جنگ کی صورت میں بھارت کے پاس صرف 10 دن کا اسلحہ ہے، امریکی اخبار

43

واشنگٹن: امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں بھارتی عسکری صلاحیت کی قلعی کھول کر رکھ دی اور کہا ہے کہ جنگ کی صورت میں بھارت کے پاس اپنے فوجیوں کو فراہم کرنے کے لیے صرف 10 دن کا اسلحہ ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں پاک فضائیہ کے مقابلے میں بھارتی فضائیہ کی پسپائی کو شکست سے تعبیر کیا اور کہا کہ بھارتی فوج کی اہلیت تشویشناک حد تک متاثر ہے۔

اخبار سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ ‘اگر جنگ چھڑ جاتی ہے تو بھارت اپنے فوجیوں کو صرف 10 دن کا اسلحہ فراہم کرسکتا ہے’۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوج کا 68 فیصد جنگی ساز و سامان اتنا قدیم ہے کہ اُسے باضابطہ طور پر ناقابل استعمال سمجھا جاتا ہے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بھارت کی فضائی حدود میں دونوں فوجوں کے طیاروں کا فضا میں لڑنا بھارت کی عسکری صلاحیت اور بھارتی فوج کی کارکردگی کا امتحان تھا، جس میں پاکستان نے کامیابی سے  ایم آئی جی 21  طیاروں  کو مار گرایا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فوج کو لاحق چیلنجز کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں، گزشتہ 5 دہائی میں دونوں ممالک کے درمیان یہ پہلی فضائی جھڑپ تھی جو بھارتی فورسز کا امتحان تھا اور بھارت کو ایک ایسی فوج کے مقابلے میں پسپائی کا سامنا کرنا پڑا جو سائز میں آدھی اور جس کا دفاعی بجٹ بھارت کے مقابلے ایک چوتھائی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارت کے 45 بلین ڈالر ملٹری بجٹ میں سے صرف 14 بلین ڈالر جدید ہارڈوئیر خریدنے پر خرچ کیے جاتے ہیں جب کہ باقی بجٹ تنخواہوں سمیت اخراجات پر خرچ کیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی پارلیمنٹری کمیٹی دفاع کے رکن گورو گوگوائی کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج جدید اسلحے کی فراہمی کے بغیر ہی اکیسویں صدی کے ملٹری آپریشنز کرنے پر مجبور ہے۔