اسٹریٹ کرائم کے خاتمے کے لیے پنجاب پولیس بلالیتے ہے،سندھ ہائی کورٹ

57

کراچی: سندھ بھر میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں اضافے پر سندھ ہائی کورٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ پولیس ناکام ہوچکی ہے۔ پنجاب سے پولیس کو بلالیتے ہیں ایک ہی دن میں اسٹریٹ کرائم کا خاتم ہو جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس آفتاب گھورڑ اور جسٹس امجد علی سہتو پر مبنی 2 رکنی بینچ نے روبرو اسٹریٹ کرائم میں اظافے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔دائر درخواست میں درخواست  گزار مزمل ممتاز نے موقف اختیار کیا کہ   شہر میں ایک بار پھر سے اسٹریٹ کرائم بڑھ رہا ہے۔ملزم سرعام شہر یوں کے درمیان اسلحہ لیکر دنداتے پھرتے  ہے لیکن تاحال پولیس ان کو   گرافتار کرنے میں ناکام ہے ۔

درخواست  گزار نے مزید کہا کے ڈی آئی جیز سے دریافت کیا جائے کے شہر میں کتنے مقدمات درج ہو رہے ہیں۔ سپریم کورٹ بھی کراچی بدامنی کیس میں اس بارے میں حکم دے چکی ہے۔

موبائل فونز چھیننے کی واقعات کی اصل تعداد کے لیے موبائل فونز کمپنیوں سے بھی مدد لی جائے۔

جسٹس آفتاب احمد گورڈ نے ریماکس دیئے اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں کی میڈیا پر خبریں دیکھ کر  بہت افسوس ہوتا ہے۔ سندھ پولیس کا  اگر یہی حال رہا تو پوری زندگی اسٹریٹ کرائم ختم نہیں ہو گا۔عدالت نے مزید کہا کہ پنجاب سے پولیس کو بلالیتے ہے  ایک دن میں اسٹریٹ کرائم میں کمی نظر آئے گی۔

 عدالت نے 19 فروری کو آئی جی سندھ اور دیگر کو رپورٹس پیش کرنے کا حکم دے دیا۔