عراق میں کم سن بچی کی عزت تار تار

98

موصل : عراق میں تین سالہ بچی سے ہونے والی  زیاتی  نے پورے ملک کو ہلا کررکھ دیا، شہریوں  کا ملزم کوپھانسی دنیے کا مطالبہ۔

عرب میڈیا کے مطابق  نامعلوم  فرد  نے تین سالہ نور کو اس کے گھر کے باہر سے مٹھائی کھلانے کا جھانسہ دے کر اسے ‘باب جدید’ محل میں ویران مقام پر لے گیا ،جہاں  مذکورہ شخص نے بچی کے ہاتھ پاؤ  باندھ کر اسے  زیادتی کا نشنہ بنادیا۔

مقامی شہریوں‌نے  واقعے پر گہرے دکھ  کا اظہارکرتے ہوئے مجرم کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے  جب کہ ایک نوجوان نے بتایا کہ مجرم کو پکڑ لیا گیا ہے جو  شادی شدہ اور تین بچوں کا باپ ہے۔لوگوں کا مزید کہنا ہے کہ ملزم مقامی شہری نہیں بلکہ داعش کے قبضے سے آزاد کرائے گئے موصل سے آکر آباد ہوا ہے۔

زیادتی کا شکارہونے والی بچی کے دادا جمیل محمد خلیف نے حکومت سے  مجرم کو سر عام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب ایک دکان میں لگے سی سی ٹی وی کیمرے کے ذریعے ملزم کی شناخت کرنے کے بعد اسے گرفتار کرلیا گیا ہے۔

نینویٰ کے پولیس انسپکٹر نے بتایا کہ مُجرم کو حراست میں لے لیا گیا ہے جسکی عمر 39 سال ہے۔ ابتدائی تفتیش کے دوران اس نے جرم کا اعتراف کیا ہے۔ مجرم کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔