این آر او کیس‘ عدالت عظمیٰ نے نیب اور وفاق کا جواب مستردکردیا

47

اسلام آباد(صباح نیوز)این آر او کیس میں سپریم کورٹ نے نیب اور وفاقی حکومت کا جواب مسترد کردیا،اٹارنی جنرل اور نیب کو سوئس مقدمات اور این آر او کا جائزہ لے کر جواب داخل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ جواب اور دستاویزات آنے کے بعد درخواست قابل سماعت ہونے کا فیصلہ کریں گے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس میں کہا کہ یقین رکھیں کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہو گی، فیصلہ آئین اور قانون کے تحت ہوگا۔ عدالت نے کیس کی سماعت 3ہفتوں تک کے لیے ملتوی کردی۔جمعہ کو سپریم کورٹ میں این آر او کیس کی سماعت کے موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ہمیں مطمئن کریں کہ درخواست قابل سماعت ہے، جس پر درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ سوئس اکاؤنٹ میں پڑی رقم پاکستان کی تھی، آصف علی زرداری نے پاکستان کا پیسہ سوئس بینکوں میں رکھا، سوئس اکاؤنٹ میں موجود 60ملین ڈالر پاکستان کے عوام کو ملنے چاہییں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ سوئس بینکوں میں پڑا پیسہ پاکستان کا ہے اس کے کیا شواہد ہیں، سوئس بینکوں کے اکاؤنٹس کی شناخت کیا ہے، وکیل آصف زرداری کہتے ہیں وہ تمام کیسز سے بری ہوچکے، یہ تو واضح ہے کہ سوئس اکاؤنٹس میں 60ملین ڈالر تھے لیکن دیکھنا ہے کہ 60ملین ڈالر کس کے تھے، کہاں گئے اور بینیفشری کون تھا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ این آر او کا معاملہ ماضی کا حصہ بن چکا، آئینی درخواست میں دوبارہ ٹرائل کرنا مناسب نہیں۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد نیب اور وفاقی حکومت کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے جواب مسترد کردیا، عدالت نے اٹارنی جنرل اور نیب کو سوئس مقدمات اور این آر او کا جائزہ لے کر جواب داخل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ جواب اور دستاویزات آنے کے بعد درخواست قابل سماعت ہونے کا فیصلہ کریں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ