قائمہ کمیٹی داخلہ نے سانحہ ساہیوال پر بنائی گئی جے آئی ٹی مسترد کر دی

49

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے سانحہ ساہیوال پر بنائی گئی جے آئی ٹی کو مسترد کرتے ہوئے واقعہ کی تحقیقات کے لئے جلد از جلد جوڈیشل کمیشن بنانے کی سفارش کردی۔

سینیٹر رحمن ملک کی زیرصدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا خصوصی اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس میں سانحہ ساہیوال کے متاثرہ خاندان کے افراد بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔سینیٹر رحمان ملک نےمتاثرہ خاندان کو انصاف کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ آپ کے ساتھ انصاف ہوگا۔

رحمان ملک نے ساہیوال واقعے کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ مارے گئے ان کو شہید کہوں گا،ہم کوئی چیز چھپنے نہیں دیں گے، متاثرہ خاندان کو پروٹیکشن بھی دیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے اختیار میں ہے کہ جوڈیشنل کمیشن بنایا جائے تو حکومت کیوں نہیں بنا رہی۔۔کمیٹی باقاعدہ طور پر جے آئی ٹی کو مسترد کرتی ہے۔

مقتول ذیشان کی والدہ نے کمیٹی میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میری آپ سے التجا ہے کہ ذیشان بے قصور تھا اب اس پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ دہشتگرد ہے۔ ہم اس گھرمیں 25 سال سےرہ رہے ہیں۔ پولیس نےمیرے بیٹے کو زندہ کیوں نہیں پکڑا انڈیا کہ دہشتگرد کلبوشن کو زندہ پکڑ سکتے ہیں تو میرے بیٹے کو کیو ں نہیں۔زیشان کی والدہ زار و قطار رونا شروع کر دیا۔ذیشان کی والدہ نے بتایا کہ میرے بیٹے نے آئی سی ایس کمپوٹر سائنسز میں کیا ہوا تھا۔ وہ لیکچر بھی دیتا تھا۔ پرچون اور تھوک کا کام کرتا تھا کمپوٹر بیچتا تھا۔

 ذیشان کے بھائی نے کمیٹی کو بتایا کہ میری دو مرتبہ ویریفکشن ہوئی جب میں نے ڈولفن فورس میں اپلائی کیا تھا اور جب ٹریننگ مکمل ہوئی پھر تحقیقات ہوئی۔میرے فارم میں والد کی جگہ بھائی کی فوٹو کاپی لگائی تھی۔ہم دو بھائی تھے والد نہیں تھے ماں نے ہمیں گھروں میں کام کر کے پالا ہے ،میرے بھائی کے خلاف کوئی مقدمہ کوئی ایف آئی آر کوئی رپٹ اور کچھ بھی پورے ملک میں ایسا کچھ نہیں تھا۔

دوران اجلاس سینیٹر جاوید عباسی نے حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ حکومت نے اس سانحہ پر پانچ بار موقف تبدیل کیا اس پراعظم سواتی بھڑک اٹھے۔ دونوں سینیٹرز کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔مقتول خلیل کے بھائی جلیل نے جوڈیشل کمیشن بنانے،ایف آئی آر خارج کرکے مقدمے کو ساہیوال سے لاہور منتقل کرنے اور ملوث افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا مطالبہ کیا۔

چیئرمین کمیٹی نے سانحہ ساہیوال پر بیانات دینے والے وزرا کے بیانوں کا نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری داخلہ کو تحقیقات کی ہدایت کی،انہوں نے کہا کہ حکومت فوری جوڈیشل کمیشن کااعلان کرے۔معاملہ سینیٹ اجلاس میں بھی اٹھائیں گے۔سینیٹر میاں عتیق کا کہنا تھا کہ انصاف کیلیے متحد ہونا ہوگا۔ایسا نہ ہو کہ یہ سانحہ بھی جے آئی ٹی کی نذر ہو جائے ۔

چیئرمین کمیٹی سینٹر رحمان ملک نے کمیٹی کی طرف سے واقعہ کی عدالتی کمیشن کے ذریعے تحقیقات کروانے اورلواحقین کے کی مالی امداد کے لییوزیر اعظم کو خط لکھنے کا اعلان کیا۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹررحمان ملک نے کہا کہ ذیشان کی والدہ اور بھائی کی ا سٹیٹمنٹ لینی تھی تو بلوایا تھا۔آج پوری کمیٹی نے انہیں تفصیل سے سنا۔فیصلہ یہ ہوا کہ جوڈیشنل کمیشن بنے گا۔اور اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان اور وزارت داخلہ کو لکھ دیا ہے کہ کمیشن بنائیں ۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت آج ہی کمیشن کا اعلان کرے ۔عوام بھی یہی چاہتی ہے کے جوڈیشنل کمیشن بنے۔آج تمام اپوزیشن بھی اس معاملے پہ متفق ہے۔آج ہم نے خط لکھا تین دن انتظار کریں گے۔ہاوس میں اس معاملے کو اٹھائیں گے۔چیئرمین سینٹ کو مطلع کیا تھا کہ ذیشان اور خلیل کے لوحقین کو بلوا رہے ہیں ۔ذیشان کو دہشتگرد کہا گیا اس کے خلاف ایک ایف آئی آر بھی نہیں پیش کی گئی ۔اگر وہ ملزمان تھے تو ان کو زندہ کیوں نہ گرفتار کیا گیا۔وزیر اعظم سے کہتا ہوں اس بات کا نوٹس لیںیہی عوام کی خواہش ہے۔