پاکستان کے قاضی۔۔۔؟

216

 

 

۔2 نومبر 2018ء کے اخبارات میں چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثار کا ایک بیان شائع ہوا ہے جس میں آپ کہہ رہے ہیں ’’حرمت رسولؐ پر جان بھی قربان ہے، ججز کسی سے کم نبیؐ کے عاشق نہیں، ثبوت نہیں تو سزا کیسے دے سکتے ہیں، صرف مسلمانوں کے نہیں پاکستان کے قاضی ہیں‘‘۔ چیف جسٹس صاحب کو مذکورہ ریمارکس دینے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ ان کی سربراہی میں بینچ نے ملعونہ آسیہ مسیح کو بے قصور قرار دیتے ہوئے رہا کردیا۔ عدالت عظمیٰ کو جو فیصلہ کرنا تھا، سو کردیا۔ عدالت عظمیٰ کے وہ تینوں جج صاحبان کہ جنہوں نے ملعونہ آسیہ کی رہائی کا فیصلہ سنایا ہے وہ اس فیصلے پر دنیا اور آخرت دونوں میں جوابدہ ہیں، آخرت کی عدالت کی شان مختلف ہوگی وہاں کسی بھی جرم پر وضاحت لینے سے پہلے نیت میں چھپے ارادوں کو سامنے رکھ دیا جائے گا ہم اُس دن پر کہ جب کسی کا کوئی عہدہ اور منصب اس کے کام نہیں آئے گا پاکستان کے قاضیوں کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔ ہم پاکستان کے قاضیوں کا معاملہ اللہ کے سپرد کررہے ہیں کہ وہ جسے چاہے اپنی رحمت سے بخش دے اور جسے چاہے اپنے حکم سے پکڑ لے۔ عدالتوں میں موجود انصاف کے ترازوں کے پلڑوں کو برابر رکھنے یا نہ رکھنے کا فریضہ ادا کرنے والوں سے کیا کیا اور کہاں کوتاہیاں ہوئی ہیں وہ سب اللہ دیکھ رہا ہے۔
البتہ جہاں تک دنیا کا معاملہ ہے تو یہاں جرم سے سزا تک اور ملزم سے عدالت تک تمام مرحلے، قوانین اور فیصلے انسانوں سے تعلق رکھتے ہیں، لہٰذا جرم و سزا کے عمل اور ردعمل پر بات کی جاسکتی ہے جب کہ اس بات سے بھی اتفاق ہے کہ ’’عدالتی فیصلے‘‘ ہمیشہ تائید و تنقید کی زد میں رہتے ہیں کیوں کہ متاثرہ فریق اور ریلیف حاصل کرنے والے کے درمیان ہمیشہ اختلاف موجود رہتا ہے تاہم اس طرح کے اختلاف کی قانون اجازت دیتا ہے مگر جب معاملہ اللہ اور اس کے رسولؐ کا ہوگا تو پھر انسان کے بنائے ہوئے قوانین سے پہلے قرآن و سنت کے واضح احکامات کو دیکھا جائے گا، شریعت کا دو ٹوک اور صاف حکم معلوم ہوجانے کے بعد انسان کے بنائے ہوئے تمام قوانین کو بھی شرعی قوانین کا پابند ہونا ہوگا، یہ تمام باتیں اور پابندیاں ایک اسلامی ملک کے بنیادی تعارف میں شامل ہیں، اسلام کا نظام عدل و انصاف قاضیوں (جج صاحبان) کو یہ اختیار ضرور دیتا ہے کہ وہ کسی بھی واردات یا جرم کی حقیقت کو معلوم کرنے کی پوری پوری کوشش کریں تا کہ کسی بے گناہ کو کوئی سزا نہ ہوجائے۔ اس حوالے سے اگر ملعونہ آسیہ کے مقدمے کو دیکھا جائے تو وہ کوئی عام مقدمہ یا معمولی جرم نہیں جس میں کوئی غفلت یا کوتاہی کی ہوگی۔ ایف آئی آر کا اندراج، پولیس تفتیش، گواہوں کے بیانات اور سیشن کورٹ سے ہائی کورٹ تک مذکورہ مقدمہ جن مرحلوں سے گزرا ہے اور پھر مزید یہ کہ جس سے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا قتل ہوا اور ممتاز قادری شہید کو پھانسی دی گئی، ان تمام کا جائزہ مقدمے کی شفافیت اور سنگین صورت حال کی عکاسی کرتا ہے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ مغربی ممالک پاکستان میں سزائے موت کے قانون کو کیوں ختم کرانا چاہتے ہیں۔ گستاخ آسیہ کی رہائی کے فیصلے پر امریکا اور برطانیہ کیوں مبارکباد دے رہے ہیں، امریکا کا مذہبی بین الاقوامی کمیشن (U.S.C.I.R.F) توہین مذہب کے الزام میں گرفتار دیگر 40 افراد کی رہائی کا مطالبہ کیوں کرنے لگا ہے، اس ساری صورت حال کے پیچھے پاکستان کے قاضیوں کے وہ فیصلے میں نظر آرہے ہیں جن میں عاشق رسول ممتاز قادری کو پھانسی اور گستاخ رسول آسیہ مسیح کو رہا کرنا ضروری سمجھا گیا۔ پاکستان کے قاضیوں کی ایک خاص تعداد نے انصاف کا گلا گھونٹنے کے لیے یوں تو بہت سارے الٹے سیدھے فیصلے کیے تاہم وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور ممتاز قادری کو پھانسی دینے مارشل لا کی بندوق کو بوسہ دے کر اپنے کندھے پر رکھ لینے، قاتل ریمنڈ ڈیوس کو رہا کردینے اور قوم کی مظلوم بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے کوئی حکم جاری کرنے سے انکار کردینے جیسے سیکڑوں ایسے فیصلے عوام اور وکلا کے درمیان گردش کررہے ہیں جنہیں کسی بھی طور پر انصاف پر مبنی قرار نہیں دیا جاسکتا، عدالتوں کی کارکردگی اس قدر ناقص ہے کہ لاکھوں مقدمات زیر التوا ہیں اور جج صاحبان اس قدر بے رحم ہیں کہ ہزاروں بے گناہ لوگ جیلوں میں قید ہیں۔
چیف جسٹس جناب ثاقب نثار کا یہ جو کہنا ہے کہ ’’ججز بھی کسی سے کم نبیؐ کے عاشق نہیں اور حرمت رسول پر جان بھی قربان ہے‘‘ بہت ٹھیک ہم آپ کے الفاظ کی قدر کرتے ہیں تاہم آپ کا مزید یہ کہنا کہ ثبوت نہیں تو سزا کیسے دیں، صرف مسلمانوں کے نہیں پاکستان کے قاضی ہیں، پر چند سوال ضرور اٹھتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر ثبوت نہیں تھے تو سیشن کورٹ سے ہائی کورٹ تک سزائے موت کا فیصلہ کیونکر اور کیسے ہوا اور پھر یہ کہ اگر ماتحت عدالتوں نے بغیر ثبوتوں کے آسیہ مسیح کو سزائے موت سنائی ہے تو کیا عدالت عظمیٰ متعلقہ سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ کے جج صاحبان کو بھی کوئی سزا دے گی؟؟ جہاں تک ان الفاظ کا تعلق ہے کہ ہم صرف مسلمانوں کے نہیں پاکستان کے قاضی ہیں، انتہائی نامناسب اور ناپسندیدہ گفتگو ہے جس کے چیف جسٹس صاحب مرتکب ہوئے ہیں۔ چیف جسٹس صاحب کو یاد رکھنا چاہیے کہ ’’پاکستان‘‘ برطانیہ یا ہندوستان کی کسی عدالت کے فیصلے کے نتیجے میں وجود میں نہیں آیا بلکہ اس کے وجود کا ضامن اور سبب تو ’’لاالہ الاللہ محمدالررسول اللہ‘‘ کا نعرہ تھا جس پر لاکھوں مسلمان قربان ہوئے اور کروڑوں نے ہجرت کی۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ جو نامور وکیل بھی تھے انہوں نے اسی کلمہ پاک کی بنیاد ہی پر ہندوستان کی تقسیم اور مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کے مطالبے کے لیے ’’دو قومی نظریے‘‘ کو تشکیل دیا، پاکستان کا ’’اسلام‘‘ کے بغیر کوئی دوسرا تعارف نہیں جب کہ پیغمبر اسلام محمد مصطفیؐ ہی خاتم النبین ہیں اور قیامت تک کے تمام انسانوں کے لیے رُشدو ہدایت کا واحد مرکز و محور ہیں۔ لہٰذا کوئی قاضی یہ نہ سمجھے کہ وہ پاکستان کے اندر بسنے والے تمام انسانوں کے حقوق کی حفاظت کررہا ہے اور نہ ہی یہ تاثر دینے کی کوشش کرے کہ مسلمانوں کا قاضی اقلیتوں کا تحفظ کرنے سے جانبدار ہے۔ پیغمبر اسلام نے مسلمانوں اور اقلیتوں سمیت تمام انسانوں اور یہاں تک کہ جانوروں کے حقوق کا بھی تعین کردیا ہے، تب ہی تو امیر المومنین عمر فاروقؓ نے فرمایا ہے کہ اگر دریائے فرات کے کنارے کوئی بکری بھی پیاس سے مرگئی تو قیامت کے روز اللہ مجھ سے پوچھے گا۔ لہٰذا یہ کسی قاضی صاحب کا نہیں بلکہ پیغمبر اسلام و رحمت العالمینؐ کا احسان ہے کہ قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے حقوق کی تشریح اور حفاظت کے واضح احکامات جاری فرمادیے۔ اسلام کی خاطر پاکستان اور پاکستان کو چلانے کی خاطر آئین پاکستان کی ترتیب کسی قاضی کو یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ مسلمانوں اور پاکستان کے قاضیوں کا کوئی الگ الگ تعارف کرائے۔ کسی قاضی کی ملازمت پاکستان کی حفاظت کی کوئی مستقل ضمانت نہیں، پاکستان کی عزت اور سلامتی کی ضمانت تو تحفظ ناموس رسالت اور احترام نبوت میں ہے جسے یقینی بنائے رکھنا مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کی برابر کی ذمے داری ہے کیوں کہ یہ سب کا پاکستان ہے جس کی شان ’’اسلام‘‘ اور تعارف ’’انصاف‘‘ ہے۔ بے لاگ انصاف ہی اقلیتوں اور مسلمانوں کے درمیان بھائی چارے اور ہم آہنگی کو برقرار رکھ سکتا ہے، پاکستان کے ’’قاضی‘‘ کسی بیرونی سازش یا اندرونی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر برملا ’’انصاف‘‘ کو سامنے لائیں، بصورت دیگر قاضی صاحبان کو دنیا میں حساب اور آخرت میں جواب دینا ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.