اقلیت کیخلاف بیان پر وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن سے استعفا لے لیا گیا،فیصل واوڈا سے وضاحت طلب

73

لاہور/ اسلام آباد (نمائندہ جسارت+ مانیٹرنگ ڈیسک) اقلیت کیخلاف بیان پر وزیراطلاعات پنجاب فیاض الحسن سے استعفا لے لیا گیا،صمصام بخاری کو وزیر اطلاعات پنجاب بنائے جانے کا امکان ہے جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا اور صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کے بیان کا نوٹس لے لیا اور دونوں سے پارٹی سطح پر وضاحت طلب کر لی ہے۔ تفصیلات کے مطابقہندو برادری سے متعلق بیان پر فیاض الحسن چوہان مشکل میں پھنس گئے۔ وزیراعظم عمران خان کے حکم پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے فیاض الحسن چوہان کو طلب کیا تو انہوں نے ایوان وزیراعلیٰ میں عثمان بزدار سے ملاقات کی اور وضاحت پیش کی۔ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب شہباز گل کے مطابق عثمان بزدار نے ہندو کمیونٹی کے حوالے سے بیان پر فیاض چوہان پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے استعفا طلب کیا۔ ملاقات کے بعد فیاض الحسن چوہان نے عہدے سے استعفا دے دیا جسے فوری طور پر منظور کرلیا گیا اور اب صمصام بخاری کو وزیر اطلاعات پنجاب بنائے جانے کا امکان ہے۔ ترجمان شہباز گل کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے ہندو کمیونٹی سے ہمدری اور معذرت بھی کی ہے۔ادھر وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا کے لائن آف کنٹرول پر فوٹو سیشن کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کون سے وزیر کا طریقہ اور کام ہے کہ جہاز پر کھڑے ہو کر تصویر بنوائیں شکر ہے کہ فیصل واوڈا پستول لے کر ایل او سی کراس نہیں کر گئے ۔اس سے قبل بھی فیصل واوڈا چینی سفارتخانے کے باہر دھماکے کے بعد پستول لے کر پہنچ گئے تھے اور اب کنٹرول لائن پر جب بھارتی طیارہ گرا تو فیصل واوڈا وہاں بھی پہنچ گئے اور طیارے پر کھڑے ہو کر تصاویر بنوائیں جس پر وزیر اعظم نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کے ہندو کمیونٹی کے خلاف بیان کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا نامناسب رویہ ہر گز برداشت نہیں کیا جائے گا اور کسی بھی اقلیت کے خلاف مذہبی بنیاد پر ریمارکس برداشت نہیں کیے جائیں گے ۔ اس حوالے سے فیاض الحسن چوہان نے بھی نجی ٹی وی پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنی تقریر میں پاکستان میں موجود ہندو اقلیت کو نہیں بلکہ بھارتی فوج ، وزیر اعظم نریندر مودی اور اس کے میڈیا کو مخاطب کیا تھا انہوں نے کہا کہ میں نے پاکستان کی ہندو کمیونٹی اور نہ ہی ہندوستان کی ہندو کمیونٹی پر بات کی۔ پاکستان اس وقت حالت جنگ کی صورت حال میں ہے اور میں نے اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام کی ترجمانی کر کے بھارتی فوج اور ان کے وزیر اعظم سمیت میڈیا کو پیغام دیا تھا لیکن اگر میرے بیان سے ہندو برادری کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں معذرت چاہتا ہوں ۔