تین روزہ بین القوامی نمائش و کانفرنس میری ٹائم اینڈ سی بورڈ ایشیاء5 مارچ سے ایکسپو سینٹر کراچی میں منعقد ہوگی۔

32

کراچی(اسٹاف رپورٹر) سابق کمانڈر پاکستان فلیٹ ریئر ایڈمرل ریٹائرڈ عارف اللہ حسینی نے کہا ہے کہ ملکی برآمدات اور سیاحت کے فروغ کیلئے ہمیں بند راستے کھولنا ہونگے۔ پاکستان کے سمندروں میں لامحدود خزانے چھپے ہیں جہیں آج تک تسخیر نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی ٹیکسٹائل، اور دیگر شعبوں کے ساتھ شپنگ اور فشنگ کے شعبے کی ترقی کے لئے اپنا ویڑن دے ساحلی پٹی سے ملکی خزانہ بڑے زر مبادلہ سے بھر سکتا ہے۔ ای کامرس گیٹ وے کے تحت 5 مارچ سے شروع ہونے والی تین روزہ بین القوامی میری ٹائم اور سی بورڈ ایشیاء نمائش و کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ریئر ایڈمرل ریٹائرڈ عارف اللہ حسینی نے کہا کہ آج دنیا کا محور بحیرہ عرب اورخصوصا” پاکستان ہے اور اس اہمیت کے احساس کے ساتھ ہمیں اپنے مستقبل کو مستحکم کرنے کے لئے جدید خطوط پر سمندری وسائل کے استعمال پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔

فیڈریشن ہاؤس میں تین روزہ بین القوامی نمائش میری ٹائم اور سی بورڈ ایشیاء کی سافٹ لاونچنگ تقریب سے یونائٹڈ بزنس گروپ کے پیٹرن انچیف ایس ایم منیر، ایف پی سی سی آئی کے صدر انجینئر دارو خان اچکزئی، سینئر نائب صدر ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ، نائب صدر اسماعیل ستار، کے علاوہ سابق سینئر نائب صدر خالد تواب، ای کامرس کے صدر ڈاکٹر خورشید نظامی، کیپٹن حلیم اور پاکستان شپنگ اور فشننگ انڈسٹری کے رہنماؤں نے اظہار خیال کیا۔

ایڈمرل ریٹائرڈ وارف اللہ حسینی نے کہا کہ امریکہ کی طاقت کا راز باہمی ربط کنیکٹیویٹی ہے جسے چین نے اپناتے ہوئے سڑکوں اور ریل نظام کا جال بچھایا ہے جو گوادر تک پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل سے ہمارے سمندروں میں طوفان نہیں آتے ہم سال کے بارہ ماہ سمندر سے کاروبار کرسکتے ہیں۔

عارف اللہ حسینی نے کہا کہ میری ٹائم انوسٹمنٹ سیکٹر کے فروغ کے کیلئے بزنس کمیونٹی اپنی تجاویزمرتب کرے تاکہ اس شعبے سے لامحدود فوائد حاصل کئے جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آبی حیات مفت مل رہی ہے لیکن اس کاروبار کی ترقی کیلئے جدید ٹیکنالوجی اپنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب روایتی طریقہ بین القوامی سطح پر قابل قبول نہیں۔ عارف اللہ حسینی نے کہا کہ مالدیپ تونہ مچھلی کے شکار کے جدید انداز اپنا کر بھاری زر مبادلہ حاصل کررہا ہے۔ 

یو بی جی کے پیٹرن انچیف ایس ایم منیر نے کہا کہ آبی وسائل سے پاکستان کو صرف 500 ملیئن ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہورہا ہے اگر حکومت تاجر طبقے کی حوصلہ افزائی کرے تو زر مبادلہ 2 ارب ڈالر سے تجاوز کرسکتا ہے۔ ایس ایم منیر نے کہا کہ رواں سال حکومتی کوششوں سے ہماری مجموعی برآمدات 27ارب ڈالر تک جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جہاں پاکستان کا مفاد ہوگا تاجربرادری اسی سمت اپنی توانائیاں استعمال کرے گی۔

ایف پی سی سی آئی کے صدر انجینئر داروخان اچکزئی نے کہا کہ موجودہ حکومت پاکستان کی ترقی کے لئے سنجیدہ سوچ رکھتی ہے جس کی آبیاری کیلئے ایف پی سی سی آئی بھرپور ساتھ دے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سمندر، ساحلی پٹی اور ساحلی سیاحت کے لئے میرین انوسٹمنٹ بورڈ کو فعال کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بین القوامی سطح پر پاکستان کی سمندری خوراک کے فروغ کیلئے جدید تکنیک اپنانے کی ضرورت ہے۔ 

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ مچھلی پکڑنے کے روایتی انداز اور جال کی بجائے ہمیں بین القوامی سطح پر رائج طریقہ کار کو اپنانا ہو گا انہوں نے کہا کہ ای کامرس گیٹ وے کے تحت تین روزہ بین القوامی میری ٹائم اور سی بورڈ نمائش و کانفرنس پاکستان کے سمندری خزانوں اور ساحلوں کی ترقی کیلئے سنگ میل ثابت ہوگی۔ 

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر اور یوبی جی کے رہنماء خالد تواب نے کہا کہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کو فعال کرنے اور جہاز رانی کی صنعت کی ترقی کیلئے وفاق اپنا کردار ادا کرے۔ 

انہوں نے کہا کہ ماہی گیروں کی جدید خطوط پر تربیت، کولڈ اسٹوریج کے نظام اور آکشن ہالز کی بہتری کیلئے ہمیں بین القوامی طریقہ کار اپنانے ہونگے۔ ای کامرس گیٹ وے کے صدر ڈاکٹر خورشید نظامی نے کہا کہ تین روزہ بین القوامی نمائش و کانفرنس میری ٹائم اینڈ سی بورڈ ایشیاء5 مارچ سے ایکسپو سینٹر کراچی میں منعقد ہوگی۔