ینگ ڈاکٹرز کی سندھ میں ہڑتال جاری او پی ڈیز بند مریض تڑپتے سسکتے رہے

42
کراچی :ڈاکٹروں کی ہڑتال کے باعث جناح اسپتال کی اوپی ڈی بند ہے ۔چھوٹی تصویر میں مریض اسپتال کے باہر لیٹا ہوا ہے
کراچی :ڈاکٹروں کی ہڑتال کے باعث جناح اسپتال کی اوپی ڈی بند ہے ۔چھوٹی تصویر میں مریض اسپتال کے باہر لیٹا ہوا ہے

کراچی( اسٹاف رپورٹر)سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا۔ جمعرات کو ہونے والے آپریشن ملتوی کر دیے گئے۔ مریضوں اور ان کے لواحقین کو شدید مشکلات و پریشانیوں کا سامنا رہا۔تفصیلات کے مطابقسندھ بھر میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث کے باعث دوسرے روز بھی کراچی کے جناح، سول، این آئی سی ایچ، این آئی سی وی ڈی، لیاری اور جنرل اسپتالوں کی او پی ڈیز اور او ٹیز بند رہیں۔صوبے بھر کے ینگ ڈاکٹرز تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کے لیے احتجاج پر ہیں۔ ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث علاج کے لیے آنے والے مریض پریشان اور ذہنی اذیت کا شکار رہے۔سندھ کے دیگر شہر سکھر، بدین، گولارچی، ماتلی، ٹنڈوباگو، تلہار، پڈعیدن، پنو عاقل، روہڑی، نواب شاہ اور ٹنڈو محمد خان میں بھی ینگ ڈاکٹرز اپنے مطالبات پورے کرانے کے لیے احتجاج پر ہیں۔ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث اسپتال میں داخل مریضوں اور آنے والے مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ علاج و معالجے کی سہولیات میسر نہ ہونے کے سبب مریض نجی اسپتالوں میں جانے پر مجبور ہیں۔ ینگ ڈاکٹرز کے احتجاج اور ہڑتال کے باعث کراچی سمیت سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں تقریباً 500 آپریشنز نہ ہوسکے جبکہ وارڈز میں زیر علاج مریض بھی سسکتے،تڑپتے رہے۔ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر عمر سلطان کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے مطالبات تسلیم کرنے کی یقین دہانی کرائی لیکن کوئی نوٹی فکیشن جاری نہیں کیا لہٰذا جب تک نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوگا بائیکاٹ جاری رہے گا۔ ہڑتال کے باعث آج ہونے والے آپریشن بھی ملتوی کردیے گئے ہیں اور وارڈز میں بھی ڈاکٹروں نے کام بند کردیاہے۔ ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ان کی تنخواہیں پنجاب کے ڈاکٹرز کے برابرکی جائیں، کرپشن ختم کی جائے اور الاؤنسز بھی دیگر صوبوں کے مساوی بڑھائے جائیں۔ دوسری جانب جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ حکومت دلاسے دینے کے بجائے نوٹیفکیشن جاری کرے۔