ہوئے کہاکہ سوچ کے زاویے بدل کر ہم بہت ساری تبدیلیاں لاسکتے ہیں اور توازن قائم کرسکتے ہیں۔اپنی زندگی کے ہم کیپٹن ہیں، ہمیں ہی اس زندگی کی کشتی کو چلاناہے۔ورکنگ وومن کی سیکرٹری طلعت فخرنے مہمانان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ورکنگ وومن کی جدوجہد پر مفصل انداز میں روشنی ڈالی اور یوم خواتین کے تناظر میں پیشہ وارانہ خواتین کے مسائل کے خل کے لیے ایک جامع اعلامیہ پیش کیا ،جس کی تمام شرکاء نے تائید کی ۔