سبی محکمہ پبلک ہیلتھ شہریوں کو پانی فراہم کرنے میں ناکام

38

سبی (آئی این پی) دریائے ناڑی کے وسط میں واقع سبی شہر پانی کی قلت کے باعث میدان کربلا بن گیا، محکمہ پبلک ہیلتھ سبی کے شہریوں کو پانی فراہم کرنے میں ناکام ہوگیا، پانی کی قلت پر ضلعی انتظامیہ بھی خاموش تماشائی، سبی کے شہریوں کا پانی کی قلت کے باعث جینا محال ہوگیا، وزیر اعلیٰ بلوچستان پیکج کے تحت کروڑوں روپے کے فنڈز خرچ کرنے کے باوجود سبی کے شہری پانی کی بوندبوند کو ترس رہے ہیں کروڑوں روپے کی خطیر رقم خرچ کرنے کے بعد بھی سبی میں پانی کا آئے روزبحران ایک سوالیہ نشان ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے شہر کے مختلف علاقوں جناح روڈ، الہٰ آباد روڈ، گنپت رائے روڈ، مسجد روڈ، قصاباں محلہ، لوہاراں محلہ، بابو محلہ، غریب آباد سمیت شہر کے کئی علاقوں میں اس وقت پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے شہری پانی کی بوند بوند کو ترس ہیں پانی کی قلت کے باعث ٹینکرز مافیا شہر میں سرگرم ہے پانی کی قلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹینکرز مافیا نے ریٹ بڑھا دیے ہیں جس کے باعث شہری پانی کا فی ٹینکر 700پانی کی چھوٹی ٹینکی 300روپے میں خریدنے پر مجبور ہیں وزیر اعلیٰ بلوچستان پیکج کے تحت محکمہ پبلک ہیلتھ کو کروڑوں روپے کے فنڈز جاری کیے گئے تاکہ سبی میں پانی کی قلت کا خاتمہ ہوسکے مگر کروڑوں روپے خرچ ہونے کے بعد بھی سبی کی عوام پانی کے لیے ترس رہے ہیں جو کہ محکمہ پبلک ہیلتھ کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے سبی کے شہریوں کو آئے روز پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور شہری پانی کی بوند بوند کو ترستے ہیں مگر ارباب اختیار کے سر پر جوں تک نہیں رینگ رہی محکمہ پبلک ہیلتھ نے شہریوں کو ٹینکرز مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑدیا ہے سبی کے شہریوں نے اعلیٰ حکام سے محکمہ پبلک ہیلتھ کی نااہلی کا نوٹس لیکر سبی کے شہریوں کو پانی کی فراہمی ممکن بنانے کا مطالبہ کیا ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.