بلوچستان اور پختونخواہ میں بارش سے تباہی ،زمینی رابطے بحال نہ ہوسکے،فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری

51
بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فوجی جوان امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، چھوٹی تصاویر میں لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے
بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فوجی جوان امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، چھوٹی تصاویر میں لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے

کوئٹہ/پشاور/راولپنڈی(نمائندہ جسارت+خبر ایجنسیاں) بلوچستان میں بارش اور برفباری سے تباہی مچ گئی ہے، کئی علاقوں کے زمینی راستے بحال نہ ہو سکے ،ہلاکتوں کی تعداد 8ہوگئی ،زیارت، قلعہ سیف اللہ اور قلعہ عبداللہ کے کئی دیہات کا تین دن سے ملک بھر سے رابطہ منقطع ہے،وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کا کہنا ہے کہ 8سے 10 ہزار مکانات کو نقصان پہنچا ہے،فوج کا ریسکیو اور اور ریلیف آپریشن تیزی سے جاری ہے، وزیراعظم اور آرمی چیف نے بھی ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں 3 دن تک جاری رہنے والی طوفانی بارش اور شدید برفباری کا سلسلہ تھم گیا تاہم اس نے نظا م زندگی درہم برہم کردیا، کوئٹہ،قلعہ عبداللہ، چاغی،پشین ،تربت ، دکی ، مستونگ، نوشکی سمیت 10سے زاید اضلاع میں سیلابی ریلوں نے آبادیوں کا رخ کیا جس سے سیکڑوں مکانات منہدم ہوگئے جبکہ ہزاروں مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ زرعی زمینوں اور دیگر املاک کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کی اطلاع ہے۔ سب سے زیادہ نقصان قلعہ عبداللہ کے علاقے میں ہوا جہاں ڈپٹی کمشنر شفقت انور کا کہنا ہے کہ ایک ہزار سے زاید مکانات جزوی اور مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں۔قلعہ عبداللہ اور چمن میں مختلف مقامات پر 3 بچوں سمیت 4افراد چھت گرنے اور ریلوں میں بہنے سے جاں بحق ہوئے۔ پشین میں حرمزئی اور چر بادیزئی میں 2 افراد ریلے میں ڈوب کر جاں بحق ہوئے جن میں 9 سالہ بچہ بھی شامل ہیں۔ چاغی میں ایک شخص کی ریلے میں بہنے سے موت ہوئی۔ مجموعی طور پر مختلف حادثات میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 8تک پہنچ گئی۔شدید برفباری کے باعث زیارت، مسلم باغ، کان مہترزئی ،توبہ کاکڑی اور توبہ اچکزئی کے سیکڑوں دیہات کا 3دن سے زمینی رابطہ ملک بھر سے منقطع ہے۔پی ڈی ایم اے کے ترجمان فیصل نسیم کا کہنا ہے کہ کوئٹہ قلعہ سیف اللہ ژوب شاہراہ کان مہترزئی کے مقام پر بند تھی جسے کھول دیا گیا۔لکپاس کے مقام پر کوئٹہ کراچی شاہراہ کو بھی برف ہٹاکر بحال کردیاگیا۔ کوئٹہ سبی شاہراہ بھی مختلف مقامات پر برساتی نالوں میں طغیانی کے سبب بند تھی جسے رات گئے بحال کیاگیا۔ زیارت سے مکمل طور پر رابطہ کٹا ہوا ہے جس کی بحالی کے لیے کام کیا جارہا ہے۔ قلعہ سیف اللہ، کان مہترزئی، کن چوغی، توبہ اچکزئی ، توبہ کاکڑی اور زیارت سے تعلق رکھنے والے افراد نے بتایا کہ سیکڑوں دیہات کے 3 دن سے ہر قسم کے زمینی رابطے منقطع ہیں وہاں لوگوں کے پاس سردی سے بچنے کے لیے لکڑی کا اسٹاک اور کھانے پینے کا سامان بھی ختم ہوگیا ہے جس سے نقصان کا اندیشہ ہے۔ حکومت فوری طور پر سڑکیں کھولنے کا کام شروع کریں اور متاثرین کو امدادی سامان پہنچائے۔ زیارت میں مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ شہر میں برفباری کا 15سے 20 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے ۔ کئی مقامات پر 5فٹ بھی برف پڑی ہے۔ پی ڈی اے اے ترجمان کا کہنا ہے کہ بارش اور برفباری کے نتیجے میں مالی نقصانات کافی زیادہ ہیں بڑے پیمانے پر کچے مکانات گرے ہیں ۔متاثرین کی امداد کے لیے خوراک کا سامان ، خیمے اور کمبل پہنچائے جارہے ہیں۔سیلابی ریلوں کے باعث گلستان،چاغی ،اور نوشکی کے قریب ریلوے ٹریک بہنے سے پاک ایران اور کوئٹہ چمن ٹرین سروس بھی متاثر ہوئی ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے صوبائی وزیرداخلہ و پی ڈی ایم اے ضیاء لانگو کے ساتھ زیارت، قلعہ عبداللہ ،پشین اور قلعہ سیف اللہ سمیت دیگر متاثرہ علاقوں کا فضائی دورہ کیا۔ دورے کے بعد وزیراعلیٰ جام کمال نے میڈیا کو بتایا ہے کہ کہ بارش اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں ۔ 8سے 10ہزار کے درمیان مکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔حکومت برفباری اور بارش سے متاثرہ افراد کو تنہا نہیں چھوڑے گی ۔ حکومت ایمرجنسی کی بنیادوں پر امدادی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہے۔ بارشوں سے سب سے زیادہ سیلابی ریلے نے مکران ڈویژن تربت،لسبیلہ میں بہت نقصانات ہوئے ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف قمر جاوید باجوہ سے ٹیلیفون پر بات ہوئی ہے دونوں نے مرکزی حکومت اور پاک فوج کی جانب سے بلوچستان میں بارش اور برفباری سے متاثرین کی مدد کے لیے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے ۔پاک فوج اور ایف سی نے بھی بلوچستان حکومت کی درخواست پر سیلاب اور برف سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بلوچستان کے بارش سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور انتظامیہ کی مدد کے لیے جوانوں کو بھیج دیا گیا ہے۔آرمی ہیلی کاپٹرز سیلاب میں پھنسے افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کررہے ہیں۔مکران، لسبیلہ اور بلوچستان کے برفباری والے علاقوں میں ریلیف کیمپ قائم کردیے گئے ہیں جبکہ لسبیلہ کے علاقے دریجی اور قلعہ عبداللہ سے ڈیڑھ ہزار خاندانوں کو ریسکیو کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق بارش سے متاثرہ علاقوں میں ساڑھے 3ہزار خاندانوں کو راشن فراہم کیا گیا جبکہ آرمی کے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس متاثرہ علاقوں میں طبی امداد پہنچا رہے ہیں۔کھوجک پاس، لک پاس اور شیلاباغ کے علاقوں سے پھنسے ہوئی گاڑیوں کو نکال لیا گیا۔دوسری جانب فرنٹیر کور نے پشین اور قلعہ عبداللہ کے علاقوں میں متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرکے ان میں گرم کپڑے اور راشن تقسیم کیے۔ ادھر خیر پور ناتھن شاہ، ٹھٹھہ اور ٹنڈو الہ یار میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش ہوئی، ژالہ باری سے گندم کی فصل کو بھی نقصان پہنچا۔ادھروزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے ہزارہ ڈویژن کے اضلاع ایبٹ آباد ، مانسہرہ ،بٹگرام ، کوہستا ن اور ملاکنڈ ڈویژن کے اضلاع سوات، دیر ،شانگلا ، چترال میں برفباری کی وجہ سے بند شاہراہوں کو فوری طور پر کھولنے کے لیے ہیوی مشینری استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ اس حوالے سے پہلے ہی ضلعی انتظامیہ، ریسکیو1122 ، پی ڈی ایم اے اور دیگرریلیف فراہم کرنے والے اداروں کوہدایات دے چکے ہیں تاکہ علاقہ مکین اور سیاحوں کو پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ترجمان گلیات ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے مطابق جی ڈی اے، پی کے ایچ اے، سی اینڈ ڈبلیو کی ٹیمیں گلیات میں موجود ہیں،ٹریفک کی روانی کو بحال کرنے کے لیے اقدامات کررہے ہیں تاہم بحال کرنے میں وقت لگے گا،3 فٹ سے زائد برف پڑ چکی ، مزید امکان بھی موجود ہے۔انہوں نے کہاکہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سڑکوں کی صفائی میں مشکلات ہیں، مقامی آبادی اور سیاحوں کی ہر صورت مدد کی جائے گی ،حالیہ برف باری 31 سالوں کی نسبت کئی گنا زیادہ ہے۔ بارش سے صوبہ بھر میں 90 گیارہ کے وی فیڈرز سے بجلی کی فراہمی متاثرہوئی تھی ، پسکو عملے نے بارش کے دوران ہی فوری طورپربحالی کا کام کرکے 35 گیارہ کے وی فیڈرز سے بجلی کی فراہمی بحال کردی تھی جبکہ باقی ماندہ فیڈرز سے بھی بجلی کی فراہمی اب مکمل طورپربحال کردی گئی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق خیبرپختونخوا، پنجاب، اسلام آباد اور کشمیر کے اکثر مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، محکمہ موسمیات نے پہاڑوں پر برفباری کی پیش گوئی بھی کی ہے۔