بے نظیر بھٹو ٹاؤن میں کروڑوں لاگت کے ٹھیکوں میں بدعنوانیاں اپنے عروج پر پہنچ گئی،

46

کراچی(اسٹاف رپورٹر) شہید محترمہ بے نظیر بھٹو ٹاؤن (ایس ایم بی بی ٹی )میں 37کروڑ سے زائد لاگت کے ٹھیکوں سے چہیتے ٹھیکیداروں کو نوازنے کا منصوبہ ناکام ہوگیا ، بڈ ایلویشن جاری کرنے کے باوجو دسیپرا نے این آئی ٹی کو منسوخ کردیا ،افسران کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔تفصیلات کے مطابق شہید بے نظیر بھٹو ٹاؤن(ایس ایم بی بی ٹی) میں کروڑوں لاگت کے ٹھیکوں میں بدعنوانیاں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں،

چند ماہ قبل 37کروڑ سے زائد لاگت کی9ترقیاتی اسکیموں کیلئے ٹینڈرز طلب کئے گئے تھے،ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ ٹینڈرز میں من پسند کنٹریکٹرز کو بھاری نذرانوں کے عیوض نوازنے کیلئے قوانین کیخلاف ٹھیکے دینے کا منصوبہ بنایا گیا ،

ذرائع کا کہنا ہے کہ پروجیکٹ ڈائریکٹر عزیز میمن اور ایس ایم بی بی ٹی کے افسران کی جانب سے اس سلسلے میں چہیتے کنٹریکٹرز کے ساتھ معاملات طے کرکے انہیں کامیاب قرار دیدیا گیا اور اس سلسلے میں بڈ ایلویشن رپورٹ بھی جاری کی گئی ،

جس پر شمس الدین مندوخیل نامی فرم کے مالک گل رحمان مندوخیل نے سیپرا حکام سمیت نیب اور عدالت عالیہ سے رجوع کیا اور ایس ایم بی بی ٹی کے حکام کی مبینہ بدعنوانیوں کے حوالے سے حکام کو ناقابل تردید شواہد پیش کئے جس کا فوری نوٹس لیتے ہوئے سیپرا نے مذکورہ این آئی ٹی جس میں9اسکیمیں شامل تھیں اس میں سے8کاموں کے ٹینڈرز کو منسوخ کرنے کا حکم جاری کیا جبکہ حیران کن طور پر این آئی ٹی میں شامل 9ویں نمبر پر موجود کام کو منسوخ نہیں کیا،

اس حوالے سے کنٹریکٹر زارئع کا کہنا ہے کہ ایس ایم بی بی ٹی میں ترقیاتی کاموں کو کمیشن خوری کی نذر کیا جارہا ہے اور چند مخصوص ٹھیکیداروں کو نوازنے کیلئے حکام نے قوانین کو مذاق بناکر رکھ دیا ہے،

انہوں نے کہا کہ مذکورہ منسوخ کی جانے والی این آئی ٹی جس کا نمبر EE/SMBBT/37ہے یہ 3ستمبر2018ء کو طلب کی گئی تھی جس میں کنٹریکٹرز نے بڑی تعداد میں شرکت کی تاہم افسران نے کی گئی این آئی ٹی سے توجہ ہٹانے کیلئے اس پر کئی روز بعد کارروائی شروع کی تاکہ من پسند کنٹریکٹرز کو کام دیکر بھاری کمیشن وصول کیا جاسکے۔