بیورو کریسی سیاسی دباؤ کے آگے سر نہ جھکائے ،حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں,چئیرمین نیب 

43
اسلام آباد: چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال اجلاس کی صدارت کررہے ہیں
اسلام آباد: چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال اجلاس کی صدارت کررہے ہیں

اسلام آباد( آن لائن) قومی احتساب بیورو (نیب )کے چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال نے وفاقی سیکرٹریز سے کابینہ ڈویژن میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیوروکریسی سیاسی دباؤ کے آگے سر نہ جھکائے،حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں۔بیورو کریسی ملک کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔بیوروکریسی کا ملکی ترقی میں اہم کردار ہے۔اعلیٰ عدلیہ سمیت ملک کے مختلف اداروں میں اہم ذمہ داریاں سر انجام دی ہیں اس لیے بیوروکریسی کے مسائل سے آگاہ ہوں ۔انہوں نے کہا کہ پروپیگنڈہ کیا گیا کہ نیب کی وجہ سے بیوروکریسی نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔نیب کے ہزاروں مقدمات کا جائزہ لیا تو بیوروکریسی کے خلاف سامنے آنے والے مقدمات نہ ہونے کے برابر تھے۔یہ مذموم پروپیگنڈہ تھا جس کا مقصد نیب پر الزام تراشی اور بیوروکریسی کی حوصلہ شکنی کرنا تھا۔انہوں نے کہا کہ نیب ملک کا بدعنوانی کے خاتمہ کے لیے نہ صرف قانون کے مطابق کام کرنے والا معتبر ادارہ ہے بلکہ قانون کے مطابق ہر شخص کی عزت نفس کا احترام کرنے کے علاوہ ان کے جائز خدشات کو قانون اور آئین کے مطابق حل کرنے پر یقین رکھتاہے۔انہوں نے کہا کہ نیب آپ کا اپنا اورانسان دوست ادارہ ہے ۔جس میں آپ کے تعاون سے مزید بہتری لائی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کرپشن کا خاتمہ نہ صرف نیب بلکہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ دار ی ہے۔ہم پاکستان کی وجہ سے آج ان اہم عہدوں پر فائزہیں ۔ہم سب کوملک نے جو کچھ دیا ہے وہ ہم پر قرض ہے اور ہمیں یہ قرض اتارنا ہے۔ہمیں ملک کی ترقی اور بدعنوانی کے خاتمہ کے لیے مل کر کام کرناہے۔انہوں نے کہا کہ 28سال قبل جن کے پا س سواری نہیں تھی وہ آج دبئی اور دیگر ممالک میں جایدادوں اور ٹاورز کے مالک ہیں ان سے یہ پوچھنا کہ یہ سب کہاں سے آیا؟ تو یہ پوچھنا کیا جرم ہے ۔انہوں نے کہا کہ 95ارب ڈالر کا قرضہ کہاں خرچ کیا گیا؟ کیا یہ پوچھناجرم ہے۔جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب اور بیورو کریسی کا تعلق کسی گروپ ، گروہ ،طبقہ ،حکومت اور کسی سیاسی جماعت سے نہیں بلکہ ہمارا تعلق پاکستان کے ساتھ ہے۔بیوروکریسی کو کوئی بھی غلط قدم اٹھانے سے پہلے دس بار سوچنا چاہیے۔ہمیشہ ملک کے مفاد میں فیصلے کریں ۔انہوں نے کہا کہ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں لیکن ریاست پاکستان ہمیشہ قائم ودائم رہے گی۔حکومت پالیسی سازی کرتی ہے لیکن اس پر عملدرآمد کرنا بیوروکریسی کا کام ہے۔بیوروکریسی کو سیاسی دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکانا چاہیے۔سزا کے خوف کی بجائے اللہ پر یقین رکھیں گے تو مشکلات حل ہوجائیں گی کیونکہ فتح ہمیشہ حق کی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی ہے ۔ہم کیوں دباؤ کے سامنے سرنگوں ہوں۔نیب پر زیادہ دباؤ آتا ہے لیکن ہم اس کا سامنا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بیوروکریسی قانون قواعد وضوابط اور آئین کے مطابق کام کرے ۔اگربیوروکریسی قانون کے مطابق کام کرے گی تو نیب آپ کو کیوں بلائے گا۔انہوں نے کہا کہ نیب احتساب سب کے لیے کی پالسی پر عمل کرتے ہوئے بلا امتیاز احتساب کر رہا ہے۔ کسی سے نا انصافی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وائٹ کالر کرائم کی تفتیش کیلیے وقت اور احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے ۔بیرون ملک جایدادوں کا سراغ لگانے کیلیے میوچل لیگل اسٹنس کا سہارا لیاجاتا ہے۔ماضی میں جن کے خلاف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا جا سکتا تھا وہ آج پس زنداں ہیں۔