جماعت اسلامی کا قیام (اگست ۱۹۴۱ء) (باب سوم)

54

 

محمود عالم صدیقی

دعوت وتبلیغ کی تشہیر کے کام: اس سلسلے میں معلوماتی اور دین کی طرف راغب کرنے والے کتابچوں‘ رسائل و جرائد کی تیاری اور نشرواشاعت کے کام کو جماعت کے اہل قلم لوگوں کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ وہ اپنی تحریری اور تقریری صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔
دستور میں ترمیم: بیرونی اعتراضات کے بعد ارکان نے جماعت کے دستور میں جن اصلاحات کی ضرورت محسوس کی ان پر غور کیا گیا اور اصلاح کے بعد نیا ترمیم شدہ دستور شائع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
مرکز کی تبدیلی۔ لاہور سے دارالاسلام: یہ طے کیا گیا کہ ایک مرکزی ادارہ قائم کرنے کے لیے سردست عارضی طور پر ایک مرکز بنالیا جائے تاکہ وہاں اپنی قوت کو جمع کرکے ضروری تعمیری کاموں کی ابتدا کی جاسکے۔ اس سلسلے میں ضلع سیالکوٹ میں ایک مناسب مقام تجویز کرلیا تھا لیکن بعد میں کچھ ناگزیر وجوہات کی وجہ سے اس خیال کو ترک کردیا گیا اور پھر شوریٰ کے مشورہ سے دوبارہ پٹھان کوٹ کے قصبے جمال پور کا چناؤ کرلیا گیا جہاں پہلے بھی چودھری نیاز علی خان نے اپنی ساٹھ ایکڑ زمین تحریک اسلامی کے لیے وقف کردی تھی اور تحریک اسلامی کا مرکز دارالاسلام معرض وجود میں آیا تھا۔ ۱۵؍ جون ۱۹۴۲ء جماعت اسلامی وہاں دوبارہ منتقل ہوگئی۔
جماعت اسلامی نے مرکز میں جمال پور کا نقشہ کار یہ ترتیب دیا گیا کہ تعلیم تربیت کی ایک درس گاہ کے قیام‘ علمی تحقیق کے شعبے کا انصرام‘ دین کی دعوت عام کا شعبہ اور مالی مسائل کے حل کے لیے معاشی تدابیر اختیار کرنے کے انتظامات کیے جائیں۔ ان عملی اقدامات کے خاکے تیار کیے گئے۔ زمانہ تعلیم کو تین حصوں اساسی‘ متوسط اور عالی میں منقسم کیا گیا۔ اساسی تعلیم میں عربی اور قرآن کی بنیادی تعلیم اور اسلامی اخلاق کی نشونما اور دنیاوی بنیادی معلومات کی فراہمی کو اولیت دی گئی تاکہ ہر شعبہ حیات میں ایک شخص ایک عمدہ ابتدائی کارکن بن سکے۔ دوسرے مرحلے میں اساسی تعلیمی نتائج پر مبنی رجحان کے مطابق مضامین کا انتخاب کیا جائے گا تیسرے مرحلے میں اختصاصی تعلیم دی جائے گی تاکہ ایسے علماء ماہرین اور دانشور پیدا ہوں‘ جو زندگی کے مختلف شعبوں میں قیادت و رہنمائی کرسکیں اور اسلام کے نظام تمدن کی تعمیر کرسکیں۔
علمی تحقیق جو اب تک صرف تنہا ایک شخص (مولانا مودودیؒ ) کرتا رہا تھا لیکن اس ہمہ گیر و عالمگیر اسلامی تحریک کے ذریعے انقلاب برپا کرنے کے لیے نہ صرف اردو بلکہ دیگر بین الاقوامی زبانوں میں ایسے لٹریچر تیار کرنے کے لیے جو دنیا میں لوگوں کے دل و دماغ میں نظام اسلامی کی صداقت اور اس کے قیام کی خواہش جاگزیں کردے‘ ایسے کئی صاحبان فکر و نظر اور محقق افراد کی ضرورت تھی جو جماعتی نظم و ضبط کے اندر رہتے ہوئے یہ خدمات انجام دے سکیں۔ اس سلسلے میں ایک عمدہ کتب خانے کا قیام بھی شامل تھا اور ان خادمان دین کے گزر بسر کے لیے ضروری سامان زیست کا حصول کا بھی بندوبست کرنا لازمی تھا۔
ان تعمیری کوششوں کے نتیجے ہی میں اسلامی انقلاب پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے لیے لازمی ہے کہ عوام الناس میں اسلام کی دعوت پھیلائی جائے اور اس کے حق میں ایک مضبوط رائے عامہ تیار ہوسکے۔ اہل خیر کی مسلسل اعانت کے باوجود ضرورت اس بات کی تھی کہ اس وسیع پیمانے پر دعوتی تحریک کے کام کے لیے کارکنان کی مالی قربانیوں کے لیے آمادہ ہوگی۔ جماعتی آمدنی میں اضافے کی تدابیر جماعت کے بک ڈپو کی آمدنی بھی اتنی خاطر خواہ نہیں تھی کہ بڑھتے ہوئے مصارف کی مکلف ہوسکے۔ چنانچہ یہ تجویز کیا گیا کہ تجارتی اور صنعتی کام کرنے کے اہل افراد کی مدد سے ایسے منصوبے تشکیل دیے جائیں جس سے مہیا وسائل کا بہتر استعمال ہوسکے۔ وافر مقدارمیں موجود زمین‘ جو شاداب و زرخیز ہے‘ بجلی موجود ہے۔ منڈیاں قریب ہیں۔ ذرائع نقل و حمل دستیاب ہیں‘ ان سب سے استفادہ کیا جاسکے۔ اس کے لیے یہ تجویز کیا گیا کہ مقامی جماعتوں کے امیر اپنی اپنی جماعتوں کا جائزہ لے کر اپنے رفقاء کی اہلیت اور وسائل کا جائزہ لے کر تجاویز دیں تاکہ باہم مشاورت سے اجتماعی تجارتی اور صنعتی منصوبے شروع کیے جاسکیں۔
(جاری ہے)