بھارت کی تباہی کا آغاز

84

 

جاوید الرحمن ترابی

بھارت کی ٹکور ہوگئی ہے‘ اب اسے آرام رہے گا‘ دشمن ایک عرصے سے پنگا لے رہا تھا‘ بات کرکٹ کے میدان کی ہو یا سفارت کاری کی‘ بھارت کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ پاکستان کو پوری دنیا میں مشکلات کا سامان رہے لیکن پاکستان نے بھی کمال تحمل دکھایا اور ہر محاذ پر کامیابیاں سمیٹی ہیں‘ پاکستان کے خلاف بھارت اب تک تین جنگیں لڑچکا ہے‘ مگر پاکستان کا وجود زندہ اور سلامت ہے‘ الحمدللہ‘ پاکستان اللہ کے فضل سے قائم رہنے کے لیے بنا ہے۔
اگر خون رس رہا ہے تو یہ بھارت ہے جس کے اندر درجنوں پاکستان جنم لے رہے ہیں۔ اقوام عالم میں کسی بھی قوم نے کبھی جنگ کی خواہش نہیں کی‘ پاکستان نے ہمیشہ یہی کہا کہ وہ پرامن ملک ہے اور اس خطہ سمیت پوری دنیا میں امن چاہتا ہے‘ لیکن مکروہ دشمن بھارت کی ہمیشہ یہی کوشش رہی کہ وہ پاکستان کو الجھائے رکھے اسی لیے وہ اپنے ہاں کلبھوشن جیسے لوگوں کی تربیت کرتا رہتا ہے لیکن اسے ہر بار منہ کی کھانی پڑی ہے‘ ہمارے شیر دل جوان‘ عزیز بھٹی‘ کرنل شیر خان‘ لالک جان اور راشد منہاس جیسے شیر اور چیتے اس کا راستہ روکتے رہے ہیں ماضی کی جنگ اور آج کی جنگ میں بہت فرق آگیا ہے‘ اب معاشی جنگ بھی اور سماجی جنگ بھی‘ انفارمیش ٹیکنالوجی کی جنگ اس میں ایک نیا اضافہ ہے لیکن جہازوں اور ٹینکوں کی جنگ بھی ہوئی ہے جس کے لیے آج بھی چھمب جوڑیاں کا محاذ پاک فوج کے جری جوانوں کی بہادری کی گواہی اور شہادت دے رہا ہے سرگودھا کے شاہین شہریوں کو یاد ہے کہ انہوں نے بھارت کے ساتھ ہونے والی فضائی جنگ اپنی چھتوں پر کھڑے ہوکر دیکھی ہے‘ لیکن اس کے باوجود کبھی کبھی بھارت کو پھکی کی ضرورت پڑتی رہتی ہے لہٰذا یہ پھکی ہمارے جری ہوا باز محمد حسن نے اسے کھلائی ہے اور بھارت کا جہاز مارگرایا‘ بھارتی پائلٹ اپنی ’’پونچھوں‘‘ سمیت گرفتار ہوا‘ اسے باوقار انداز میں پاک فوج کی نگرانی میں مہمان رکھا گیا ہے یہی ہماری پہچان ہے، ہم میں اور بھارت میں یہی فرق ہے۔ ابھی کل کی بات ہے بھارت کی جیل میں ایک پاکستانی قیدی کو اینٹیں مار مار کر ہلاک کردیا گیا‘ جب کہ ہم بھارت کے پائلٹ کو باوقار انداز میں رکھے ہوئے تھے۔ جنگیں آج کل نئی ٹیکنالوجی سے لڑی جارہی ہیں ان میں فضائیہ کا کردار بڑھ گیاہے‘ افغانستان کی مثال ہمارے سامنے ہے‘ امریکا نے جہاں بھی جنگ کی‘ وہ عراق ہویا افغانستان یا مشرق وسطیٰ‘ ان سب جگہوں پر امریکی ائرفورس کے ذریعے ہی فیصلہ کن مراحل طے کیے گئے۔ ائر پاور سے حملہ کیا جائے تو زمینی یا بحری فوج حرکت نہیں کر سکتی جس کے باعث ایک طرح سے جنگ جیت لی جاتی ہے۔ دنیا میں آئندہ ہونے والی جنگوں میں ائرپاور ہی کا فیصلہ کن کردار ہو گا‘ جو ممالک بھی اپنی ائرپاور کو مضبوط کریں گے انہی کا دشمن پر پلہ بھاری رہے گا۔
1965ء کی جنگ میں بھارت کی ائرفورس کی تعداد ہم سے زیادہ تھی تاہم ہماری ائرفورس کا معیار بلند تھا جس کے باعث بھارتی فضائیہ جنگ کے پہلے ہی مرحلے میں فرار ہو گئی ہمارے ہوا بازوں نے دشمن کے ٹھکانوں پر ٹھیک ٹھیک نشانے لگائے تھے ہمارے پاس ایف 16 اور ہمارا خود ساختہ جنگی جہاز جے ایف 17تھنڈر ہے جو صلاحیت میں ایف 16 کا ہم پلہ ہے۔ ہمارے تمام پرانے جنگی جہازوں کی جگہ جے ایف 17تھنڈر لے رہے ہیں۔ دوسری جانب بھارت کی ائرفورس جہازوں کو اڑنے والے کفن قرار دیتی ہے۔ ان کے اتنے فضائی حادثات ہو چکے ہیں کہ مرنے والے پائلٹوں کی بیوائیں سڑکوں پر نکل کر احتجاج کر رہی ہیں۔ 90 کی دہائی میں جے ایف 17 پروگرام پر توجہ دی گئی اور بڑے کم عرصہ میں اسے مکمل کیا گیا پاک فضائیہ اور بھارتی فضائیہ کی جھڑپ کی صورت میں نتیجہ پاکستان کے حق میں ہو گا پاکستان نے ہر خطرے کا بروقت توڑ کیا ہے۔ ہمارے ٹیکٹیکل میزائل نے بھارت کو اتنا خوفزدہ کر دیا ہے کہ وہ بھاگ کر امریکا پہنچ گیا ان تمام حقائق کی بنیاد پر مودی سرکار کو سمجھنا ہوگا کہ پاکستان سے مت الجھو ورنہ منہ کی کھانا پڑے گی۔