عطا الحق قاسمی کا تقرر غیر قانونی قرار،تاحیات ناہل ،19 کروڑ روپے واپس کرنے کا حکم

97

اسلام آباد(آن لائن) عدالت عظمیٰ نے پی ٹی وی کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر کا تقرر غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عطاالحق قاسمی بطور ایم ڈی لی گئیں مراعات اور تنخواہ کے حقدار نہ تھے۔جمعرات کو جسٹس عمر عطا بندیال نے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3رکنی بینچ کا ایم ڈی پی ٹی وی عطا الحق قاسمی کے تقرر سے متعلق از خود نوٹس کا 12جولائی 2018ء کو محفوظ کیا گیا فیصلہ پڑھ کر سنایا ۔فیصلے میں ایم ڈی پی ٹی وی کے تقرر کا ذمے دار سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار، سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید اور سابق پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کو قرار دیا گیا ۔عدالتی فیصلے میں عطاالحق قاسمی کی جانب سے 19 کروڑ 78 لاکھ 60 ہزار روپے کی لی گئی مراعات اور تنخواہوں کو پرویز رشید، اسحاق ڈار اور فواد حسن فواد سے وصول کرنے کا حکم دیا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عطاالحق قاسمی نے بطور ایم ڈی جو احکامات دیے وہ اور اپنی مدت کے دوران جتنی تنخواہ اور مالی فوائد حاصل کیے سب غیر قانونی ہیں۔ فیصلے کے مطابق عطاالحق قاسمی کسی بھی سرکاری عہدے کے لیے تاحیات نااہل ہوں گے،ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے یہ بھی حکم دیا کہ اگر ایم ڈی پی ٹی وی کا عہدہ خالی ہے تو مستقل طور پر تعیناتی کی جائے۔بعد ازاں عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید کا کہنا تھا کہ معزز جج نے فیصلہ سنایا ہے، اس پر ہمارا اختلاف اور نقطہ نظر ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے پر وکلا سے مشاورت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کروں گا۔دوسری جانب عطا الحق قاسمی نے عدالتی فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے کے خلاف مقررہ مدت میں اپیل دائر کر کے دفاع کروں گا، میں نے اس عہدے کے لیے کبھی درخواست نہیں دی حکومت نے خود ہی تعیناتی کردی تھی، ایمانداری سے فرائض انجام دیے، میری تنخواہ غیر معمولی طور پر زیادہ نہیں تھی نئے تعینات ہونے والے ایم ڈی کی تنخواہ مجھ سے زیادہ مقرر ہوئی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ