سوڈان: حزب اختلاف کی مختلف شہروں میں دھرنوں کی پھر کال

30
قاہرہ: سوڈانی صدر عمر البشیر مصری ہم منصب سیسی سے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں
قاہرہ: سوڈانی صدر عمر البشیر مصری ہم منصب سیسی سے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں

خرطوم (انٹرنیشنل ڈیسک) سوڈان میں پروفیشنلز ایسوسی ایشن اور اپوزیشن کے سیاسی گروپوں نے مختلف شہروں میں دھرنوں کا سلسلہ جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔ ذرائع کے مطابق اپیل کے بعد گزشتہ روز کئی مقامات پر دھرنے دیے گئے۔ قبل ازیں پروفیشنلز ایسوسی ایشن نے ایک بیان میں مطالبہ کیا تھا کہ احتجاجی دھرنوں کے دوران حکومت گرانے سے متعلق بینر لہرانے کے علاوہ نعرے بازی کی جائے، جس پر تمام حکومت مخالف عناصر کا اتفاق ہے، ساتھ ہی ہدایت کی گئی تھی کہ دھرنوں کے لیے ایسے مقامات کا انتخاب کیا جائے جہاں داخل ہونا اور وہاں سے نکلنا آسان ہو۔ اُدھر امّہ فیڈرل پارٹی کی قیادت نے اعلان کیا ہے کہ پارٹی قومی وفاق کی حکومت میں بدستور موجود رہے گی تاہم اس کے سربراہ کی سرگرمی کو منجمد کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل پارٹی نے اتوار کے روز حکومت سے علاحدگی کا اعلان کیا تھا۔ سوڈان کے وزیر ثقافت اور امہ فیڈرل پارٹی کے سیاسی سکرٹری عمر سلیمان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت میں شرکت کا فیصلہ پارٹی کی جنرل کانفرنس میں کیا گیا۔ دوسری جانب سوڈان کے صدر عمر حسن البشیر اتوار کو سرکاری دورے پر مصری دارالحکومت قاہرہ پہنچ گئے، جہاں انہوں نے صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی اور دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔