ایک ہفتے گزرنے کے باوجود گلستان جو ہر بلاک 8سے بارش کا پانی تاحال نہیں نکالا جاسکا،

25

ایک ہفتے گزرنے کے باوجود شہرسے بارش کا پانی تاحال نہیں نکالا جاسکا، بیشتر سڑکیں اب بھی پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں، ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر، کچرا اور گندا پانی ملنے سے تعفن اٹھنے لگا۔گلستان جوہر بلاک 8میں بارش وسیوریج کے پانی کی نکاسی اور صفائی کا فقدان ہے علاقہ تعفن زدہ ہوگیا، ڈی ایم سی ملیر کے چیئر مین صرف بیا ن تک محدود ہیں،

کراچی میں ایک ہفتے قبل ہونے والی بارش کے جس کے بعد شہر جل تھل ہوگیا تھا۔ صورتحال اب تک تبدیل نہیں ہوسکی ہیں، شہر کے بیشتر علاقوں میں اب بھی گندا پانی جمع ہے، جبکہ بازاروں میں گندگی اور کیچڑ کے باعث خریداری کے لیے آنے والوں کو سخت اذیت کا سامنا ہے،

تفصیلات کے مطابق بارش تھمے ایک ہفتے ہوگئے لیکن کراچی کی بیشتر سڑکیں اب بھی پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں، جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر اور گندا پانی انتظامیہ کی نااہلی کی داستان بیان کررہا ہے۔ کراچی کے علاقہ گلستان جوہر بلاک8گل ہاوسز کی مین سڑک پربارش کا پانی تاحال کھڑا ہے، جس کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہے، علاقہ مکینوں کی زندگی اجیران ہو گئی ہے۔

اسی طر ح نا رتھ کراچی فور کے چورنگی کے قریب گراؤ نڈ پانی میں ڈوبا ہوا ہے جس سے علا قے میں مچھر وں اور مکھیو ں کی بہتا ت ہو گئی ہے۔ لیاقت آباد ، اورنگی ٹاؤن ،کو رنگی ،،ملیر،نرسری، شاہ فیصل کالونی،گلشن اقبال سمیت کئی علاقوں میں گندگی کے ڈھیرے ہیں، کورنگی، لیاقت آباد، لائنز ایریا، اورنگی ٹاوٗن میں بھی کچرا ہی کچرا نظر آرہا ہے، کچرے میں گندا پانی ملنے سے تعفن اٹھنے لگا ہے، شہریوں کا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔

سندھ حکومت اور بلدیاتی نمائندوں کے پانی نکالنے کے دعوے بھی غلط ثابت ہوئے، بدبو اور تعفن سے گزرنا محال ہے۔ سول اسپتال کے باہر پانی جمع ہے۔ اولڈ سٹی ایریا، برنس روڈ اور اطراف کے علاقے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ بولٹن مارکیٹ، صدر اور دیگر علاقے بھی جوہڑ کا منظر پیش کرنے لگے ہیں۔

شہریوں نے صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی سے اپیل کی کہ گلستان جو ہر جو کہ تعفن زدہ ہوچکا ہے۔ گندگی کے باعث مچھروں کی بھر مار ہے، کوئی پرسان حال نہیں، ہنگامی بنیادوں پر علا قے میں صحت وصفائی کا کام کرایا جائے۔