پلوامہ حملہ مودی نے کروایا ،بی جے پی رہنماؤں کا انکشاف

205

نئی دہلی (صباح نیوز،خبر ایجنسیاں ) پلوامہ حملہ مودی نے کروایا۔بی جے پی رہنماؤں کا انکشاف ۔تفصیلات کے مطابق بے جے پی کے سابق رکن اور امریکی نژاد بھارتی شہری اوی دندیا نے مودی سرکار کا اصل چہرہ دکھاتے ہوئے پارٹی رہنماؤں کی پلوامہ حملہ کے حوالے سے ایک آڈیو ٹیپ لیک کردی ہے۔ سوشل میڈیا پرحکمران جماعت کے سابق رکن اوی دندیا نے بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کسی اور ملک کو جھوٹا ثابت کر کے آپ سچے نہیں ہو سکتے۔اب جو آڈیو ٹیپ سنانے والا ہو ں اگر اس کو
پہلے ریلیز کر دیتا تو ونگ کمانڈر ابھی نندن واپس گھر نہیں آ سکتے تھے۔انٹرنیٹ پر جاری کردہ آڈیو میں بی جے پی رہنماؤں کی گفتگو موجود ہے جس میں کہا جارہا ہے کہ الیکشن جیتنے کے لیے یدھ( جنگ ) ضروری ہے۔گفتگو میں شریک خاتون سوال کرتی ہے کہ بغیروجہ کے جنگ کیسے کرائیں گے؟انہیں بتایاجاتا ہے کہ فورسز کے جوانوں کے معاملے پر دیش بہت جذباتی ہے، یہی گڑ بڑی کرانا ہوگی۔خاتون سوال کرتی ہے کہ کیا آپ جوانوں کو شہید کرانا چاہتے ہیں؟ ایک دو جوانوں سے کیا ہوگا؟ اڑی کیا، پھر کیا ہوا؟ کچھ نہیں۔دوسرا رہنما جواب دیتا ہے کہ جوانوں کی سرکھشا ( سلامتی) پر سوال سے ہی ہماری راج نیتی (سیاست) جڑی ہے۔اس کال ریکارڈنگ میں مبینہ طور پر بی جے پی رہنما راج ناتھ سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امیت شاہ کال کانفرنس کے دوران الیکشن جیتنے کے لیے پلوامہ حملہ کروانے کے لیے بات کر رہے ہیں۔آڈیو ٹیپ میں موجود خاتون کی شناخت ظاہر نہیں ہو سکی جو پیسوں کے عوض بھارتی فوجیوں پر حملے کے لیے راضی ہو جاتی ہے اور جواب دیتی ہے کہ بارہ تیرہ فروری تک پیسے پہنچا دیں گے تو کام ہو جائے گا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اوی دندیا نامی بھارتی نژاد امریکی شہری سابق بھارتی پائلٹ کے بیٹے ہیں۔اوی دندیا نے مودی سرکار اور بھارتی میڈیا کو بھی خبر کرتے ہوئے کہا کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو میرے پاس ثبوت کے ساتھ بہت مواد ہے اور یہ سب مجھ سمیت 8 افراد کے پاس ہے۔اگر میڈیا اینکرزنے کوئی گڑ بڑ کی تو ان کی اصلیت قوم پر کھول دوں گا۔مجھے معلوم ہے یہ کس کس سے ملتے ہیں،کس کس سے پیسے اور کیا کچھ لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا ان ٹاپ کے پانچ اینکرز کا سب کچھا چھٹا کھول دوں گا۔ یاد رہے کہ 14 فروری کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارتی فوج کے کانوائے پر ہونے والے کار خودکش حملے میں 50 کے قریب فوجی ہلاک ہوئے تھے جس کا الزام مودی سرکار نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر لگا دیا تھا۔علاوہ ازیں بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کے سابق اتحادی نے بھی انتہا پسند مودی سرکار کے امن دشمن اورشرانگیز عزائم کے خلاف یہ کہہ کر گواہی دے دی ہے کہ بی جے پی نے انہیں دو سال پہلے بتادیا تھا کہ لوک سبھا کے انتخابات سے قبل جنگ ہوگی۔بھارتی میڈیا کے مطابق آندھرا پردیش کی سیاسی جماعت جن سینا قائم کرکے اداکار سے سیاستدان بننے والے پون کلیان نے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھ سے دو سال قبل کہا گیا تھا کہ لوک سبھا کے انتخابات سے قبل جنگ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ میری اس بات سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ملک میں آج ایسے حالات کیوں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ سی آر پی ایف کے قافلے پر خود کش حملے کے بعد سے یہ حالات پیدا ہوئے ہیں۔پون کلیان نے کہا کہ جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں اور اس سے دونوں ملکوں کا نقصان ہوگا۔ بھارت کی حکمران جماعت کو سخت نکتہ چینی کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی اس طرح ظاہر کرتی ہے کہ جیسے اس کے علاوہ کوئی دوسرا محب وطن ہی نہیں ۔پون کلیان نے کہا کہ حب الوطنی صرف بی جے پی کی میراث نہیں ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہم بی جے پی سے دس گنا زیادہ محب وطن ہیں اور جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہیں۔ پون کلیان نے کہا کہ مسلمانوں کو اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔پون کلیان نے اپنی پارٹی جن سینا کے کارکنان سے کہا کہ وہ کسی بھی طرح کی مذہبی یا فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے کے منصوبوں کو ناکام بنائیں۔