بلوچستان میں ڈیم بناکر زراعت کی ترقی پر توجہ دی جائے

23

کوئٹہ (آئی این پی) جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا کہ ڈیموں کی تعمیر کے بغیر سولر ٹیوب ویلز کے منصوبے الٹاپانی کی کمی اور سرمائے کے نقصان کا باعث بنیں گے۔ پانی ڈیموں سے ہی بڑھ سکتا ہے، بلوچستان بھر میں ڈیمز بناکر زمین پانی کی سطح پر بہتراور پانی کی کمی ختم زراعت کی ترقی پر توجہ دی جائیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ بلوچستا ن میں پانی کی کمی وزراعت کو تباہی سے بچانے کے لیے صرف سولر ٹیوب ویلز کے منصوبے کارآمد نہیں، حکومت سرمائے کے نقصان کے بجائے مشاورت وماہرین کے مشورے سے ڈیمز کی تعمیر پر توجہ دیں۔ عدالت عظمیٰ اور حکومت کی جانب سے نئے ڈیمز بنانے کے حوالے سے فنڈ ریزنگ اور عوام میں شعور بیدار کرنا اگرچہ خوش آئند ہے مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ ڈیم بنانے کے حوالے سے عملاً اقدامات بھی ساتھ ساتھ کیے جائیں۔ بلوچستان زرعی صوبہ ہے مگر حکومتی عدم توجہ کی وجہ سے خشک سالی کیساتھ زراعت تباہ ہورہی ہے، حکومت کو صوبہ بھر میں چھوٹے بڑے ڈیم فوری تعمیر کرنا چاہییں۔ نئے ڈیمز بلوچستان کی بقا کی ضمانت ہیں، پانی زندگی ہے مگر اہل بلوچستان ان زندگی سے محروم ہونے کے قریب ہے بلوچستان کے حکمرانوں نے پانی کی کمی کا کوئی نوٹس نہیں لیا، ڈیم بنانے پر توجہ نہیں دی، زراعت کو تباہی وبربادی سے بچانے کے لیے کوئی لائحہ عمل نہیں بنایا، جس کی وجہ سے آج یہاں کے عوام پانی کے بوند بوند کو ترس رہے ہیں، صوبے میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ ہے جس کی وجہ سے زراعت ومعیشت تباہی وبربادی کی قریب ہے کئی کئی گھنٹوں پر محیط لوڈشیڈنگ نے لوگوں کا براحال کردیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.