نظریاتی وزیرِ اعظم کی خدمت میں

194

 

وقاص احمد

گزشتہ دنوں وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے راجن پور کے انتہائی پسماندہ علاقے میں صحت کارڈ کی فراہمی سے متعلق ایک جلسے سے خطاب کیا۔ خطاب میں وزیر اعظم نے بجا طور پر کہا کہ پاکستان اپنے اس نظریہ سے جس پر وہ قائم ہوا تھا بہت دور چلا گیا ہے۔ وہ نظریہ جسے ہم نظریہ پاکستان کہتے ہیں صوبائیت، لسانیت اور سیکولر نظریات کے منفی اثرات کی وجہ سے بہت کمزور ہوگیا ہے۔ اُن کے نزدیک ریاست مدینہ اور اس کے بعد کئی سو سال تک مسلمانوں کے عروج کی وجہ ریاست مدینہ کا دو اصولوں اور قدروں پراستوار اور مستحکم ہونا تھا اور وہ تھے انصاف اور انسانیت۔ احقر یہ سمجھتا ہے کہ مرض کی تشخیص تو عمران صاحب نے ٹھیک کی لیکن ان کا تجویز کردہ علاج علمی اور تاریخی لحاظ سے نامکمل اور ادھورا ہے۔ اور ادھورا علاج بے کار، غیر موثر اور کبھی کبھی خطرناک بھی ہوتا ہے۔
وزیراعظم کی حیثیت سے عمران خان کے خیالات کا ابلاغ چوں کہ اب پہلے سے بھی زیادہ موثر اور دوردس ہوگیا ہے اس لیے ان کے افکار پر تواتر سے تبصرہ کرنا اور اصلاح کرکے ان کی توجہ مکمل حقائق کی طرف مبذول کرانا پہلے سے زیادہ اہم اور ضروری ہوگیا ہے۔ وزیر اعظم چوں کہ ریاست مدینہ کا پیغام اور نظریہ پاکستان کے فلسفہ کا عوام میں پرچار کرنے اور اس سے اپنی ہر دوسری تقریر کو مزین کرنے پر آمادہ رہتے ہیں اس لیے ان سے گزارش ہے کہ وہ ایک مرتبہ پھر سیرت رسول اللہ ؐ کا مطالعہ کسی مستند عالم کی کتاب سے کریں۔ اقبالیات اور نظریاتِ قائداعظم کا گہرائی سے معائنہ کریں۔ کیوں کہ ریاست مدینہ کا قیا م رسول اللہ ؐ کی عدیم المثل اور جاں گسل محنت کا نتیجہ تھا۔ یہ اسی محنت کا ثمر تھا جس نے صحابہ کرامؓ جیسی جماعت پیدا کی۔ وہ محنت جس کا منبع اور محور ایمان و یقین کی آبیاری تھا۔ جس کی اساس و بنیاد قرآنِ حکیم اور اسوہ حسنہ تھی۔
عمران خان بلا تردد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نایاب حکمرانوں میں سے ہیں جو اپنی فکر اور خیالات میں اسلام، قرآن، اسوہ حسنہ کا ذکر بلا جھجھک کرتے ہیں لیکن اگر وہ اس جانب سفر کرنے میں واقعی سنجیدہ ہیں تو انہیں سنجیدگی سے فلسفہِ ریاست مدینہ اور نظریہ پاکستان کے اساسات پر غور کرنا ہوگا۔ انسانیت اور انصاف کی اصطلاحات تو سیکولر اور بے دین فلسفے بھی ذوق و شوق سے استعمال کرتے ہیں اور پھر وہ عالمی سطح پر انسانیت اور انصاف کا کیا حشر کرتے ہیں اس کے لیے بہت دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انسانیت کے عالمی ٹھیکیداروں کی ماضی قریب میں انسانیت پر جو مظالم ڈھائے ہیں، تاریخ ان واقعات سے بھری پڑی ہے۔ وزیر اعظم کو پتا ہونا چاہیے کہ رسول اللہؐ نے لوگو ں کو اولاً و اصلاً ایمان ہی کی دعوت دی۔ آپؐ نے صحابہ کرامؓ کی تربیت اس طرح کی کہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل پاگیا جس نے عرب کے جاہل، جھگڑالو اور بداخلاق لوگوں کے اندر ایسی انسانیت اور ایسا عدل و انصاف کا مادہ پیدا کیا جو تاریخِ انسانی نے نہ پہلے کبھی دیکھا تھا اور نہ بعد میں کبھی دیکھے گی۔ محترم عمران خان کو علم ہونا چاہیے کہ انسانیت اور انصاف کا جامع تصور صرف اور صرف ایمان کی بڑھوتری سے حاصل ہوگا جس کا سر چشمہ علمِ قرآن و سیرت ہے۔
ریاست مدینہ کی طرف پیش قدمی کے لیے وزیر اعظم کو چاہیے وہ تحریک انصاف کے ذمے داروں اور کارکنوں کے اندر قرآن کا ذوق و شوق پیدا کریں اور اس کے لیے تحریک انصاف کی تنظیم کے اندر ترجمہ و تفسیر قرآن اور سیرت کی کلاسز کا آغاز کروائیں۔ قرآن پڑھنے اور اسے سمجھنے کے لیے وقت لگانے اور اس کے لیے تگ و دو کرنے والوں کو اللہ نے کیا بشارتیں دی ہیں خان صاحب کو معلوم ہونا چاہیے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ جو جماعت پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر استوار کرنا چاہتی ہو وہ ریاست مدینہ کے جوہر ہی سے ناواقف ہو۔ آئین پاکستان خود یہ کہتا ہے کہ نظریہ پاکستان اور اس کی اساس کی نشونما کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اسلامی شعائر اور تعلیمات کا ابلاغ کرے۔ آئین کی اس شق پر عمل کرنے کا سب سے اچھا اور فوری طریقہ یہی ہے کہ حکومت قرآن کی اشاعت و تبلیغ کا کام بھرپور طریقے سے شروع کردے۔ ریڈیو پاکستان کی طرح پی ٹی وی بھی قرآن چینل کا آغاز کرے جہاں قرآن کی تلاوت و ترجمے کا اہتمام ہو۔ کے پی کے اسکولوں کی طرح پورے ملک کے اسکولوں اور کالجوں میں نصاب قرآن متعین کیا جائے۔ ابھی حال ہی میں خبر آئی ہے کہ وزیراعظم نے ہدایت دی ہے کہ اسکول کالجوں کے نصاب میں اقبال اسٹڈیز اور تاریخِ اسلام کو شامل کیا جائے۔ ان احکامات کا عمل درآمد صرف ان صوبوں ہی میں نہ کیا جائے جو تحریک انصاف کے زیرِ انتظام ہیں بلکہ پورے ملک میں اس پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ اللہ اس بابرکت کام سے توفیق و عمل کے مزید دروازے کھولے گا۔
وزیراعظم کا یہ کہنا کہ ریاست مدینہ میں کمزور اور طاقتور کے لیے ایک قانون تھا برحق ہے، لیکن جب تک معاشرے کی تعلیم و تربیت، اس کا تزکیہ انہی خطوط پر نہ ہو جیسا کہ ریاست مدینہ کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے، یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔ قانون پر عمل کرنے والوں، کرانے والوں میں جب تک ایمان اور تقویٰ نہیں ہوگا خون خرابہ، اغواء، آبروریزی، لوٹ مار اور کرپشن میں بڑی کمی نہیں آسکتی۔ سب سے بڑھ کر قانون نافذ کرنے والے، احتساب و نگرانی کرنے والے اداروں کا معاملہ کسی معاشرے کی ترقی یا تباہی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ عوام کو عدل و انصاف دلانے کے لیے، ان کو سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور طاقتوروں کے مظالم سے بچانے کے لیے اور اُن کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے حکمرانوں کو خود بے لوث اور نڈر اقدمات کرنے ہوتے ہیں جو اپنے اندر ایمانِ حقیقی پیدا کیے بغیر نہیں کیے جاسکتے۔ نتائج سے بے پروا ہوکر آخرت کی فکر اور وہاں کی کامیابی کی خواہش ہی حکمران کو انقلابی اقدامات کرنے میں مجبور کرتی ہے۔ سو ہماری وزیرِ اعظم سے دست بدست گزارش ہے کہ آنے والے ساڑھے چار سال میں، اگر وہ پاکستان کو اسلامی و فلاحی پاکستان بنانا چاہتے ہیں تو وہ اپنے اندر اور قوم کے اندر ایمانِ حقیقی کی آبیاری کریں۔ انسانیت، فلاح اور عدل انسان میں خود ہی پیدا ہوجائے گا۔ عوام و حکومت کا قوانین پر عمل کرنا اور کروانا آسان ہوجائے گا۔