وہ اسلام کا دشمن تھا

73

**

پرواز رحمانی

ہالینڈ کا وہ ایم پی دینِ اسلام سے سخت نفرت کرتا تھا، اسلام کا دشمن تھا۔ اسلام کی تعلیمات اور اس کے کلچر میں ہر وقت کیڑے نکالنے کی دھن میں رہتا تھا۔ جورم وان کلاویرین کو اسلام کی یہ دشمنی ہی گیرٹ وِلڈرس کی پارٹی فار فریڈم میں لے گئی تھی اور اس کا وہ سرگرم رکن بن گیا تھا۔ 2010ء سے 2017ء تک اس کا ایم پی بھی رہا۔ گیرٹ وِلڈرس کی پارٹی اسلام اور تارکین وطن کی شدید دشمن تھی (ہے) اور کلاویرین اس کی ہر بات کی حمایت کرتا تھا۔ وِلڈرس نے چند سال قبل ’’فتنہ‘‘ کے نام سے اسلام کے خلاف ایک مختصر فلم بھی بنائی تھی، لیکن اس سے اُس کا وہ مقصد جو وہ اسلام کو بدنام کرکے حاصل کرنا چاہتا تھا، حاصل نہیں ہوا۔ اِدھر کلاویرین بھی اسلام کے خلاف بولنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتا تھا۔ یہاں تک کہ اس نے اسلام کے خلاف خود ایک کتاب لکھنے کی ٹھان لی۔ لیکن جب آدھا مسودہ لکھ چکا تو اچانک اس کا ذہن بدل گیا، وہ آدھا مسودہ تو اس نے کوڑے دان میں ڈال دیا اور اب خود اپنے ہی اعتراضات اور سوالات کے جواب لکھنے کا تہیہ کرلیا۔ جورَم وان کلاویرین کو پہلا احساس یہ ہوا کہ اسلام کی جن باتوں پر اس نے سوالات اُٹھائے ہیں، اُن میں بیشتر پر تو وہ خود عمل کرتا ہے۔
کلاویرین کے تبدیلی قلب کی یہ خبر ایجنسی فرانس پریس (اے ایف پی) نے 5 فروری کو جاری کی ہے۔ اس نے کہا کہ ’’مجھے سخت افسوس ہے کہ میں بلاسوچے سمجھے اسلام کی مخالفت کرتا رہا اور لوگوں کو اسلام کے خلاف مشتعل کرتا رہا۔۔۔ میں نے وہ مسودہ پھینک دیا ہے جو اسلام کے خلاف لکھنا شروع کیا تھا۔ اب میں اسلام کے حق میں ایک کتاب لکھوں گا جس میں ان اعتراضات کا جائزہ ہوگا جو اسلام کے خلاف کیے جاتے ہیں۔۔۔ دراصل اسلام کے خلاف میں جو کچھ بولتا رہا وہ گیرٹ ولڈرس کی پارٹی کی پالیسی ہے جو دُنیا میں ہونے والے ہر غلط کام کو اسلام سے منسوب کردیتی ہے، یہی میرا بھی حال تھا‘‘۔ کلاویرین نے یہ بھی کہا کہ ’’قبول اسلام کا فیصلہ میں نے جذباتی طور پر نہیں کیا بلکہ بہت سوچ سمجھ کر اور خالصتاً مذہبی بنیادوں پر کیا ہے۔۔۔ میں ایک مصلح پروٹیسٹنٹ فیملی سے ہوں‘‘۔ کلاویرین کے اِس غیر معمولی اقدام پر گیرٹ ولڈرس کا ردِعمل کیا ہے، یہ ہنوز معلوم نہیں ہوسکا۔ لیکن خیال ہے کہ دونوں میں اس پر بات بلکہ بحث ضرور ہوئی ہوگی۔ کلاویرین کو کچھ اور لوگوں کے سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہوگا۔
اور یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا اور انوکھا واقعہ نہیں کہ اسلام کا ایک جانی دشمن اسلام کے سایہ رحمت میں اس طرح چلا آیا۔ یہ روایت سیدنا فاروق اعظم عمر بن خطابؓ سے چلی آرہی ہے۔ تاریخ اِن واقعات سے بھری پڑی ہے۔ فی زمانہ بھی متعدد افراد ملتے ہیں جو اسلام کو مٹانے کی قسم کھا کر میدان میں اُترے تھے، لیکن اسلام کے مبلغ بن گئے۔ برطانیہ سے ایک عیسائی مشنری کو قرآن کی کچھ خاص آیات دے کر اِس مشن پر مصر بھیجا گیا تھا کہ وہ مصری مسلمانوں کے سامنے ان آیات کی غلط تعبیر کرکے انہیں بائبل کی طرف بلائے گا، مگر کچھ سال بعد جب وہ برطانیہ لوٹا تو اس کے ہاتھ میں قرآن تھا اور وہ اپنے برطانوی ساتھیوں کو اس کی طرف بلا رہا تھا۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ جو شخص بھی کسی چیز کو دیانتداری سے سمجھنے اور سچ تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے اُس کے دل میں ایمان کی رمق پہلے ہی سے کہیں نہ کہیں ہوتی ہے۔ یہ بھی ہوتا ہے کہ بعض لوگ اسلام کی مخالفت کے لیے بڑے جوش کے ساتھ سامنے آتے ہیں لیکن اسلام اور قرآن کی کشش انہیں اپنی طرف کھینچ لیتی ہے جیسا کہ حال ہی میں انڈیا میں سوامی لکشمی شنکر آچاریہ جی کے سلسلے میں دیکھا گیا اور اب ڈچ باشندے جورم وان کلاویرین کا واقعہ بتارہا ہے۔ پھر یہ بھی تحقیق ہے کہ ایسے لوگوں کے دل اس مخالفت پر مطمئن نہیں ہوتے۔
(دعوت دہلی)