جھوٹی گواہیوں نے نظام عدل کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے،چیف جسٹس

28

چیف جسٹس پاکستان جسٹس آ صف سعید کھو سہ نے کہا کہ جھوٹی گواہیوں نے نظام عدل کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے،آج سے جھوٹی گواہی کا خاتمہ کررہے ہیں۔

سپریم کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران پولیس اے ایس آئی خضر حیات عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے خضرحیات کو ایک مقدمے میں جھوٹی گواہی دینے پر طلب کیا تھا،چیف جسٹس پاکستان نے گواہ پر برہمی کا اظہار کیا اور مکالمہ کیا کہ آپ وحدت کالونی لاہور میں کام کررہے تھے، نارووال میں قتل کے مقدمے کی گواہی دے دی، حلف پر جھوٹا بیان دینا ہی غلط ہے، اگر انسانوں کا خوف نہیں تھا تو اللہ کا خوف کرنا چاہیے تھا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ آپ نے اللہ کا نام لے کر کہہ دیا کہ جھوٹ بولوں تو اللہ کا قہر نازل ہو، شاید اللہ کا قہر نازل ہونے کا وقت آگیا ہے، پولیس ریکارڈ کے مطابق آپ چھٹی پر تھے، پولیس والے ہوکے آپ نے جھوٹ بولا، ہائیکورٹ نے بھی کہا کہ یہ جھوٹا ہے۔

عدالت کے اظہارِ برہمی پر خضر حیات کے وکیل نے مؤ قف اپنایاکہ عید کا دن تھا، جس پر چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ عید کے دن جھوٹ بولنے کی اجازت ہوتی ہے؟چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانون کہتا ہے جھوٹی گواہی پر عمرقید ہوتی ہے، آج 4 مارچ 2019 سے سچ کا سفر شروع کررہے ہیں، تمام گواہوں کو خبر ہوجائے، بیان کا کچھ حصہ جھوٹ ہوا تو سارا بیان مسترد ہوگا، آج سے جھوٹی گواہی کاخاتمہ کررہے ہیں، اس جھوٹے گواہ سے آغاز کررہے ہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ اسلام کے مطابق بھی گواہی کا کچھ حصہ جھوٹ ہو تو سارا بیان مسترد کیا جاتا ہے، 1964 میں لاہور ہائیکورٹ کے جج نے اس معاملے میں رعایت دی، رعایت کا مقصد یہ تھا کہ یہاں تو لوگ جھوٹ بولتے ہی ہیں، اگر انصاف مانگتے ہیں تو پھر سچ بولیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جھوٹی گواہیوں نے نظام عدل کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے، باپ بھائی بن کر حلف پر جھوٹ بولتے ہیں،بعد ازاں عدالت نے مقدمہ سیشن جج نارووال کو بھجواتے ہوئے جھوٹے گواہ خضر حیات کے خلاف دفعہ 1994 کے تحت کارروائی کا حکم دیا۔