سرمایہ دارانہ نظام کے سارے بجٹ یکساں ہوتے ہیں،سود ختم کیا جائے،سراج الحق

98
اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کایورپی یونین کے سفیر جین فرانکوئز ودیگرسے ملاقات کے بعد گروپ فوٹو
اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کایورپی یونین کے سفیر جین فرانکوئز ودیگرسے ملاقات کے بعد گروپ فوٹو

اسلام آباد(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے پارلیمنٹ میں بجٹ پر بحث کے دوران خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ موجودہ بجٹ بھی سابق پیش کیے گئے بجٹوں کا تسلسل ہے ۔ جب تک ملک میں سرمایہ دارانہ نظام ہے ، ہر حکومت کے پیش کردہ بجٹ کا محور خاص کلاس ہوگی ۔ منی بجٹ اس لیے پیش ہوتے ہیں کہ تخمینے، توقعات اوراعداد و شمار غلط ہوتے ہیں ۔ ہماری حکومتوں کے فیصلے وقتی ، جذباتی اور سیاسی ہوتے ہیں ۔ حکومت اب بھی خواہشات اور خوابوں کی دنیا میں ہے ۔ ہر حکومت کا اپنا سقراط ، بقراط اور افلاطون ہوتاہے ، کیونکہ منصوبہ بندی نہیں ہوتی ۔ ہمارے ہاں ہر بجٹ شارٹ ٹرم کا اور ترقی یافتہ دنیا میں لمبے عرصے کی منصوبہ بندی ہوتی ہے ، ہمارے ہاں حکومت کی تبدیلی سے سارے منصوبے تبدیل ہو جاتے ہیں ۔ سینیٹر سرا ج الحق نے کہاکہ دنیا کی 25 ویں بڑی معیشت ہونے کے باوجود ہماری فی کس آمدنی بنگلا دیش اوربھارت سے بھی کم ہے ۔ پاکستان کی فی کس آمدنی 1641 ڈالر سالانہ ہے جبکہ ملائیشیا میں 9800 ڈالر فی کس ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے ہاں بجٹ میں تعلیم پر 2.7 فیصد خرچ ہوتاہے جو سری لنکا بھوٹان او ر افغانستان سے بھی کم ہے ۔ 65 فیصد نوجوانوں کے لیے بجٹ میں کوئی پروگرام نہیں رکھا گیا ۔ 3 سو اشیا کی قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی متاثر ہوگا۔ افراط زر میں 3.8 سے 7 فیصد تک اضافہ تباہ کن ہے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے ، لیکن کسان بھوکا سوتاہے ۔ قابل کاشت زمین صرف 39.7 فیصد ہے اور 60 فیصد سے زیادہ زمین کو قابل کاشت بنانے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ۔ حکومت نے بڑے دعوے کیے تھے کہ ہم نئے ٹیکس نہیں لگائیں گے اور مہنگائی میں اضافہ نہیں ہوگا جبکہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عام آدمی پر 227 ارب اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کر کے 165 ارب کا بوجھ ڈالا گیا۔ شرح سود میں اضافے سے بھی عام آدمی متاثر ہوا ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ یہ بات عجیب ہے کہ حکومت نے اعلان کیا تھاکہ ہم پہلے2 دن میں 2 سو ارب ڈالر باہر سے لائیں گے لیکن بیرونی سرمایہ کاری میں پہلے 6 ماہ کے دوران 77 فیصد کمی آئی ہے ۔ حکومت نے ترقیاتی بجٹ پر 125 ارب کا کٹ لگا کر4 سو سے زائد ترقیاتی منصوبے ختم کیے ہیں اور 2240 ارب کا قرض چڑھا کر نیا ریکارڈ قائم کیاہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی ایمنسٹی پالیسی این آر او کی نئی شکل ہے ۔ ہم نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ سودی نظام کا خاتمہ اور غیر ترقیاتی اخراجات ختم کیے جائیں ۔ غیر ضروری اشیا کی درآمد پر پابندی لگائی جائے اور مردہ صنعتی یونٹس کو بحال کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ صنعتی و زرعی ترقی کے لیے بجلی ، تیل اور گیس کی قیمتوں میں کمی ضروری ہے ۔ بجٹ میں زرعی ، صنعتی اور ایف بی آر کی اصلاحات کا کوئی منصوبہ نہیں ۔ اس بجٹ سے عام آدمی کو ریلیف ملنے کے بجائے مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ ظلم یہ ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا عام آدمی کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔ انہوں نے کہاکہ وزیر خزانہ کی خوش کن تقاریر اور بیانات اپنی جگہ مگر عام آدمی کے چہرے پر خوشی کی کوئی لہر نظر نہیں آتی بلکہ مایوسی اور ناامیدی بڑھتی جارہی ہے ۔
لاہور (نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے یورپی سفیروں سے ملاقات میں مطالبہ کیاہے کہ بھارت کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کے نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم کو بند کرانے میں کردار ادا کریں، کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کا حق دلایا جائے ۔ ملاقات میں ڈنمارک اور یورپی یونین کے سفیر ، برطانیہ و جرمنی کے سینئر سفارتکار آزاد کشمیر اسمبلی کے رکن عبدالرشید ترابی ، نائب امیر جماعت اسلامی میاں محمد اسلم، ڈائریکٹر شعبہ امور خارجہ عبد الغفار عزیز اور عابد خواجہ شریک ہوئے۔ امیر جماعت اسلامی کی بریفنگ سے پہلے سفارتکاروں کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تازہ ڈاکومنٹری بھی دکھائی گئی۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ70 سا ل سے بھارتی ظلم ستم سہنے کے باوجود کشمیری عوام اپنے حق آزادی سے دست بردار نہیں ہوئے۔ پاکستانی حکومتوں سمیت دنیا میں کسی نے ان کی مطلوبہ مدد نہیں کی اور نہ ان پر ہونے والے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آوازاٹھائی گئی ، لیکن اس سب کچھ کے باوجود کشمیری عوام اپنی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں جانوروں اور پرندوں کے حقوق کی بات تو کی جاتی ہے لیکن بے گناہ کشمیری بچوں اور خواتین سمیت پوری کشمیری قوم پر 7 لاکھ بھارتی فوج کے ہاتھوں توڑے جانے والے مظالم پر دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرانا پوری دنیا پر قرض ہے۔ آج جبکہ دنیا ایک بستی کی صورت اختیار کر چکی ہے ، دنیا کے کسی بھی خطے میں جاری ریاستی دہشت گردی پوری دنیا کا امن امان خطرے میں ڈال دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اوربھارت جیسی ایٹمی ریاستوں کے مابین اصل تنازع ختم کرانا عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے۔امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ5 فروری کو پوری پاکستانی قوم ہی نہیں پوری امت مسلمہ اپنے کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں کو پیغام دے گی کہ وہ حق پر ہیں اور ہم ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر آزادی کشمیر کے لیے کوشاں رہیں گے۔