سترہ سالہ جنگ میں کون تھکا؟

80

 

حافظ عاکف سعید

امریکی صدر ڈنلڈ ٹرمپ کا حالیہ بیان سامنے آیا ہے کہ افغانستان میں سترہ سالہ جنگ میں امریکا بھی تھک گیا ہے اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغان طالبان بھی تھک گئے ہیں۔ پہلی بات تو درست ہے البتہ دوسری بات اس کی غلط فہمی پر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا کا جانی و مالی نقصان ناقابل برداشت ہوچکا ہے۔ افغان طالبان تھکے نہیں ہیں۔ ان کی جنگ خالصتاً اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے ہے۔ مسلمانوں کے لیے حکم یہ ہے کہ تم باطل قوتوں سے جنگ کرتے رہو جب تک فتنہ و فساد ختم نہیں ہوجاتا اور کل روئے ارضی پر اللہ کا دین قائم نہیں ہوجاتا۔ یہ مضمون قرآن میں دو مقامات پر آیا ہے۔ افغان طالبان تو اس حکم پر چل رہے ہیں۔ وہ نہیں تھکے بلکہ قیامت تک کے لیے تیار ہیں۔ نہتے اور ٹیکنالوجی سے محروم ہونے اور چند ہزار کی قلیل تعداد کے باوجود ان کی قوت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ان کی فتوحات کا معاملہ مسلسل آگے سے آگے جارہا ہے۔ ساری دنیا کے لیے یہ بہت بڑا سوال ہے کہ ہماری ساری ٹیکنالوجی اور جدید ترین ہتھیار اور ساری دنیا کی قوت ساتھ افغانستان کے ایک چھوٹے سے گروپ کے سامنے امریکا جو اس وقت دنیا کی سپر طاقت ہے سے ہاتھ چھڑانا چاہتا ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ عبد الغنی کی کوئی حیثیت نہیں، ہم اس سے کیوں مذاکرات کریں۔ اصل معاملہ تو امریکا کا ہے۔ اگر اسے مذاکرات کرنا ہے تو براہ راست ہم سے کرے۔ آج تک یہ کہا جا رہا تھا کہ پاکستان کے ذریعے طالبان پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ انہیں مذاکرات پر آمادہ کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا اب خود مذاکرات کے لیے آمادہ ہوچکا ہے۔ وہ کون سی قوت ہے جس نے اس پر آمادہ کیا ہے؟ یہ بہت بڑا سوال ہے۔ جواب بہت واضح ہے مگر ہم اس کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔
امریکا کا بے پناہ جانی و مالی نقصان ہوچکا ہے۔ ساڑھے سات لاکھ فوجی نفسیاتی امراض کا شکار ہیں۔ افواج میں خودکشی کا گراف بھی بہت بڑھ چکا ہے۔ امریکا کے تیار کردہ افغان فوج کے 45000 جوان ہلاک ہوچکے ہیں۔ امریکا نے اس فوج کو تیار کرکے اسے سارے ہتھیار دے دیے۔ جہاں بھی طالبان کو کامیابی ہوتی ہے وہاں انہیں بے شمار اسلحہ ہاتھ آتا ہے۔ لہٰذا ان کی قوت بڑھ رہی ہے۔ لیکن اصل کامیابی اللہ کی مدد کی بناء پر ہے۔ بھارت نے وہاں فوجی شمولیت سے انکار کردیا ہے۔
حاصل کلام یہ کہ افغان طالبان کا مورال بہت بلند ہے۔ اشرف غنی کا پاکستان مخالف ایک مضحکہ خیز ٹویٹ آیا تھا کہ پاکستان کے سیکورٹی ادارے بلوچستان اور خیبر پختون خوا کے عوام کے حقوق تلف کررہے ہیں۔ ایسا ملک جو ہر وقت دھماکوں کی زد میں رہتا ہے اور جس کی حکومت کی رٹ انتہائی محدود ہوکر رہ گئی ہے، یہ ٹوئٹ اس کٹھ پتلی حکومت کی پریشانی ظاہر کرتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ کی مدد اگر مسلمانوں کے ساتھ ہو تو اللہ نے فرمایا ہے کہ اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں ہوسکتا۔ امریکا ٹیکنالوجی کے جس مقام پر پہنچ چکا ہے اور اس پر مستزاد ساری دنیا اس کے ساتھ تھی، موجودہ صورتحال کا کوئی تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اللہ نے یہ بھی فرما دیا ہے کہ اگر تم اللہ سے بیوفائی کرو یعنی مسلمان ہوتے ہوئے اللہ کے دین کو قائم اور نافذ نہ کرو تو کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرسکتا ہے۔ ہم نے بھی آدھا ملک گنوادیا ہے او رہر وقت مختلف بحرانوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ معاشی طور پر ہم آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے غلام ہیں۔ ہماری پالیسیاں وہ بناتی ہیں۔ پوری قوم گروی رکھی جاچکی ہے جو اللہ کے عذاب کی ایک صورت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اللہ اور اس کے دین سے بیوفائی کررکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی ایمان نصیب کرے اور دین کے تقاضوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔