اٹھارویں ترمیم کو نہیں کچھ شخصیات کے مفادات کو خطرہ ہے،شاہ محمود

23
ملتان: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں
ملتان: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں

اسلام آباد (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ18 ویں ترمیم نہیں، کچھ شخصیات کے مفادات کو خطرہ ہے‘ صحافیوں کا کام حکومت بنانایا گرانا نہیں رپورٹنگ کرنا ہے‘ پی پی اور ن لیگ میں ڈیل ہو رہی ہے‘ احتساب کے عمل کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں‘ کشمیر پر لندن عالمی کانفرنس میں بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب کریں گے‘ مودی حکومت اپنے معاملات پاکستان پر نہ ڈالے۔ ہفتے کو ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت میں جو بھی حکومت آئے گی‘ اگر وہ پاکستان کے ساتھ ٹھیک ہوگی تو ہم بھی اس کے ساتھ ٹھیک چلیں گے‘ہمارا بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں‘ وہ اپنے معاملات پاکستان پر نہ ڈالے‘ ہم نے اگر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے میر واعظ عمر فاروق سے رابطہ کیا ہے تو ایسا کیا ہوگیا‘ کشمیر ایک حل طلب مسئلہ ہے جسے اجاگر کرنے سے بھارت خوامخوا سیخ پا ہوتا ہے‘ برطانوی دارالعوام کے آل پارٹیز پارلیمانی گروپ کی جانب سے کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف منعقدہ عالمی کانفرنس میں پاکستان کا موقف بھرپور طریقے سے پیش کرتے ہوئے بھارت کا اصل چہرہ دنیا کو دکھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ چند ماہ میں سفارتی سطح پر بے شمار کامیابیاں حاصل کی ہیں‘ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی ہے‘19فروری کو سعودی عرب کے ولی عہد پاکستان تشریف لا رہے ہیں‘ وہ ایک بہت بڑی سرمایہ کاری کا اعلان کریں گے‘ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر تینوں دوست ممالک پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جمہوریت، 18 ویں ترمیم اور ملک کے آئین کو کوئی خطرہ نہیں ہے البتہ کئی سیاسی شخصیات کے مفادات کو خطرہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ18ویں ترمیم پر کوئی ایشو نہیں ہے‘ہم صوبوں کے اختیارات کل بھی تسلیم کرتے تھے ‘ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے ایک دوسرے پر مقدمات قائم کیے‘ کل تک جو دست وگریباں تھے‘ آج شیر وشکر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کسی کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہوئی البتہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں کوئی ڈیل ہو رہی ہیں وہ اپنی سیاسی بقا کے چکر میں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سندھ میں بلاول زرداری کو لانگ مارچ کی ضرورت نہیں‘ سندھ حکومت کو اپنی ناقص حکمرانی اور بدعنوانی سے خطرہ ہے‘ حکومت احتساب کے عمل کو شفاف طریقے سے آگے بڑھانا چاہتی ہے لیکن کچھ قوتیں احتساب کے عمل میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔