مغرب زدہ این جی اوز خواتین کے سر سے حیاء کی چادر اتار رہی ہیں،سراج الحق

101
لاہور، امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق عالمی یوم خواتین کے موقع پر کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں
لاہور، امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق عالمی یوم خواتین کے موقع پر کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستا ن سینیٹر سرا ج الحق نے کہا ہے کہ مغر ب زدہ این جی اوز ہمارے گھروں میں نقب لگاکر ہماری بچیوں اور خواتین کے سر سے حیا کی چارد اتارنے کی سازش کررہی ہیں،معاشرتی اصلاح کے لیے ایک مضبوط خاندانی نظام اللہ کی رحمت ہے،جو لوگ مغرب کی دیکھا دیکھی ہمارے خاندانی نظام کو توڑنا چاہتے ہیں وہ ملک و قوم کے خیر خواہ نہیں،پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے اس کی جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کے لیے اس کی نظریاتی سرحدوں کا دفاع ضروری ہے،ایسٹ انڈیا کمپنی کے ذہنی غلام پاکستان کو اس کی نظریاتی شناخت سے محروم کرنا چاہتے ہیں،71سال میں ایک دن کے لیے ملک میں اسلامی نظام کو نہیں آزمایا گیا،نظریہ پاکستان سے بے وفائی اور غداری کرنے والوں کے ہاتھوں ملک دو لخت ہوا، پاکستان کو ایک اسلامی و فلاحی ریاست بنا کر ہی اس کے دفاع کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی حلقہ خواتین کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس سے سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی حلقہ خواتین دردانہ صدیقی، سمیحہ راحیل قاضی،آشفقہ ریاض فتیانہ، مسرت مصباح،بنیرہ نعیمی،رضیہ مدنی،طاہرہ یوسف، ربیعہ رحمن اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی میاں محمد اسلم ،امیر جماعت اسلامی لاہور ذکراللہ مجاہد اور سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف بھی موجود تھے۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ قیام پاکستان سے اب تک ملک پر ایک خاص کلاس کی حکمرانی ہے۔یہ کلاس آج تک ملک میں ایسٹ انڈیا کمپنی کا ظالمانہ استحصالی نظام قائم رکھے ہوئے ہے۔حکومتیں اور چہرے بدلتے ہیں لیکن نظام وہی رہتا ہے۔یہ ظالم جاگیرداروں اور بے رحم سرمایہ کاروں کا نظام ہے جس نے عام آدمی کی خوشیوں اور تمناؤں کا خون کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت بھی سابق حکومتوں کا تسلسل ہے اس حکومت میں وہی لوگ ہیں جو مشرف، زردارییا پھر نواز شریف کے ساتھی رہے۔ پرانی بوتل پر نیا لیبل لگا کر مارکیٹ میں لایا گیا ہے۔ان لوگوں نے اقتدار میں آنے سے پہلے بڑے بڑے وعدے کیے اور عوام کو سبز باغ دکھائے مگر 7 ماہ میں اگر کوئی تبدیلی آئی ہے تو وہ مہنگائی کی صورت میں بجلی ،گیس اورتیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔غربت اور بے روزگاری بڑھی ہے۔سینیٹرسراج الحق نے کہا کہ خواتین کے حقوق کا محافظ اسلام ہے۔مغرب نے آج تک خواتین کے حقو ق کو پامال کیا ہے۔اسلام نے ماں بہن بیٹی اور بیوی کے رشتوں کی صورت میں عورت کو بلند مقام عطا کیا ہے۔ دنیا کا کوئی دوسرا مذہب اس کا تصور نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام نے عورت کو وراثت کا حق دیا جبکہ مغرب جمہوریت کے نام پر لوگوں کا استحصال کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت کی معراج اس میں ہے کہ وہ اللہ کے دیے ہوئے نظام پر راضی ہوجائے۔جس طرح اللہ تعالیٰ بے عیب اور لاشریک ہے اسی طرح اس کا عطا کردہ نظام بھی بے عیب ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک پر مسلط استحصالی معاشی اور طبقاتی تعلیمی نظام کی وجہ سے عوام کے اندر سخت مایوسی اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ عوام کو اس مایوسی سے نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں اسلام کا منصفانہ اور عادلانہ نظام نافذ کیا جائے۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک زبردست عوامی تحریک بن گئی ہے۔پلوامہ واقعے میں شہید ہونے والا 18 سالہ نوجوان عادل کشمیری قوم کا ہیرو بن گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کی جدوجہد آزاد ی میں خواتین اور بچیوں نے ناقابل فراموش کارنامے سرانجام دیے ہیں۔آسیہ اندرابی کے شوہر ڈاکٹر عاشق حسین کو بھارت نے 31 سال سے جیل میں ڈال رکھا ہے۔آسیہ اندرابی نے جس حوصلے ،صبر اور جرأت کا مظاہر ہ کیا ہے وہ ہماری عورتوں کے لیے ایک مثال ہے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی پر پابندی لگا کر سیکڑوں رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار اور سیکڑوں تعلیمی و فلاحی اداروں کو بند کردیا ہے۔انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے جماعت اسلامی پر پابندی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اسلامی ایک نظریہ ہے اور نظریے کو کوئی گرفتار نہیں کرسکتا،جماعت اسلامی ایک خوشبو اور روشنی ہے جسے پھیلنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ انہوں نے خواتین سے اپیل کی کہ ملک میں اسلامی انقلاب کے لیے وہ اپنے گھروں کو اسلام کے مورچے بنائیں۔