سندھ اسمبلی کے جن اراکین نے سید عبدالرشید پر حملہ کیا ان کا داخلہ بند کیا جائے،وزیر بلدیات سندھ سعید غنی

150

کراچی(اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ہمیں افسوس ہے کہ آج سندھ اسمبلی میں ایسے ناعاقبت اندیش اور عقل کے مارے لوگ رکن بن گئے ہیں جو نہ صرف اس ایوان کے تقدس کو پامال کررہے ہیں بلکہ ان کے اس رویہ سے صوبہ سندھ اور اس ملک کا وقار بھی مجروح ہورہا ہے۔

اسپیکر سندھ اسمبلی کی ذات پر اپوزیشن لیڈر اور پی ٹی آئی کی آپا فردوس نقوی نے جو حملہ کیا ہے اس سے اس بات کی غممازی ہوتی ہے کہ وہ اس صوبے اور ملک کو کس حد تک لے جانا چاہتے ہیں۔ اسپیکر پر الزامات لگانے والے اپنے لیڈر سے پوچھے کہ انہوں نے ایمسٹی اسکیم سے کیوں فائدہ اٹھایا اور انہوں نے اپنی بہن علیمہ خان کو بھی اس اسکیم سے کیوں فائدہ اٹھوایا۔ 

آج نیب، ایف آئی اے کیوں علیمہ خان کے معاملے پر سورہی ہیں اور کیوں آج علیمہ خان کی ناجائز جائداد پر سوموٹو ایکشن نہیں ہورہے ہیں۔ لندن میں بیٹھی اس بچی کو کیوں انصاف فراہم نہیں کیا جاتا جو اپنے آپ کو عمران خان کی بیٹی قرار دیتی ہے اور عدلیہ نے اس پر عمران خان کا ڈی این اے ٹیسٹ کا فیصلہ دیا ہے تو کیوں اس پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔ 

میں نے پہلے بھی کہا تھا اور آج بھی کہتا ہوں کہ عمران خان اپنے اس کارندے کو شیرو کا لقب دیتا ہے جو سب سے زیادہ گالیاں دے اور گند کرے اور آج اپوزیشن لیڈر اس دور میں دیگر ارکان سے آگے نکلنے میں مصروف ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز سندھ اسمبلی کے باہرمیڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر صوبائی وزراء اور پیپلز پارٹی کے دیگر ارکان بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ سعید غنی نے کہا کہ جمعرات کے روز ایک بار پھر اپوزیشن بالخصوص تحریک انصاف کے ارکان نے نہ صرف غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنایا جو قابل مذمت اور افسوس ناک ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ آج ملکی حالات قومی یکجہتی کے طلبگار ہیں لیکن افسوس کہ تحریک انصاف کے ارکان اپنے رویہ سے نہ صرف ملک کے امیج کو عالمی سطح پر بدنام کررہے ہیں بلکہ ان کی اس قسم کی حرکتوں سے اسمبلی کا تقدس بھی پامال ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج اپوزیشن کے ہی ایک رکن پر تحریک انصاف کے کچھ ارکان کی جانب سے تشدد کرنا اورایم کیو ایم کے انتہائی سنئیر پارلیمینٹرین محمد حسین کی جانب سے جماعت اسلامی کے رکن سید عبدالرشید کا مائیک بند کرنا شرمناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ایوان میں بھی اسپیکر سے مطالبہ کیا ہے کہ جن جن ارکان نے سید عبدالرشید پر حملہ کیا ان کا داخلہ بند کیا جائے اور انہیں پہلے پارلیمانی آداب سکھائیں جائیں۔ 

سعید غنی نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی جانب سے اسپیکر سندھ اسمبلی پر ذاتی حملہ انتہائی شرمناک اور افسوس کے قابل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی کسی بھی ایوان میں ایسا نہیں ہوا ہے کہ اسپیکر پر کسی نے ذاتی حملہ کیا ہو۔

انہوں نے کہا کہ اسپیکر کی ذات پر حملہ کرنے والا عمران خان پیروکار ہے، جس نے خود ایمنسٹی اسکیم لی ہوئی ہے اور نہ ہی اپنا ذریعہ آمدنی نہیں بتایا اور اس نے 2017 کا صرف ایک لاکھ روپے کا ٹیکس ادا کیا ہے جبکہ مجھ جیسے عام آدمی نے 7 لاکھ 76 ہزار روپے کا ٹیکس ادا کیا ہے۔ 

سعید غنی نے کہا کہ عمران خان کو چھوڑیں ان کی بہن علیمہ خان نے بھی ایمنسٹی اسکیم کا فائدہ اٹھایا ہے اور اپنی غیر قانونی اور چھپائی گئی جائداد کو اسی اسکیم کے تحت قانونی بنانے کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں سوال کرتا ہوں کہ آج نیب اور ایف آئی اے کہاں سورہی ہے۔ اور آج کوئی سوموٹو کیوں نہیں آرہا۔ سعید غنی نے کہا کہ علیمہ خان کی ساری جائداد عمران خان کی ہے اور یہ سن اس نے زکوات اور خیرات اور چندے کے پیسوں سے جائدادیں اپنی بہن کے نام سے لی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس تہران خان جو کہ لندن میں ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ وہ عمران خان کی بیٹی ہے اور عدلیہ نے اس پر عمران خان کا ڈی این اے ٹیسٹ کا کہا ہے تو کیوں وہ ڈی این اے ٹیسٹ نہیں کرواتے۔ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ اگر جماعت اسلامی کے رکن سید عبدالرشید اپنے اوپر ہونے والے حملے کی ایف آئی آر درج کرواتے ہیں تو ضرور ہم اس کے گواہ ہیں کہ ان پر پی ٹی آئی کے ارکان نے حملہ کیا ہے۔

اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے مطابق الیکشن کے ذریعے کمیٹیاں بنتی ہیں لیکن ہم نے 2008 میں ایک روایت قائم کی کہ اپوزیشن کے ارکان کو ان کی تعداد کے مطابق کمیٹیاں دی جائیں اور ہم اس بار بھی ان کو 14 اسٹینڈنگ کمیٹیاں دینے پر رضامند ہیں لیکن اس کے بعد ان کی ڈیمانڈ ہوئی کہ انہیں 10 ان کی من پسند کمیٹیوں کی چیئرمین شپ بھی دی جائے ،

ہم نے ان میں سے 8 کمیٹیوں پر اتفاق کیا اس کے بعد انہوں نے نیا مطالبہ کیا کہ جو کمیٹیاں ان کے پاس ہوں اس میں ان کے ارکان کی تعداد زیادہ ہو حالانکہ ایسا نہیں ہوتا لیکن ہم نے ان کی اس بات کو بھی جمہوریت کے پس منظر میں قبول کیا لیکن اب ان کی یہ ڈیمانڈ کہ انہیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ دی جائے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس ایوان کو نہیں چلنے دینا چاہتے لیکن ہم انہیں باور کرانا چاہتے ہیں کہ ہم ان کی کسی بھی غیر پارلیمانی اور غیر جمہوری طرز کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

انہوں نے اپوزیشن لیڈر کے رویہ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کا رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ، غیر پارلیمانی اور غیر جمہوری ہے اور انہوں نے جو روایت آج سے کچھ روز قبل اسی ایوان میں سید ناصر حسین شاہ کے ڈائس پر جاکر ان کے مائیک میں نعرے لگا کر کی تھی اور اس وقت بھی میں نے ایوان میں ان کے اس رویہ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا آج ان کے ارکان نے ایک بار پھر اپوزیشن کے ہی ایک رکن کے مائیک کو بند کرکے اور ان پر حملہ کرکے کیا ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔