حکومت فاٹا کے عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرے، آفتاب شیر پاؤ

37

پشاور (آن لائن) قومی وطن پارٹی کے مرکز ی چےئرمین آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے فاٹا انضمام کے وقت وہاں کے عوام کے ساتھ جو وعدے کیے تھے ان کو پورا کیا جائے۔ گزشتہ روز وطن کور پشاور میں فاٹا کے انضمام اور بعد کی صورتحال کے حوالے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ وفاقی حکومت فاٹا انضمام کے حوالے سے لیت و لعل سے کام لے رہی ہے جس کی وجہ سے وہاں کے لوگوں میں بے یقینی اور مایوسی کا احساس شدت اختیار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں جاری حالات کے تناظر میں حکومت کو چاہیے کہ فاٹا انضمام کے حوالے سے تمام تر
اقدامات کو جلد از جلد عملی جامہ پہنایا جائے بصورت دیگر اس کے نتائج نہ صرف قبائلی علاقوں بلکہ پورے ملک کیلیے نیک شگون نہیں ہوں گے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سی پیک میں قبائلی علاقوں کیلیے کوئی منصوبہ مختص نہیں لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہاں فی الفور صنعتی یونٹوں کا قیام عمل میں لائے تاکہ قبائلی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس میں چھوٹ کے علاوہ قبائلی عوام کیلیے دیگر مراعات کا بھی اعلان کرنا چاہیے تاکہ وہاں کے کاروباری افراد ان اقدامات سے مستفید ہو سکیں۔ قبائلی علاقوں میں بلدیاتی انتخابات کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا اسمبلی کی نشستوں کیلیے بھی قبائلی علاقوں میں انتخابات کرائے جائیں تاکہ وہاں کے لوگوں کو اسمبلی میں نمائندگی مل سکے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ این ایف سی اجلاس بلا کر قبائلی علاقوں کے لیے 3 فیصد فنڈز کے وعدے کو پورا کیا جائے۔ سابق وفاقی حکومت نے فاٹا کیلیے 10 سال تک ہر سال 100 ارب روپے کا اعلان کیا تھا تاہم اس مد میں بھی ابھی تک کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں تعینات لیویز فورس کے اہلکاروں کو پولیس ٹریننگ سینٹر ہنگو میں تربیت دی جائے تاکہ وہ امن و امان کیلیے خدمات احسن طریقے سے سرانجام دے سکیں۔ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں قبائلی علاقوں میں ریگولر کورٹس کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ وہاں کے لوگوں کو جلد اور سستا انساف فراہم ہوسکے۔ ٹاسک فورس برائے قبائلی علاقہ جات کو فی الفور ختم کیا جائے کیونکہ اس کے بعض ارکان انضمام کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔ انہوں نے دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی اپیل کی کہ فاٹا انضمام کے عمل کو تیز کرنے کیلیے مشترکہ جدوجہد کا آغاز کرنا چاہیے اور انضمام کی مخالف قوتوں کے عزائم کو بے نقاب کیا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.