مصر میں اخوان المسلمون کے کارکنوں کا عدالتی قتل کسی صورت قبول نہیںِ،ترک صدر

149

انقرہ(صباح نیوز)ترک صدر طیب اردگان نے اخوان المسلمون کے 9 کارکنوں کو سزائے موت دینے پر مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ایک انٹرویو میں صدر طیب اردگان نے پراسیکیوٹر جنرل کے قتل کے جھوٹے الزام میں اخوان المسلمون کے 9نوجوانوں کو سزائے موت دینے پر احتجاج کرتے ہوئے مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 9نوجوانوں کا عدالتی قتل کسی طور بھی قابل قبول نہیں، مصر میں عدالتیں، انتخابات اور انصاف کانظام آزاد وشفاف نہیں بلکہ طاقت کے ایک مرکز کی مرہون منت ہیں، اسی وجہ سے میں مصر کے مطلق العنان صدر سے بات کرنا بھی گوارا نہیں کرتا۔صدر طیب اردگان نے کہا کہ ترکی سے برادرانہ اور خوشگوار تعلقات کے لیے مصر کی قابض حکومت کو اخوان المسلمون کو امن پسند جماعت قبول کرتے ہوئے جماعت کے تمام اسیروں کو رہا کرنا ہوگا، صرف اسی صورت میں مصری صدر سے بات چیت پر آماہ ہوسکتا ہوں۔واضح رہے کہ ترکی اور مصر کے تعلقات 2013 میں فوجی بغاوت میں صدر مرسی کا تختہ الٹنے کے بعد سے کشیدہ ہیں۔ مصر میں اسیر سابق صدر محمد مرسی کے ترک صدر کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں۔