ماسکو میں امن مذاکرات کا آغاز ،کانفرنس مذاکرات نہیں پر امن حل کے لئے ہے،افغان طالبان

234

ماسکو(صباح نیوز) روس کی میزبانی میں 17 سالہ افغان جنگ کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے جس میں طالبان کے 5رکنی وفد کے علاوہ امریکا، چین، پاکستان ، بھارت اور قطر سمیت 12ممالک کے وفود شرکت کر رہے ہیں۔کئی اہم افغان سیاسی شخصیات بھی اس کانفرنس میں شریک ہیں جن میں سے بعض کے اشرف غنی کی حکومت سے اختلافات چل رہے ہیں۔روس امن مذاکرات کے لیے کافی پرامید نظر آتا ہے، امریکا اور بھارت کو مذاکرات میں شرکت کے لیے راضی کرلینا ایک بڑی کامیابی سمجھی جارہی ہے اور عالمی قوتوں کے ایک ساتھ کسی مسئلے پر سر جوڑ کر بیٹھنے کی مثبت روایت کا آغاز ہوا ہے۔یہ پہلا موقع ہے کہ طالبان کا کوئی وفد کسی عالمی کانفرنس میں شرکت کررہا ہے۔ کانفرنس کے آغاز پر روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا کہنا تھا کہ روس پرامید ہے کہ ان مشترکہ کوششوں سے افغانستان کی تاریخ کا نیا باب شروع ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں افغان رہنماؤں اور طالبان دونوں کی شمولیت بہت اہمیت کی حامل ہے جس کا مقصد براہ راست مذاکرات کے آغاز کے لیے مناسب حالات پیدا کرنا ہے۔سرگئی لاروف کا کہنا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ ایک سنجیدہ اور کارآمد گفتگو کریں جو افغانستان کے لوگوں کی امیدوں کو مستحکم کرے۔ دوسری جانب افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کے نمائندگان کابل انتظامیہ کے وفد سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں کریں گے۔طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ کانفرنس کسی فریق سے مذاکرات کرنے کے لیے نہیں بلکہ افغانستان کے مسئلے کے پرامن حل کے لیے ہے۔دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بھارت کو کڑی تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ طالبان سے مذاکرات کرسکتا ہے تو کشمیریوں سے مذاکرات کیوں نہیں کرسکتا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.