اقلیتوں کے استیصال پر اقوام متحدہ کی بھارت کو تنبیہ

48
نئی دہلی: ہندو انتہاپسند رہنما بابری مسجد کیس کی سماعت پر سپریم کورٹ کے باہر موجود ہے
نئی دہلی: ہندو انتہاپسند رہنما بابری مسجد کیس کی سماعت پر سپریم کورٹ کے باہر موجود ہے

جنیوا (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنر میشیل باچلیٹ نے بھارت کو اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر خبردار کیا ہے۔ باچلیٹ کا کہنا ہے کہ انہیں بھارت میں اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کو ہراساں کرنے اور نشانہ بنانے کے واقعات کی نشاندہی پر مبنی خبریں ملی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں، جن میں تاریخی طور پر محروم اور نسلی امتیاز کا شکار برادریوں جیسا کہ دلت یا آدیواسیوں کے ساتھ بھی ناروا سلوک کا ذکر کیا گیا ہے۔ باچلیٹ نے مزید کہا کہ تقسیم کرنے والی پالیساں بھارت کی اقتصادی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ دوسری جانب بھارتی کمیونسٹ پارٹی نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی کے دور میں دہشت گردی میں 176 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ میڈیا رپورٹس کا کہنا ہے کہ بھارتی کمیونسٹ پارٹی کے اعداد و شمار کے مطابق فوجیوں کی ہلاکت کے واقعات میں83فیصد تک اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ مودی دورمیں کشمیریوں کی مزاحمت میں بھی تیزی آئی۔ مودی سرکار نے کشمیر کے تمام گروپوں سے سیاسی عمل شروع کرنے کا وعدہ بھی پورا نہیں کیا۔ ادھر بابری مسجد تنازع کو ثالثی کے ذریعے حل کرنے کے لیے بھارتی سپریم کورٹ نے گزشتہ روز اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔ بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے کہا گیا کہ اگر فریق اس انتہائی حساس معاملے کو مصالحت کے ذریعے حل کرنے میں ناکام رہے، تو عدالت اپنا فیصلہ سنانے کے لیے تیار ہے۔ سپریم کورٹ میں زیر سماعت بابری مسجد اور رام مندر اراضی کے معاملے میں فریقوں کی مجموعی تعداد 14 ہے۔ مسلم فریقوں نے ثالثی کی مخالفت نہیں کی، تاہم ہندو فریقوں نے ثالثی کے ذریعے تنازع کا حل نکالنے سے انکار کر دیا ہے، جس پرججوں نے حیرت کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت میں 5 رکنی بینچ نے کہا کہ ہم حیران ہیں کہ متبادل راستہ آزمائے بغیر ثالثی کی تجویز کیوں مسترد کی جا رہی ہے۔ ہم ماضی کی بات نہیں کر سکتے۔ بابر نے کیا کیا تھا؟ وہاں مسجد تھی یا مندرتھا؟ ماضی پر ہمارا زور نہیں ہے، لیکن ہم بہتر مستقل کی کوشش ضرور کر سکتے ہیں۔ ججوں نے مزید کہا کہ ہمیں اس تنازع کی شدت کا احساس ہے اور مصالحت کے ذریعہ اسے حل کرنے کے نتائج سے بھی واقف ہیں۔ ہندو فریقوں نے کہا کہ تمام فریقوں میں معاہدہ ہو بھی گیا، تب بھی سماج اسے کیسے تسلیم کرے گا؟ اس پر ایک جج نے ہندو فریقوں سے کہا کہ آپ پہلے سے ہی کوئی فیصلہ کیوں کر رہے ہیں۔ ہم مصالحت کی کوشش کر رہے ہیں۔