منی لانڈرنگ کیس،زرداری اور فریال تالپور نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو چیلنج کردیا

34

اسلام آباد (آن لائن) منی لانڈرنگ کیس میں پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کردی، تیار کی گئی درخواست میں کہاگیا ہے کہ ایف آئی اے بینکنگ کورٹ میں حتمی چالان داخل کرنے میں ناکام رہا، قانون کی عدم موجودگی میں مختلف اداروں کی جے آئی ٹی نہیں بنائی جاسکتی۔ تفصیلات کے مطابق جعلی اکاؤنٹس کیس میں آصف زرداری اور فریال تالپور نے عدالت عظمیٰ کے 7 جنوری کے حکم نامے پر نظرثانی کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایف آئی اے بینکنگ کورٹ میں حتمی چالان داخل کرنے میں ناکام رہا، ایف آئی اے اداروں کی مدد کے باوجود قابل جرم شواہد تلا ش نہ کرسکا، ایف آئی اے کی استدعا پر عدالت عظمیٰنے جے آئی ٹی تشکیل دی۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ جے آئی ٹی نے مؤقف شامل کیے بغیر رپورٹ عدالت عظمیٰن میں پیش کی، عدالت عظمیٰ نے تسلیم کیا جے آئی ٹی قابل قبول شواہد نہ لاسکی، جے آئی ٹی نے بھی معاملے کی مزید انکوائری کی سفارش کی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ مرادعلی شاہ کانام جے آئی ٹی سے نکالنے کا زبانی حکم فیصلے کا حصہ نہیں بنایاگیا، مقدمہ کراچی سے اسلام آبادمنتقل کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا، قانون کی عدم موجودگی میں مختلف اداروں کی جے آئی ٹی نہیں بنائی جاسکتی ، لہٰذا عدالت عظمیٰ 7جنوری کے فیصلے کو ری وزٹ اور نظر ثانی کرے اور حکم نامے پر حکم امتناع جاری کرے۔ خیال رہے 16 جنوری کو عدالت عظمیٰ نے جعلی بینک اکانٹس کیس کے تفصیلی فیصلے میں کہا تھا کہ نئے چیف جسٹس نیب رپورٹ کا جائزہ لینے کے لیے عمل درآمد بینچ تشکیل دیں ، نیب مراد علی شاہ، بلاول بھٹو اور دیگر کیخلاف تحقیقات جاری رکھے۔ فیصلے میں کہا گیا تھا کہ اگر تحقیقات میں جرم بنتا ہو تو احتساب عدالت میں ریفرنس فائل کیے جائیں، نیب ریفرنس اسلام آباد نیب عدالت میں فائل کیے جائیں۔