ایران نے نیا میزائل بنالیا ،امریکا سیخ پا

84

تہران/ واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) ایرانی پاسداران انقلاب نے دزفول نامی زمین سے زمین پر مار کرنے والا ایک ایسا میزائل تیار کرلیا، جس کی مسافت ایک ہزار کلومیٹر ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ میزائل ایران کے ایک خفیہ اور زیر زمین کارخانے میں تیار کیا گیا، جس کی تقریب رونمائی سے خطاب کے دوران فوج کے کمانڈر محمد علی جعفری نے کہا کہ زیر زمین کارخانے کی سرگرمیوں کا جاری رہنا مغرب کے منہ پر طمانچہ ہے، جو اس خام خیالی میں ہیں کہ وہ ایران کو اپنے مقاصد پورا کرنے سے روک سکیں گے۔ جعفری نے کہا کہ ہماری دفاعی استعداد کسی مذاکرات کی محتاج نہیں۔ ہمیں یورپ کی پابندیوں کی پروا بھی نہیں ہے، کیوں کہ ہماری دفاعی صلاحیتیں ہمارا افتخار ہیں جنہیں جاری رکھا جائے گا۔ دزفول میزائل کا فاصلہ 700کلومیٹر مسافت کے حامل ذوالفقار نامی میزائل سے 300 کلومیٹر زیادہ ہے، جو اس سے دو گنا تباہ کن بھی ہے۔ دوسری جانب امریکا بھی ایران کا میزائل پروگرام ترک کرانے کے لیے پُر عزم رہے گا۔ یہ بات امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے ایک پریس بریفنگ میں کہی۔ اس بارے میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے جمعرات کی شب اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں لکھا کہ تازہ پیش رفت یہ ثابت کرتی ہے کہ تہران حکومت اپنے میزائل پروگرام کو ترک کرنے کے معاملے میں سنجیدہ نہیں۔ امریکی وزیر خارجہ نے زور دیا کہ عالمی برادری کی جانب سے ایران کے خلاف زیادہ سخت پابندیاں عائد کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ایران کی جانب سے ایک بار پھر میزائلوں کا داغا جانا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ جوہری معاہدے نے ایران کے میزائل پروگرام کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران بیلسٹک میزائلوں کے میدان میں اپنی صلاحیتوں میں اضافے پر کام کر کے سلامتی کونسل کو چیلنج کر رہا ہے۔ پومپیو نے باور کرایا کہ ایرانی میزائل پروگرام پر روک لگانے کے لیے زیادہ سخت بین الاقوامی پابندیاں عائد کی جانی چاہییں۔ امریکی وزارت خارجہ نے جمعرات کے روز اعلان کیا تھا کہ اسے بعض رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ ایران نے گزشتہ ماہ فضا میں سیٹلائٹ چھوڑنے کی ناکام کوشش کی۔ امریکی وزارت خاجہ نے تہران نے مطالبہ کیا کہ وہ ان سرگرمیوں کو روک دے، جن سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان روبرٹ بیلاڈینو نے کہا کہ ہم ایرانی نظام سے ہم سے یہ مطالبہ کرتے رہیں گے کہ وہ ان تمام سرگرمیوں کو فوری طور پر روک دے جو سلامتی کونسل کی قرار داد 2231 کے ساتھ متصادم ہے۔ ان سرگرمیوں میں خلائی سواریوں کا بھیجا جانا بھی شامل ہے۔ یاد رہے کہ معروف امریکی خبر رساں ایجنسی نے جمعرات کے روز اپنے طور پر بتایا تھا کہ سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر ظاہر کرتی ہیں کہ ایران نے 2 روز قبل خلا میں ایک سیٹلائٹ بھیجنے کی ناکام کوشش کی۔ خبر رساں ایجنسی نے دنیا بھر میں راکٹوں اور سیٹلائٹس کے خلا میں بھیجے جانے کی نگرانی کرنے والی کمپنی ڈیجیٹل گلوب کے حوالے سے بتایا کہ منگل کے روز ایران کے شمالی صوبے سمنان میں امام خمینی مرکز سے ایک راکٹ چھوڑا گیا۔ بدھ کے روز سامنے آنے والی تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ راکٹ غائب ہو گیا، جب کہ لانچنگ پلیٹ فارم پر آگ لگنے کی علامات نظر آئیں۔ اُدھر ایران کے مذہبی رہنما علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ برائیوں اور تشدد کی علامت ہے۔ اب ہمیں یورپ پر بھی اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔ ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق خامنہ ای نے دارالحکومت تہران میں فضائیہ کے ہیڈ کوارٹر میں فوجی افسران کو خطاب کرتے ہوئے امریکا اور یورپی ممالک کو اپنا نشانہ بنایا۔