(برعظیم کی تحریکات اور جدوجہد آزادی (باب دوم

73

مذہبی اسباب
ہندوستانیوں کی بے چینی کا ایک اہم سبب عیسائی مشنریوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں تھی۔ عیسائی مذہب قبول کرنے والوں کے لیے نئے قوانین وضع کیے گئے تاکہ ان کی موروثی جائداد سے انہیں محروم نہ کیا جاسکے اس کے علاوہ انہیں دولت اور پر وقار معاشرتی ترغیبات فراہم کی گئیں۔ علاوہ ازیں مشنریوں کو اسکول اور کالج کھولنے کے مواقع فراہم کیے گئے۔ وہ ہندو اور مسلم اجتماعات اور میلوں میں جاکر عیسائیت کی تبلیغ کرنے لگے۔ انگریزی زبان کو متعارف کرنے سے ہندوستانی عوام کے جذبات مجروح ہوئے۔
ایک پادری فادر ایڈ منڈ نے تمام حکومتی عہدے داروں کو خطوط لکھے کہ وہ عیسائی مذہب قبول کرلیں۔ اسی طرح انگریز مستقل طور پر ہندوؤں اور مسلمانوں کی مذہبی سرگرمیوں میں بے جا مداخلت کرتے رہے ان کے مذہبی جلوسوں پر امن و امان میں خلل کا بہانہ کرکے پابندیاں لگادیں اس سلسلے میں حیدر آباد دکن کے قریب چند مسلمان گھڑ سواروں نے محرم کے جلوس پر پابندی لگانے پر کرنل کولن میکنزی پر قاتلانہ حملہ کیا۔
فوجی اسباب
برطانوی فوج میں کام کرنے والے ہندوستانی سپاہیوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیاں بھی حد سے تجاوز کر گئی تھیں۔ ایک انگریز سپاہی کی تنخواہ مقامی سپاہی کی تنخواہ سے کئی گنا زیادہ تھی۔ ہندوستانی سپاہیوں کے حوصلے بہت پست تھے کیوں کہ ترقی پانے کے لیے عرصہ ملازمت کی طوالت (سینیارٹی) کو ملحوظ رکھا جاتا تھا اور لائق فوجی افسروں کو فوج سے ہٹا کر سول عہدوں پر مامور کردیا جاتا تھا۔ مقامی سپاہی اس قسم کے امتیاز سے سخت نالاں تھے۔ برطانوی سپاہی کو ملازمت سے ۷۰ سال کی عمر میں سبک دوش کیا جاتا تھا جبکہ ہندوستانی سپاہی کے لیے یہ عمر ۵۵ سال مقرر تھی۔ برما اور افغانستان کے خلاف جنگوں میں ہندوستانی سپاہیوں کو دور دراز علاقوں میں لڑنے کے لیے بھیجا گیا۔
جنگ آزادی کی ناکامی کی وجوہ
جنگ آزادی میں ناکامی کے اسباب بڑے واضح نوعیت کے تھے۔ دنیا میں مناسب منصوبہ بندی‘ جنگی وسائل‘ باہمی روابط اور تنظیم کے بغیر کسی جنگ میں کامیابی نہیں ہوسکتی۔ پھر یہ جنگ تو اس وقت دنیا کی ایک بہت بڑی طاقت اور ایک پس ماندہ قوم کے ایک محدود طبقہ کے درمیان لڑی گئی۔
جنگ کی محدود علاقائی نوعیت
جنگ آزادی دراصل شمالی ہندوستان کے ایک محدود علاقے اور عوام کے چند طبقات کی طرف سے لڑی گئی۔ ہندوستان کا ایک بڑا علاقہ اور اس کی آبادی اور کئی مقامی حکمرانوں نے اس سے لا تعلقی برتی خصوصاً دریائے نربدا کا جنوبی علاقہ‘ سندھ‘ پنجاب‘ سرحد اور راجپوتانہ مکمل طور پر انگریزوں کے وفادار رہے۔ وسطی اور مشرقی بنگال اس جنگ میں بالکل غیر جانبدار رہا۔ پنجابیوں کی خاموشی یا ایک طرح سے جانبداری نے حکومت برطانیہ کی یک گونہ مدد کی۔ یہی نہیں بلکہ پنجابیوں نے لاہور‘ ملتان اور پشاور میں بنگالیوں سے جو مقامی فوج میں شامل تھے ہتھیار چھین لیے اور ان پر پہرہ بٹھا دیا۔ بغاوت کرنے والی رجمنٹوں کو فوج سے نکال دیا گیا۔ یہ پنجاب کی کمک ہی تھی جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انگریز اپنی مزید فوج دہلی بھیجنے میں کامیاب ہوئے۔ پنجاب کی وفاداری پر انگریزوں کو اتنا اعتماد تھا کہ انہوں نے اپنی ساری افواج پنجاب سے نکال کر دہلی پر حملہ کرنے کے لیے روانہ کردی تھیں اس سنہری موقع سے بھی اہلِ پنجاب نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔
سرہند کے سردار نے اس جنگ میں انگریزوں کی بڑی مدد کی۔ سر ڈنکار راؤ اور سالار جنگ نے سندھیا اور نظام کے علاقوں میں امن قائم رکھا۔ اگر یہ سردار انگریزوں سے وفاداری نہ کرتے تو ان کے لیے بڑی مشکلات پیدا ہوسکتی تھیں۔
اہل قیادت کا فقدان
اس جنگ کے دوران مقامی افواج کے لیے اچھے فوجی جرنیل دستیاب نہ تھے۔ صرف جنرل بخت خان ہی وہ واحد جرنیل تھا جس نے انگریزوں کا صحیح طرح مقابلہ کیا لیکن وہ بھی تمام مقامی افواج کا سپہ سالار نہ تھا اور دوسرے شہزادوں کی فوجی نا اہلیت کی وجہ سے مقامی فوج منظم نہ ہوسکی۔ جھانسی کی رانی ذاتی طور پر بڑی بہادر تھی لیکن وہ بھی ایک با صلاحیت فوجی جرنیل ثابت نہ ہوسکی۔ مغل فوج کی سربراہی نالائق اور کم ہمت شہزادوں کی کمان میں تھی۔ یہ جنگ بغیر کسی منصوبہ بندی کے شروع کی گئی اور جس کا منطقی نتیجہ شکست کی شکل میں رونما ہوا۔
دوسری طرف انگریزی افواج کو ہڈسن‘ سر ہنری لارنس‘ سرکولن کیمپ بیل‘ ہیولاک اور ہگ روز جیسے لائق فوجی جرنیلوں کی خدمات حاصل تھیں انہوں نے بڑے منظم انداز میں مختلف تکنیکی مہارتوں کو استعمال کرتے ہوئے مقامی فوجوں کو شکست دی۔ ان کی جنگی حکمت عملیاں ہندوستانیوں کے مقابلے میں بہت زیادہ جدید اور بہترین تھیں۔
جدید جنگی ہتھیاروں کی کمی اور عدم دستیابی
تکنیکی نقطہ نظر سے اس جنگ میں جنگی ہتھیاروں کے استعمال کے معاملہ میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ ہندوستانیوں نے یہ جنگ تلواروں اور نیزوں جیسے قدیم اور فر سودہ ہتھیاروں سے لڑی۔ عملی طور پر انگریزوں کے جدید اور کثیر مقدار میں آتشیں اسلحہ کے مقابلہ میں ہندوستانی تقریباً غیر مسلح تھے۔ جو کچھ انہوں نے انگریزوں سے چھینا تھا وہ چند روز کی لڑائی میں استعمال ہو گیا جب کہ دوسری طرف انگریزی سپاہ کو اسلحہ اور گولہ بارود کی مستقل فراہمی جاری رہی۔ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے بہت بڑی تعداد میں افواج کو فی الفور ہندوستان بھیج دیا ہندوستانی جو فرسودہ ہتھیاروں سے لڑرہے تھے وہ کسی طرح بھی برطانوی افواج کا مقابلہ کرنے کے قابل نہ تھے۔
اتحاد اور مالی وسائل کی کمی
جنگ کے دوران مہا جنوں (روپیہ قرض دینے والوں) کو دیہاتیوں نے اپنے حملوں کا ہدف بنا رکھا تھا۔ کسانوں اور کاشت کاروں نے مال گزاری کی آمدنی اور مہاجنوں کے حسابی کھاتے تلف کردیے تھے۔ اس لیے مہاجن جنگ آزادی کے سخت خلاف ہوگئے۔ تاجروں کے پاس موجود غلے کے اسٹاک کو فوجیوں کی خوراک کا انتظام کرنے کے لیے ضبط کرلیا گیا۔ تاجروں نے اکثر اپنی دولت اور سامان تجارت کو چھپانا شروع کردیا اور باغی فوجیوں کو مفت اناج کی رسد فراہم کرنے سے انکار کردیا۔ بنگال کے زمیندار (جو اکثر ہندو تھے) برطانوی لوگوں کے وفادار رہے۔ بمبئی‘ مدراس اور کلکتہ کے بڑے تاجروں نے بھی برطانیہ کا ساتھ دیا کیوں کہ ان کا اصل منافع غیرملکی تجارت اور برطانوی تاجروں سے معاشی تعلقات پر منحصر تھا۔