حکمرانوں میں قوت فیصلہ ہے،نہ ڈیلیور کرنے کی صلاحیت ،سراج الحق 

99
لالہ موسیٰ:امیر جماعت سینیٹر سراج الحق تقریب سے خطاب کر رہے ہیں 
لالہ موسیٰ:امیر جماعت سینیٹر سراج الحق تقریب سے خطاب کر رہے ہیں 

لاہور( نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ حکومت ہر روز اپنی نااہلی اور بچگانہ حرکتوں سے ایک سے بڑھ کر ایک لطیفہ بنارہی ہے ۔ حکمرانوں میں فیصلے کی قوت ہے نہ ڈلیور کرنے کی صلاحیت ۔ وزیراعظم تین وزراء کو تبدیل کر کے کہتے ہیں تبدیلی آگئی ہے ، حالانکہ چھ ماہ کی کارکردگی دیکھی جائے تو پوری کابینہ کو تبدیل ہونا چاہیے ۔ موجودہ حکومت میں آٹھ وزراء مشرف کے اور باقی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے ہیں جس طرح وہ حکومتیں ناکام ہوئی تھیں ، ان سے زیادہ تیزی سے یہ حکومت ناکامی کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ وزیراعظم کہتے تھے کہ میری حکومت عوام سے کبھی جھوٹ نہیں بولے گی مگر ساہیوال واقعہ میں پنجاب حکومت نے عوام سے آٹھ مرتبہ جھوٹ بولا ۔ ناحق قتل کرنے والے اللہ کے غضب سے بچ نہیں سکتے ۔ لوگوں کو دن دہاڑے اٹھا کر غائب کر دیا جاتاہے ۔ سینئر صحافی رضوان الرحمن رضی کو ان کے گھر سے اٹھا لیا گیا ۔ حکومت خود لاقانونیت کو ہوا دے رہی ہے اگر کوئی مجرم ہے تو اسے پکڑ کر مقدمہ درج کر کے عدالتوں میں پیش کیا جائے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے لالہ موسیٰ میں النجاۃ اسلامک سینٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی شمالی پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم ، صدر جے آئی کسان نثار احمد ایڈووکیٹ ، سید ضیاء اللہ شاہ اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف بھی موجود تھے ۔ تقریب میں معززین علاقہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ عوام تبدیلی کے لیے ووٹ دیتے ہیں مگر حالات پہلے سے بھی زیادہ بگڑ جاتے ہیں ۔ ستر سال سے عوام کی گردنوں پر ایک ہی ٹولہ مسلط ہے اس ٹولے نے عوام کی خوشیاں چھین لی ہیں اور قیام پاکستان کے عظیم مقصد کو پس پشت ڈا ل دیا گیا ہے ۔ پاکستان مدینہ کے بعد کلمہ اور نظریہ کی بنیاد پر قائم ہونے والی دوسری مملکت تھا جس کے لیے لاکھوں لوگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا لیکن پاکستان کے اقتدار پر قابض انگریز کے غلاموں نے ان عظیم قربانیوں اور لاکھوں شہدا کے خون سے بے وفائی کی ۔ اشرافیہ کے اس مختصر گروہ کی وجہ سے آج بھی پاکستان کا سیاسی معاشی ، عدالتی اور تعلیمی نظام وہی ہے جس سے نجات کے لیے ہمارے بڑوں نے آگ و خون کا دریا پار کیا تھا ۔انہوں نے کہاکہ منتخب لوگ اپنی نااہلی کی وجہ سے آمریت کے لیے راستہ ہموار کرتے ہیں جب عوام کے مسائل حل کرنے کی بجائے عوام کے لیے مسائل پیدا کرنے والے ایوانوں میں پہنچ جاتے ہیں تو لوگ آمریت کے نظام کی دعائیں کرنے لگتے ہیں ۔ حکومت ہر شہر میں سینما ہال کھولنے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے لیکن حج اخراجات میں ایک تہائی اضافہ کر کے لوگوں کو اللہ کے گھر اور روض�ۂ رسول ﷺ کی زیارت سے محروم کر رہی ہے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ عوام کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی اور نوجوانوں کا بے روزگاری ہے ۔ وزیراعظم نے اب تک اپنا کوئی ایک وعدہ پورا نہیں کیا جس سے عوام کے اندر مایوسی بڑھتی جارہی ہے ۔ حکومت روزگار اورچھت دینے کی بجائے روزانہ لوگوں کو بے روزگار اور چھت سے محروم کر رہی ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ جمہوری نظام مضبوط ہو لیکن حکمران جمہوری اقدار کو مسلسل پامال کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ سابقہ حکومتی پارٹیاں اور موجودہ حکومت اسلام کے خلاف پارلیمنٹ میں یک آواز ہو جاتی ہیں ۔ سینیٹر سراج الحق نے سینئر صحافی رضوان الرحمن رضی کو گھر سے اٹھانے اور بے بنیاد مقدمہ درج کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم عمران خان کہتے تھے کہ ہماری حکومت میں اگر کسی نے کسی شہری کو اٹھایا تو ہماری حکومت برداشت نہیں کرے گی ، لیکن موجودہ حکومت میں بھی وہی کھیل کھیلا جارہاہے جو سابقہ حکومتوں میں کھیلا جاتا تھا ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ رضوان الرحمن رضی کو فوری طور پر رہا کیا جائے ۔
سراج الحق