یمنی جنگ پر دباؤ‘ امریکا گھٹنے ٹیکنے پر مجبور

95

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) یمنی جنگ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث عالمی سطح پر پیدا ہونے والے دباؤ نے امریکا کو سعودی حمایت سے ایک قدم پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق سعودی عرب اور امریکا نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ یمن میں القاعدہ کے خلاف کارروائیوں میں مصروف امریکی جنگی طیارے کسی سعودی ائر فیلڈ سے مزید تیل حاصل نہیں کریں گے۔ امریکی وزارتِ دفاع نے اس خبر کی تصدیق کی ہے۔ البتہ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے یہ واضح کیا کہ سعودی عسکری اتحاد کے ساتھ تعاون جاری رکھا جائے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یمن کی جنگ میں امریکی حمایت کے ایک پہلو کو ختم کرنے کا فیصلہ حیران کن ہے۔ دوسری جانب عرب اتحاد نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن میں عرب اتحاد کے طیاروں کو فضا میں ایندھن کی فراہمی کا سلسلہ روک دے۔ عرب اتحاد کے مطابق سعودی عرب اور اتحاد کے رکن ممالک نے فضا میں اپنے طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے کے شعبے میں اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کر لیا ہے۔ سعودی خبر رساں ایجنسی نے ہفتے کو علی الصبح عرب اتحاد کا بیان جاری کیا جس میں مزید کہا گیا ہے کہ صلاحیتوں میں اضافے کی روشنی میں امریکا میں اپنے حلیفوں سے مشاورت کے بعد عرب اتحاد نے امریکی جانب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن میں جاری کارروائیوں میں اتحادی طیاروں کو فضا میں ایندھن فراہم کرنا روک دے۔ عرب اتحاد کی قیادت نے اس امید کا اظہار کیا کہ اقوام متحدہ کی سرپرستی میں آیندہ مذاکرات کا نتیجہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 کے سلسلے میں اتفاق رائے کی صورت میں سامنے آئے گا۔ اس کے تحت حوثی ملیشیا کی جانب سے برادر یمنی عوام اور خطے کے ممالک پر حملوں کا سلسلہ رک جائے گا۔ اس کے علاوہ بیلسٹک میزائل اور ڈروان طیاروں کی شکل میں درپیش مسائل بھی قابو میں آئیں گے۔ دوسری جانب ایک امریکی عہدے دار نے باور کرایا ہے کہ امریکا نے اتحادی طیاروں کو فضا میں ایندھن کی فراہمی روکنے کے سعودیمطالبے کی تائید کردی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.