مولانا سمیع الحق کے قاتل پہلے سے گھر میں موجود تھے،مزید 4 افراد سے تفتیش

61

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت علما اسلام(س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے قتل کی تحقیقات میں مزید 4 افراد سے پوچھ گچھ کی گئی ہے، چاروں افراد نے مولانا سمیع الحق سے ان کے قتل سے قبل ایک ہفتے کے درمیان رابطے کیے تھے، چاروں افراد مقتول سے رابطے میں تھے جنہیں پولیس نے رتہ امرال سے حراست میں لیا تاہم انہیں پوچھ گچھ کے بعد جانے دیا گیا ہے۔ پولیس کا ماننا ہے کہ قتل میں ملوث افراد پہلے ہی سے گھر کے اندر موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق پولیس ٹیم کو اکوڑہ خٹک روانہ کیا جائے گا جو سابق سینیٹر کے سیکرٹری اور چند دیگر افراد سے پوچھ گچھ کرے گی۔ تحقیق کاروں نے شواہد میں اضافہ کرتے ہوئے جائے وقوع سے 3 مختلف سائز کے بال، خون میں لت پت بیڈ شیٹ اور 3 گلاس بر آمد کرلیے۔ بال اور خون کے نمونوں کو ڈی این اے ٹیسٹنگ کے لیے فارنزک لیبارٹریز بھجوادیا گیا۔ پولیس تحقیقات کے مطابق مولانا سمیع الحق کے سیکرٹری سید احمد شاہ نے واٹر فلٹریشن پلانٹ جانے سے قبل جمعیت علما اسلام کے سربراہ کو ان کے بیڈ روم میں اکیلا چھوڑ کر گھر کے دروازے کو باہر سے بند کیا تھا۔ احمد شاہ تقریباً 15 منٹ بعد واپس آئے تھے اور انہیں گھر کا دروازہ کھلا ملا تھا اور مولانا سمیع الحق زخمی حالت میں تھے۔ پولیس کا کہنا کہ احمد شاہ کے بیان سے قاتلوں اور قتل کے مقاصد کا سراغ لگنے میں مدد ملے گی۔ پولیس کی جانب سے آلہ قتل اور دیگر شواہد کے لیے قریبی گھروں کے گارڈنز کی بھی تلاشی لی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ پولیس مولانا سمیع الحق کے موبائل کا ڈیٹا اور تحریک لبیک کے دھرنے کی وجہ سے بند موبائل فون سروس سے قبل کی گئی کالز کا ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی ونگ سے رابطے کر رہی ہے اور مقتول سے رابطے میں رہنے والے افراد سے بھی رابطہ قائم کیا جارہا ہے۔ پولیس کو واقعے کے حوالے سے جمعیت علما اسلام(س) کے رہنما یا کسی اور شخص کی جانب سے کوئی کال موصول نہیں ہوئی تھی جس کی وجہ موبائل فون سروس کا بند ہونا بھی ہو سکتا ہے تاہم پولیس کے آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کے حکام مولانا سمیع الحق کے فون پر آنے اور ان کے فون سے کی جانے والی کالز کا ڈیٹا جمع کر رہے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ