جنوبی ایشیاء میں اسلام۔ ایک پس منظر (باب اول)

77

 

محمود عالم صدیقی

حیدر علی (۱۷۲۲۔ ۱۷۸۲ء) اور ٹیپو سلطان شہید (۱۷۵۲۔۱۷۹۹ء)
حیدر علی جو میسور کے راجا کی فوجی ملازمت میں تھا۔ بہادری اور صلاحیتوں کے سبب بہت جلد ترقی کرکے میسور کی افواج کا سپہ سالار بن گیا۔ اس نے مرہٹوں کو شکست دے کر ان تمام علاقوں پر قبضہ کرلیا‘ جو مرہٹوں کے زیرنگیں رہ چکے تھے۔ میسور کی پہلی جنگ انگریزوں‘ نظام الملک اور مرہٹوں کی مشترکہ فوج اور حیدر علی کے مابین ۱۷۶۷ء۔ ۱۷۶۹ء کے دوران ہوئی‘ جس میں حیدر علی کی افواج نے مدراس کے معرکے میں انگریزوں‘ مرہٹوں اور نظام دکن کو ناک چنے چبوائے۔ ۱۷۶۱ء سے ۱۷۸۲ء تک یہ تینوں قوتیں حیدر علی کا کچھ نہ بگاڑ سکیں اور یہ بہادر اور جری مسلمان حکمراں ۷؍ دسمبر ۱۷۸۲ء میں ارکاٹ کے قریب انتقال کرگیا۔ اس کی موت سے انگریزوں کے اکھڑتے قدم دوبارہ جمنے شروع ہوگئے۔ ٹیپو سلطان ۲۰؍ نومبر ۱۷۵۲ء کو پیدا ہوا اور پندرہ سال کی عمر سے اپنے والد حیدر علی کے ساتھ معرکوں اور جنگوں میں شریک ہوتا رہا۔ حیدر علی کی تربیت نے ٹیپو کو فنون جنگ میں پورے طور پر طاق کردیا تھا۔ اپنی خداداد صلاحیتوں سے ایک بڑا سپاہی اور لائق جنرل بن گیا۔ اس نے ۱۷۷۴ء میں اپنے والد اور والدہ دونوں کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے ایک ہی دن دو شادیاں کیں۔
اس نے میر صادق کو دیوان (وزیراعظم) اور پورنیا کو وزیر مالیات مقرر کیا۔ ٹیپو نے ہر معرکے میں داد شجاعت دی اور دشمنوں کے دانت کھٹے کردیے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک ٹیپو سلطان کا نام تاریخ میں سنہرے حرفوں سے کندہ ہے۔ اس کا ایک اہم کارنامہ وہ تھا جب حیدر نگر کے باغیوں کے خلاف ایک سخت مقابلے کے بعداسے کامیابی حاصل ہوئی۔ دشمن کے اسی (۸۰) ہزار غیر مسلم قیدی بنالیے گئے جو بعد میں اپنی خوشی سے مسلمان ہوگئے۔
میسور کی دوسری جنگ سلطان ٹیپو اور انگریزوں مرہٹوں کے درمیان لڑی گئی۔ جس میں ٹیپو کو فتح ہوئی۔ سلطان اور انگریزوں کے درمیان صلح نامہ بنگلور ہوا۔ سلطان کو میسور کا نواب تسلیم کیا گیا لیکن عیاری اور مکاری سے کام لیتے ہوئے سلطان کی بڑھتی ہوئی طاقت سے خائف ہوکر نظام دکن اور مرہٹوں کو اپنے ساتھ ملا لیا اور سلطان پر تیسری جنگ مسلط کردی۔
ان تینوں اتحادیوں نے ایک بڑی مسلح فوج کے ساتھ سلطنت میسور پر حملہ کیا اور بنگلور پر قبضہ کرلیا اور سرنگاپٹم کے قلعے کا محاصرہ کرلیا‘ جو کافی دنوں تک جاری رہا۔ اس دوران سلطانی فوج نے فرنگی فوج کی رسد بند کرادی اور اس کو محاصرہ چھوڑ کر پسپا ہونا پڑا۔ بعد میں برسات کے موسم کے بعد لارڈ کارنوالس نے دوبارہ مرہٹوں اور نظام کو اپنے ساتھ ملاکر سرنگا پٹم پر حملہ کیا۔ سلطان کو اپنی والدہ کے خط سے قلعہ داروں کی غداریوں کا علم ہوا‘ جس کی وجہ سے اتحادی فوجیں سرنگاپٹم پہنچ گئی تھیں‘ کیوں کہ اس کے غدار قلعہ داروں نے اپنے قلعے اتحادیوں کے حوالے کردیے تھے۔ پھر بمبئی سے اتحادیوں کو مزید کمک پہنچ گئی۔ مگر سلطان نے اپنی فوج کی صورت حال دیکھ کر مجبوراً صلح کے لیے ایلچی بھیجے اور ۱۷ فروری ۱۷۹۲ء کو صلح کی کڑی شرائط طے پائیں‘ جن کے تحت سلطان کو اپنے دونوں شہزادوں کو بطور یرغمال انگریزوں کے سپرد کرنا پڑا۔ کروڑوں روپے تاوان اور ۳ کروڑ کا علاقہ اتحادیوں کے لیے خالی کردینا شامل تھا۔
میسور کی چوتھی اور آخری جنگ
لارڈ ولزلی جب ہندوستان کا گورنر جنرل مقرر ہوا تو اس نے ٹیپو سلطان کی سلطنت کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا۔ اس نے افغانستان میں بغاوت کرادی تاکہ وہاں کا بادشاہ میسور کی مدد نہ کرسکے۔ ایران سے افغانستان پر حملہ کروادیا۔ اس نے سلطان ٹیپو کے امراء اور وزراء کو خرید لیا۔ جنرل ہیرس کی سرکردگی میں بھاری فوج اور اس کی اتحادی فوجیں دو طرف سے سلطنت میسور پر حملہ آور ہوئیں اور بلاروک ٹوک اپنی منزل مقصود سرنگاپٹم تک پہنچ گئیں۔ ٹیپو سلطان کے غدار اور نمک حرام افسران اہم کردار ادا کررہے تھے اور انگریزی فوج کو سلطان ٹیپو کی تمام نقل و حرکت کی پل پل کی خبر دے رہے تھے۔ لیکن ٹیپو نے ہمت نہ ہاری۔ انگریزوں سے دلیرانہ انداز سے صلح کی کوشش ضرور کی‘ لیکن ذلت آمیز شرائط کو نہیں مانا اور بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا اور اپنے اس تاریخی قو ل کو اپنے عمل سے ثابت کردیا کہ
’شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سوسالہ زندگی سے بہتر ہے‘
سلطان ٹیپو نے اپنے بارہ ہزار جانثار سپاہیوں کے ہمراہ جام شہادت نوش کیا اور ہزاروں دشمنوں کو تہ تیغ کیا۔ شہادت پانے والوں میں حرم سلطان کی خواتین بھی شامل تھیں۔ شہادت کے وقت سلطان کی عمر ۴۸ سال تھی۔ ہندوستان میں انگریزوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ حیدر علی اور آخر میں ٹیپو سلطان تھے‘ جن کے خاتمے کے بعد انہوں نے جشن فتح بڑے دھوم دھام سے منایا۔
غداروں کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے جن میں میر صادق وزیراعظم‘ پورنیا‘ میر قاسم‘ میر معین الدین‘ میر قمر الدین‘ بدرالزمان باسط‘ میر غلام علی لنگڑا اور کشن راؤ جیسے ننگ وطن شامل تھے۔ نتیجے کے طور پرانگریزوں کی غلامی ہندوستانیوں پر صدیوں کے لیے مسلط ہوگئی۔