پاکستان میں طلبہ یونینز کے اتار چڑھاؤ

106

محمد شجاع الحق بیگ

طلبہ یونین کیا ہیں؟
”طلبہ یونین کسی بھی تعلیمی ادارے کے اندر طالب علموں کی منتخب کردہ اس قانونی تنظیم کو کہا جاتا ہے جو تعلیمی اور سیاسی معاملات میں مختلف فورمز پرطلباء کی نمائندگی کرتی ہے اور مختلف قسم کے ہم نصابی اور فلاحی سرگرمیوں کا انعقاد کرتی ہے۔”
اس تعریف سے یہ واضح ہو جاتاہے کہ طلبہ یونینز باقاعدہ انتخابی عمل کے ذریعے سے منتخب کی جاتی ہیں۔ مختلف پینل اپنے امیدواران کی نامزدگیان کرکے بھرپور مہم چلاتے ہیں۔ اس انتخابی عمل کے دوران متعلقہ ادارے کے تمام طلباء و طالبات ووٹ کے ذریعے پورے سال کے لیے اپنی قیادت کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس طرح تشکیل پانے والی کابینہ کی قانونی و آئینی حیثیت کو ہر جگہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ ادارے کی قیادت، انتظامیہ اور ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ طلباء کی اس قانونی یونین کو اہمیت دیتے ہیں۔ یوں طلبہ یونین اپنے مقصد وجود کے حصول کے لیے موثر طور پر سرگرم عمل رہتی ہے اور ہر سطح پر طلباء کے حقوق اورمفادات کے حصول کے لئے موثر کردار ادا کرتی ہیں۔
طلبہ یونین اور طلبہ تنظیم میں فرق:
تین عشرون کی پابندی کی وجہ سے طلبہ یونین پاکستانیوں کے لیے بالکل اجنبی چیز بن گئی ہے۔ طلبہ،اساتذہ، صحافی یہاں تک کہ قانون دان بھی طلباء یونین اور طلباء تنظیم میں فرق نہیں کر پاتے۔ جیسا کہ اوپر ذکرکیا گیا طلباء یونین کسی کالج یا یونیورسٹی میں طلبہ کی متفقہ اور قانونی منتخب تنظیم ہوتی ہے جبکہ ایک طلباء تنظیم کسی مخصوص نظریے، علاقے، نسل یا زبان سے تعلق رکھنے والے طالبعلموں کی نمائندگی کرتی ہے جیسے اسلامی جمعیت طلبہ، پختون اسٹوڈنٹ فیڈریشن، پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن، مہاجر سٹوڈنٹس آرگنائزیشن۔
پاکستان میں طلبہ یونین کی تاریخ:
پاکستان بننے کے بعد سے یہاں کے تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینزکے انتخابات باقاعدگی سے ہونے لگے۔ شروع شروع میں یہاں پر تحریک پاکستان میں کلیدی کردار ادا کرنے والی مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن ہی یونین کے الیکشن جیتتی رہی لیکن مسلم لیگ کی اندرونی اختلافات کی وجہ سے چند سالوں کے اندرہی غیر فعال ہو گئی البتہ یونین کے انتخابات برابر ہوتے رہے۔ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کی جگہ بائیں بازو نظریات کے حامل طلباء کی تنظیم،نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن نے لے لی جو کہ کمیونسٹ پارٹی پاکستان کی ذیلی تنظیم تھی جبکہ بائیں بازو کے اکثر طلبہ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان سے قریب آتے گئے۔ ایوب آمریت کے دنوں میں طلباء تنظیموں پر پابندی لگی رہی لیکن طلبہ یونینز کے انتخابات پھر بھی ہوتے رہے۔ پابندی کے اٹھ جانے پر پاکستان کے تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین کے انتخابات میںپر اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان چھانے لگی۔ جبکہ بائین بازو اپنی وفاقی تنظیم کو ٹوٹ پھوٹ کے شکار ہونے سے نہیں بچا سکا تاہم وہ مختلف قوم پرست اور علاقائی تنظیموں کا سہارا لیتے رہے۔یوں ساٹھ کی دہائی کے آخر سے لیکر 1984 میں طلبہ یونینز پر پابندی لگنے تک طلبہ انتخابات میں دو ہی فریقوں میں مقابلہ رہا۔ ایک طرف اسلامی جمعیت طلبہ تھی اور دوسری طرف بائیں بازو سے متعلق مختلف تنظیمیں تھیں جو مختلف جگہوں اور مختلف وقتوں میں مختلف ناموں کے ساتھ اسلامی جمعیت طلبہ سے مقابلہ کرتی رہیں۔ ا ن میں قابل ذکر پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن، پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن، آل مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن ہیں۔
1970 سے 1985 تک کا دور پاکستان میں طلبہ یونینز کے عروج کا دور تھا۔ اس دوران پاکستان کے تمام کالجوں اور جامعات کے اندر یونینز کے الیکشن بڑی باقاعدگی سے ہوتے رہے۔جمہوری عمل کے نتیجے میں ہر سال پرانی قیادت انتظامیہ کی سر پرستی میں نئی قیادت کو اختیارات حوالے کرتی تھی۔اسی طرح تعلیمی ادارے معاشرے کے لیینظریاتی، تربیت یافتہ اور سیاسی طور پر بالغ قیادت فراہم کرتی رہی۔ شدید نظریاتی اختلافات کے باوجودطلبہ یونینز کے انتخابات کا عمل بڑی خوش اسلوبی اور تسلسل سے ہونا ایک مستحکم جمہوری پاکستان کی نوید تھا۔ نتیجے میں سامنے آنے والی طلبہ قیادت مختلف تعلیمی اور قومی مسائل کے حوالے سے بھی بھر پور کردار ادا کرتی رہی۔ ایوبی آمریت، بھٹو کا تحکمانہ کردار اور ضیاء کی آمریت کے خاتمے میں طلبہ کی منتخب قیادت کا کردار مسلمہ ہے۔ اسی طرح تحریک ختم نبوت اور بنگلہ دیش نامنظور تحریک میں بھی طلبہ نے بھر پور کردار ادا کیا۔ طلبہ یونین کے چونکہ، ہرسال نئے الیکشن ہوتے تھے اور ہر سال قیادت کو ووٹ لینے کے لیے طلباء کے پاس جانا ہوتا تھا، اس لئے وہ بڑی محتاط طرز عمل اختیار کرتی تھی اور ہمہ تن طلبہ کی خدمت میں مصروف رہتی تھی۔ اسی طرح تعلیمی اداروں کے اندر اور باہر طلباء کے چھوٹے بڑے مسائل کے لییبہترین ترجمانی کی۔
طلبہ یونینز کے اثرات:
طلبہ یونین نے 1984ء سے قبل 37سالہ تاریخ میں تعلیمی اداروں کے اندر جن رجحانات کو پروان چڑھایا،جو سرگرمیاں متعارف کرائیں ،طلبہ برادری پر جو اثرات مرتب کیے اور تعلیم کے حوالے سے جو کامیابیاں حاصل کیں،ان کا ایک طائرانہ جائزہ از حد ضروری ہے۔ جن کی جھلک آج بھی تعلیمی اداروں میں دکھائی دیتی ہے اور یونین کے تابندہ دور کی یاد دلاتی ہے۔طلبہ یونین نے جو شعبے اور ادارے متعارف کرائے ان میں ادبی کونسل، ڈیبیٹنگ سوسائٹی، اسپورٹس کلب، اسٹوڈنٹس ایڈ کلب،اسٹوڈنٹس مشاورتی بورڈ،پرائس اینڈ پیس کنٹرول کمیٹی،ڈسپلن کمیٹی شامل ہے۔ان کو قائم کرنے کا مقصد کام کو منظم انداز میں سرانجام دینا تھا۔ آج بھی چند تعلیمی اداروں میں ان میں سے کچھ ادارے قائم ہیں لیکن چونکہ یہ ادارے یونیورسٹی انتظامیہ کے تحت ہیں۔ ان کے لئے نہ تو باقاعدہ منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور نہ صحیح انداز سے ذمہ داران کا تقرر کیا جاتا ہے نتیجتاً یہ بے قاعدگی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جبکہ طلبہ یونین ان اداروں کے لییباقاعدہ ذمہ داران کا تقررکرتی تھی اوراس مقصد کے لییکمیٹیاں بنائی جاتی تھیں جو خالصتاََ اسی ادارے کے لیے کام کرتیں اوریوں کام میں باقاعدگی ہوتی۔
تعلیمی اداروں میں کتب میلے کی روایت،ہفتہ طلبہ،ادبی سرگرمیاں،ٹرانسپورٹ کی فراہمی،میڈیکل سہولیات کی فراہمی،فرسٹ ائیر فولنگ کا خاتمہ،فوجی تربیت برائے طلبہ کا اجراء،بلڈڈونرز سوسائٹی کا قیام،بک بینک، مساجد کا قیام طلبہ یونین ہی کی مرہونِ منت ہے۔طلبہ یونینز کی تاریخی جدوجہد کے نتیجے میں1962ء میں ایوب خان نے ’’تین سالہ ڈگری پروگرام‘‘ کامتنازعہ آرڈیننس واپس لیا۔کراچی کے انٹر کالجز کو ڈگری کالجز کا درجہ دلوایاگیا۔ حیدرآباد میں ڈگری سطح پر سائنس کالجز کا قیام کروایا اور بعد میں پنڈی میں گورڈن کالج میں آرٹس کلاسز کا اجراء کرایا گیا۔ 1966ء میں پہلی مرتبہ پنجاب یونیورسٹی طلبہ یونین کے صدر سید عارف نے خواتین یونیورسٹی کے قیام کے مطالبہ کیا جو بعد ازاں پورا ہوا۔1968ء میں میڈیکل کالجز سے فارغ ہونے والے طلبہ کی دو سالہ جبری ملازمت کے خلاف صدائے احتجاج بار آور ثابت ہوئی۔1973ء میں طلبہ یونینز کے مطالبے پر حکومت نے طلبہ کے لییبسوں کا کرایہ نصف کرنے کا اعلان کیا۔ 1973ء میں پنجاب یونیورسٹی نے یونین کے مطالبے پر اردو میں ایل۔ ایل۔ بی۔ شروع کی۔ 1975ء میں پنجاب یونیورسٹی کے اکثر شعبہ جات میں سالانہ سیشن کی بجائے سمسٹر سسٹم کا آغاز ہوا۔ اس سلسلے میں فضا کی تیاری سے عملی احکامات کی منظوری تک تمام مراحل طلبہ یونین کی مرہونِ منت ہیں۔ اکتوبر 1977ء میں پنجاب یونیورسٹی یونین کے صدر لیاقت بلوچ نے صدرِ پاکستان ضیاء الحق کو تعلیمی میمورنڈم پیش کیا جس کے بعد حکومت نے دس نکاتی پالیسی کا اعلان کیا جس میں عربی زبان کو چھٹی جماعت سے لازمی قرار دیا گیا۔ کراچی یونیورسٹی میں طلبہ یونین نے 105بسوں پر مشتمل ٹرانسپورٹ کا وسیع ترین نظام بحسن و خوبی چلا کر دکھایا۔اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کو ڈگری تک لازمی مضامین بنایا گیا اور پاکستان میں ایک اسلامی یونیورسٹی کے قیام کا عزم کیا گیا۔اس علاوہ اور ایسے ان گنت عنوانات ہیں جو اگر بیان کییجائیں تو ایک ضخیمکتاب مرتب کی جا سکتی ہے۔
طلبہ یونینز پرپابندی اور وجوہات:
فروری1984ء میں یکے بعد دیگرے تمام صوبوں اور وفاقی دارالحکومت میں طلبہ کے جمہوری حقوق پر شب خون مارتے ہوئے طلبہ یونین کے انتخابات پر پابندی عائدکر دی گئی۔ضیاء حکومت نے طلبہ یونینز پر پابندی لگا کر ایک تیر سے دو شکار کھیلا۔ ایک طرف تعلیمی میدان مین اپنی نا اہلی کی ذمہ داری کو طلبہ یونین کے اوپرتھوپ دیا اور دوسری طرف طلبہ کی اس قوت کو روک دیا جو ان کے پیش رو حکمرانوں کے استبدادی رویوں کیبساط لپیٹ دیتی تھی۔ پابندی کے بعد کے دور نییہ ثابت کر دیا کہ جن وجوہات کے نام پر طلبہ یونین پر پابندی لگائی گئی تھی ان کی کوئی حقیقت نہیں تھی۔ طلبہ آج یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ طلبہ یونین پر پابندی کے بعد کیا ہم نے معیارِ تعلیم کا مقررہ ہدف حاصل کر لیا ہے؟ کیا ہمارے تعلیمی اداروں میں ہونے والے لڑائی جھگڑوں، ہلاکتوں میں کوئی کمی آئی ہے؟ کیا سیاسی جماعتوں نے تعلیمی اداروں میں مداخلت ترک کر دی ہے؟ اگر ان سب کا جواب نفی میں ہے تو طلبہ یونین پر پابندی بلاجواز ہی نہیں بلکہ اسے برقرار رکھ کر حکمران قومی مفادات کو بھی نظر انداز کر رہے ہیں اور جمہوری رویوں سے بھی روگردانی کر رہے ہیں۔ اس کی وجوہات کچھ بھی ہوں لیکن سوال یہ ہے کہ اگر تعلیمی اداروں نے طلبہ میں سیاسی ذہن پیدا نہیں کرنا تو یہ سیاسی ذہن کہاں سے پیدا ہو گا؟
طلبہ یونین پر پابندی کا پیش منظر:
جب طلبہ یونین پر پابندی عائد کی گئی تو الزام لگایا گیا تھا کہ سیاسی جماعتیں طلبہ کو اپنے مقاصد کے لییاستعمال کر رہی ہیں،تعلیمی ماحول خراب اور طلبہ میں تشدد کا کلچر پروان چڑھ چکا ہے۔ میں کسی دلیل کا سہارا لئے بغیر اُسی دور حکومت میں وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر افضل کی زیرِ سربراہی وائس چانسلرز کمیٹی کی رپورٹ پیش کر رہا ہوں جو کہ طلبہ یونین پر پابندی کا جائزہ لینے کے لیے بنائی گئی تھی۔ اس کمیٹی نے 1985ء میں 14ماہ کے بعد رپورٹ جاری کیجس میں کہا گیا تھا کہ ’’جن مقاصد کی خاطر طلبہ یونین پر پابندی عائد کی گئی تھی وہ حاصل ہونے کی بجائے الٹا نقصان ہو رہا ہے۔تعلیمی اداروں میں گھٹن کا ماحول ہے اور غنڈہ گردی،تشدد اور جرائم میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔تعلیمی اداروں میں طلبہ قیادت کے بجائے قبضہ مافیا قابض ہو چکی ہے‘‘۔صرف یہی نہیں بلکہ 10مارچ1993ء کو سپریم کورٹ کے فل بینچ نے جسٹس نسیم حسن شاہ کی قیادت میں 40صفحات پر مشتمل ایک تفصیلی فیصلہ سنایا جس میں کہا گیا کہ’’ہم یونینوں کی سرگرمیوں پر اطمینان محسوس کرتے ہیں۔یہ یونین تعلیمی ضروریات کے عین مطابق اور کیمپس سے براہ راست متعلق ہیں۔لہٰذاِن کو کام کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں سٹوڈنٹس یونین کی سرگرمی اس وضاحت کے ساتھ بحال کی جا رہی ہے کہ اسے نظریاتی راستے سے نہیں ہٹایا جائے گا اور طلبہ اپنی تعلیم و تربیت اس راستے پر کر سکیں گے۔ان کے والدین، اساتذہ اور اداروں کی طرف سے انہیں معاونت اور راہنمائی حاصل ہو گی‘‘۔
2008 کے انتخابات کے نتیجے میں بننے والی حکومت کے اولین کابینہ اجلاس میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بذات خود طلبہ یونین کی بحالی کا اعلان کرنے کے باوجود انتخابات کا انعقاد نہیں کروا سکے۔ جبکہ نواز شریف حکومت نے اس حوالے سے کوئی دلچسپی ہی نہیں لی۔ موجودہ حکومت جب برسراقتدار آئی تھی تو طلبہ کو امید تھی کہ ملک میں جمہوری کلچر پھلے پھولے گا اور سابقہ آمرانہ دور میں انسانی حقوق اور بنیادی شہری آزادیوں کا جس طرح گلا گھونٹا گیا تھا انہیں ختم کر کے برداشت اور تحمل کا کلچر فروغ پائے گا۔وزیراعظم نے جس طرح انتخابات سے سو روز کے منصوبے میں یونین کے انتخابات کو اہمیت دی تھی لیکن بدقسمتی سے حکومت کئی دیگر واقعات کی طرح طلبہ سے کیے گئے اس واحد وعدے کو عملی شکل نہیں دے سکی اور طلبہ یونین کے مطالبے کو اپنے منصوبے سے نکال کر یوٹرن لیکر ایک بار پھر لیڈر بننے کی کوشش کی۔
موجودہ وقت میں طلبہ یونین کی اہمیت و ضرورت؟
طلبہ کسی بھی تعلیمی ادارے کا سب سے اہم حصہ ہیں بلکہ تعلیمی ادارے کا قیام تدریسی اور غیر تدریسی عملے کا تقرراور پورے تعلیمی ماحول کا قیام کا اصل مقصد طلباء کی بہترین تعلیم اور تربیت کے لیے کی جاتی ہے۔ اس لیے ادارے کے اندر تمام اہم معاملات اور فیصلہ سازی میں طلبہ کی رائے کو شامل کرنا ان کا بنیادی حق بھی ہے اور قومی ضرورت بھی۔ طلباء یونینز پر پابندی کے نتیجے میں پاکستان کی قومی سیاست میں درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والے نظریاتی قیادت کا داخلہ بند ہو گیا۔ نتیجے میں پاکستانی سیاست پر جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور ٹھیکہ داروں کے پنجے اور مضبوط ہو تے گئے اوروطن عزیز بدعنوانی اور اقربا پروری کی دلدل میں دھنستا گیا۔