سعودی عرب:نئی ویزا پالیسی کا اجرا،فلسطینیوں پر حج اورعمرہ کی ادائیگی پر پابندی عائد

312

سعودی عرب نے نئی ویزا پالیسی کے تحت فلسطینیوں پر حج اورعمرہ کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب نے نئی ویزا پالیسی کے تحت فلسطینیوں پر حج اورعمرہ کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی۔اسرائیلی اخبار ہارٹز میں شائع رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے اپنی حج و عمرہ ویزا پالیسی تبدیلی کردی جس کے بعد کسی بھی فلسطینی مسلمان کو اردن اور لبنان کے ویزے پر داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ 1978 میں اردن کے بادشاہ حسین نے خصوصی طور اسرائیلی زیر قبضہ علاقوں میں رہائش پذیر فلسطینی مسلمانوں کو حج اور عمرے کی ادائیگی کے لیے عارضی ویزا جاری کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس فیصلے سے تمام فلسطینی مذہبی فریضے کی ادائیگی کے لیے پہلے اردن پہنچتے اور عارضی ویزا لے کر سعودی عرب داخل ہوتے تھے۔سعودی عرب کی نئی ویزا پالیسی سے تقریبا 30 لاکھ فلسطینی متاثر ہوں گے جو بذریعہ اردن اور لبنان حج اور عمرے کی ادائیگی کے لیے مکہ اور مدینہ آتے تھے۔س

عودی عرب کی جانب سے مذکورہ فیصلہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی نئی سوچ کی تعریف کی۔

خیال رہے کہ 30 اپریل کو سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے ریاست کی پوزیشن میں واضح تبدیلی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیلیوں کو اپنے وطن کا حق حاصل ہے۔

سعودی ولی عہد نے اقرار کیا تھا کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان رسمی طور پر کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں لیکن حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان پس پردہ تعلقات میں بہتری دیکھی گئی۔گزشتہ برس 20 نومبر کو اسرائیلی کابینہ کے وزیر توانائی یوول اسٹینٹز نے انکشاف کیا تھا کہ اسرائیل کے کئی عرب اور مسلم ریاستوں کے ساتھ خفیہ تعلقات ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ