جماعت اسلامی کا قیام (اگست ۱۹۴۱ء) (باب سوم)

105

 

محمود عالم صدیقی

جماعت اسلامی کا قیام۔ ایک تاریخ ساز واقعہ
جماعت اسلامی کا قیام اس وقت کی ہنگامہ خیز دنیا میں محض ایک معمولی واقعہ تھا۔ اس کا تاسیسی اجتماع کسی پروپیگنڈے کے زور شور کے بغیر شروع ہوا اور خاموشی سے ختم ہوگیا۔ ایک نہایت محدود سے حلقے کے سوا اس کو کسی نے اہمیت نہ دی۔ برعظیم میں مسلمانوں کے اندر جماعت سازی روز مرہ کا شیوہ بن چکا تھا۔ آئے دن جماعتیں وجود میں آتیں اور چند روزہ بہار زندگی دکھا کر ختم ہوجاتیں۔ لیڈری ایک پیشہ بن چکی تھی۔ کسی میں صلاحیت ہوتی یا نہ ہوتی‘ من کی موج طالع آزماؤں کو میدان میں لے آتی اور مسلمانوں کی قیادت کے لیے مسابقت شروع ہوجاتی جس میں حریف کو شکست دینے کے لیے غیر اخلاقی ہتھکنڈے اختیار کرنے سے بھی گریز نہ کیا جاتا۔ ایسے عالم میں ایک نئی جماعت کا قیام ایک عام آدمی کے لیے کوئی اہمیت نہ رکھتا تھا‘ تاہم اس واقعے کا اس وقت جو رد عمل بھی تھا یہ ایک تاریخ ساز واقعہ تھا۔ ایک ایسی جماعت وجود میں آگئی تھی جو آنے والے برسوں میں نہ صرف برعظیم بلکہ جنوبی ایشیا اور عالم اسلام تک میں اہم کردار ادا کرنے والی تھی۔ مشہور مغربی مصنف ولفریڈ کنٹویل سمتھ (W.C.Smith) نے جماعت اسلامی کے قیام کو ہم عصر اسلامی دنیا کے اہم ترین واقعات میں سے ایک واقعہ قرار دیا جو ہم عصر پاکستان کی اہم ترین ہم عصر قوتوں میں ایک قوت بن گئی۔ جماعت اسلامی اپنی بہت سی خصوصیات کی وجہ سے اس دور کی تمام سیاسی ودینی جماعتوں میں منفرد نوعیت رکھتی تھی۔
پہلی اسلامی نظریاتی جماعت
یہ پہلی اسلامی نظریاتی جماعت تھی جو کتاب و سنت کی بنیادوں پر وجود میں آئی تھی‘ جس کا مقصد مسلمانوں کے سیاسی و اقتصادی مفادات کا تحفظ یا ملک پر سے غیر ملکی تسلط کا خاتمہ نہ تھا بلکہ جو اسلام کی سربلندی اور اسلامی نظام حیات کا قیام چاہتی تھی‘ جس کے ارکان اور متفقین کسی شخصیت کے گرد نہیں اسلامی نظریہ کے گرد جمع ہوئے تھے۔ برعظیم میں اب تک جتنی مسلم جماعتیں سرگرم عمل رہی تھیں وہ تین قسم کی تھیں۔ ایک وہ جو نام تو اسلام کا لیتی تھیں مگر قومی اور سیکولر نصب العین کی علم بردار تھیں۔ دوسری وہ جو رسول اللہؐ کے لائے ہوئے اسلام کا حلیہ بگاڑنا چاہتی تھیں مگر اپنا نصب العین اسلام اور مسلمانوں کا غلبہ بتاتی تھیں اور تیسری وہ جو بظاہر دینی تھیں مگر مغرب کے دیے ہوئے تصور قومیت پر مبنی لادینی سیاست کی حامل تھیں اور جن کی قیادت علماء کے ہاتھوں میں تھی اور اس ناتے سے دینی اور اسلامی باتیں بھی ہوجاتی تھیں۔ ان تینوں قسم کی جماعتوں میں ایک بات مشترک تھی۔ ان میں سے ہر ایک کا تنظیمی ڈھانچا سیکولر تھا۔ ان کے برعکس جماعت اسلامی پہلی جماعت تھی جس کا مقصد اور نصب العین بھی خالصتاً اسلامی تھا اور تنظیمی ہےئت بھی کتاب وسنت کی دی ہوئی تعلیمات کی روشنی میں قائم کی گئی تھی‘ جس کے اندر داخل ہونے کے لیے اسلام کے احکام کا عملاً پابند ہونا ضروری تھا۔
اسلامی طریقہ انتخاب اپنانے والی پہلی جماعت
پھر یہ پہلی جماعت تھی جس نے اسلامی طریق انتخاب کو اپنایا جس میں امیدواری (Candidature) کو مسترد اور کسی شخص کے حق میں کنویسنگ یا اس کے خلاف پروپیگنڈے کو غیر اخلاقی اور مذموم قراردے دیا گیا۔ جس کے امیر کو جماعت کی جنرل باڈی (General body) یعنی ارکان منتخب کرتے اور وہی اس کو معزول کرنے کا اختیا رکھتے۔ جماعت کا دستور اور نظم ارتقاء کے مختلف ادوار سے گزرا‘ تنظیم کا ڈھانچا حالات کے مطابق وسعت اختیار کرتا رہا اور فرائض و اختیارات کی تقسیم کی نئی نئی جہتیں پیدا ہوئیں‘ امیر جماعت کے عزل کا اختیار ارکان کی منتخب کردہ مجلس شوریٰ کو دے دیا گیا تاہم اس کا انتخاب بھی ارکان براہ راست خفیہ ووٹوں سے کرتے ہیں اور امیر اپنے کاموں کا ارکان اور مجلس شوریٰ کو جوابدہ ہوتا ہے۔ اس طرح جماعت اسلامی سیاسی جماعتوں میں واحد سیاسی جماعت ہے جس میں آخری اتھارٹی جماعت کی جنرل باڈی کے ہاتھ میں ہے اور اس اختیار کو نہ تو کوئی دباؤ ڈال کر سلب کر سکتا ہے اور نہ اس پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔
سید مودودیؒ نے ایک مرتبہ دوسری جماعتوں کے مقابلے میں جماعت اسلامی کی منفرد اور ممتاز خصوصیات کا ذکرکرتے ہوئے کہاتھا:
۱۔ جو چیز میں نے جماعت کی تشکیل میں پیش نظر رکھی وہ یہ تھی کہ جماعت ایسے افراد پر مشتمل ہونی چاہیے جو نہ صرف عقیدے میں مخلص ہوں بلکہ اپنی انفرادی سیرت و کردار میں بھی قابل اعتماد ہوں ۔۔۔ مسلمانوں کی جماعتوں اور تحریکوں کو جس چیز نے آخر کار خراب کیا وہ اچھے لوگوں کے ساتھ بہت سے ناقابل اعتماد لوگوں کا شریک ہو جانا تھا۔۔۔ انھی مشاہدات کی بنا پر میں نے یہ رائے قائم کی کہ اصل اہمیت کثرت تعداد کی نہیں بلکہ قابل اعتماد سیرت و کردار رکھنے والے کارکنوں کی ہے۔ خواہ تھوڑے ہی افراد ملیں مگر بہر حال ہماری جماعت صرف ایسے لوگوں پر مشتمل ہونی چاہیے جن میں سے ایک ایک فرد کی سیرت قابل اعتماد ہو جس کے قول اور عمل پر لوگ بھروسا کرسکیں۔
۲۔ مسلمانوں کی تحریکوں کے ناکام ہونے یا ابتدا میں کامیاب ہو کر آخرکار ناکام ہوجانے کے اہم اسباب میں سے ایک سبب تنظیم کی کمی بھی ہے۔ میں نے فیصلہ کیا کہ جماعت اسلامی کا نظم نہایت سخت اور مضبوط ہونا چاہیے۔ اس میں ذرہ برابر بھی ڈھیل گوارا نہیں کرنی چاہیے۔۔۔ ایک غیر منظم جماعت کبھی ایسی طاقتوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی جو تنظیم کے ساتھ اٹھنے والی ہوں۔
۳۔ ایک اور چیز جس کو ہم نے جماعت کی تشکیل میں پیش نظر رکھا وہ یہ تھی کہ جدید اور قدیم تعلیم یافتہ دونوں قسم کے عناصر کو ملاکر ایک تنظیم میں شامل کیا جائے اور یہ دونوں مل کر اسلامی نظام قائم کرنے کی ایک تحریک چلائیں (اس طرح) جماعت اسلامی نے جدید اور قدیم تعلیم یافتہ لوگوں کو ملاکر ایک مزاج اور ایک طرز فکر رکھنے والی مشترک قیادت فراہم کی ہے۔ ورنہ اس سے پہلے علماء جب کبھی جدید تعلیم یافتہ لوگوں کے ساتھ ملے ہیں محض ایک مددگار قوت کی حیثیت سے ملے ہیں‘ قیادت میں ان کا کوئی حصہ نہیں رہا ہے۔۔۔ ان کا کام صرف یہ تھا کہ جس قیادت کی بھی وہ تائید کریں اس کے پیچھے مسلمانوں کو لگا دینے کی خدمت انجام دیں۔
۴۔ جماعت نے یہ کوشش بھی کی کہ ہر فرقہ اور مسلک کے مسلمانوں کو ایک جگہ جمع کیا جائے۔۔۔ جماعت اسلامی بنی ہی اس اصول پر ہے کہ آپ اپنا جو مسلک بھی رکھتے ہوں اس پر عمل کیجیے مگر دوسرے پر زبردستی اس کو نہ ٹھونسیے جس عمل کو آپ صحیح نہیں سمجھتے وہ نہ کیجیے‘ لیکن اس بات کا مطالبہ بھی نہ کیجیے کہ دوسرا بھی اسے صحیح نہ سمجھے اور اسے چھوڑ دے۔ اس کے بعد ہم سب مل کر اسلامی نظام قائم کرنے کی کوشش کریں۔
۵۔ جماعت اسلامی کے نظام کو خرابیوں سے پاک رکھنے کے لیے ہم نے جو طریقہ اختیار کیا ہے وہ یہ ہے کہ ارکان کے اجتماعات میں کھلا کھلا محاسبہ ہوتا ہے‘ صاف صاف تنقید ہوتی ہے جس شخص میں کوئی کمزوری ہو یا جس سے کوئی غلطی سرزد ہوئی ہو بے تکلف اس پر گرفت کی جاتی ہے اور اس کی اصلاح کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
دینی و سیا سی رہنماؤں کو دعوتی خطوط
جماعت اسلامی کی تشکیل کے بعد سید مودودیؒ نے پہلی بار جماعتی سطح پر برعظیم کے تقریباً پچاس اصحاب علم و فضل‘ علماء کرام اور دینی اور سیا سی جماعتوں کے رہنماؤں کو دعوتی خطوط لکھے۔ دستور جماعت اور پہلے اجتماع کی روداد روانہ کی۔ ان خطوط کا کہیں سے کوئی جواب موصول نہ ہوا سوائے ایک کے جنہوں نے تحریر فرمایا کہ آپ نے ہمیں آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ اگر اس دعوت کو قبول کرتے ہیں تو دنیا سے لڑنا پڑتا ہے اور اس کی صداقت اور اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
(جاری ہے)