تجاوزات کیخلاف آپریشن سیکورٹی خدشات کے پیش نظر موخر

107

کراچی (اسٹاف رپورٹر)صدر اور اس کے اطراف میں تجاوزات کے خلاف آپریشن بدھ کی سہ پہر سیکورٹی خطرات کے باعث مؤخر کردیا گیا۔ آپریشن سیکورٹی اداروں کو ملنے والی خفیہ اطلاعات پر مؤخر کیا گیا۔ناجائز قابضین کو آج شام تک قبضہ خود ختم کرنے کی مہلت دے دی گئی۔تفصیلات کے مطابق صدر اور اس کے اطراف میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کو سیکورٹی خطرات کے باعث مؤخر کردیا گیا۔پولیس کے مطابق آپریشن سیکورٹی اداروں کو ملنے والی خفیہ اطلاعات پر مؤخر کیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس کے اعلیٰ افسران نے جاری آپریشن میں مداخلت کی اور افسران نے متعلقہ محکموں کو سیکورٹی خدشات سے آگاہ کیا جس کے بعد متعلقہ اداروں نے آپریشن مؤخر کیا۔دوسری جانب کے ایم سی کے مطابق دکانداروں کے احتجاج پر کل کی مہلت دی گئی ہے اور تجاوزات ختم ہونے تک آپریشن جاری رہے گا۔صدر اور ایمپریس مارکیٹ کے اطراف تجاوزات کے خلاف آپریشن تیسرے روزبدھ کی شام تک جاری رہا، آپریشن میں کے ایم سی انسداد تجاوزات سیل سمیت دیگر محکمے بھی شریک تھے۔اس موقع پر امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس اوررینجرز کی بھاری نفری موجود تھی۔ کے ایم سی حکام کے مطابق صدر میں ایک ہزار سے زائد دکانیں ایسی ہیں جو تجاوزت کے زمرے میں آتی ہیں،ایمپریسں مارکیٹ اور اطراف میں موجودان تجاوزات کو مسمارکیا جائے گا،آپریشن سے قبل کیپری سینما سے صدر دواخانہ جانے والی سڑک کو ہیوی ٹریفک کے لیے بند کردیاگیا،ہیوی ٹریفک کو ایم اے جناح روڈ تبت سینٹر او رٹاورکی طرف بھیجا گیاجبکہ پی پی چورنگی سے کوریڈور تھری،صدر جانے والی سڑک کوٹریفک کے لیے بند کیاگیا تاہم اس کو جلد ہی کھول دیاگیا۔کے ایم سی کے سینئر ڈائریکٹر میڈیا بشیر سدوزئی نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایمپریس مارکیٹ کے اطراف میں قائم ایک ہزار سے زائد غیرقانونی دکانیں گرانے کا کام آج صبح تک موخر کیا گیا ہے اور تمام ٹیموں کو واپسی کا حکم دے دیا ہے۔ آج صبح 10بجے سے آپریشن کا دوبارہ آغاز کیا جا ئے گا۔ میئر کراچی ،کمشنر کراچی، میونسپل کمشنر سمیت دیگر اداروں کے افسران آپریشن کی نگرانی کریں گے، 3 روزہ آپریشن میں اب80 فیصد اہداف حاصل کیے جاچکے ہیں، ایمپریس مارکیٹ اور اطراف کی سڑکوں کی فٹ پاتھوں کو صاف کیا گیا اورایک ہزار سے زائد سن شیڈز اور سائن بورڈز ہٹائے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 180 غیر قانونی دکانوں کو بھی توڑا جا چکا ہے ،اندھیر ا ہونے کی وجہ سے امن وامان کی صورتحال خراب ہونے کا خدشہ تھا جس کے پیش نظر آپریشن موخر کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ کے حکم پر تجاوزات کے خلاف کارروائی کا آغازکیا گیا تھا۔ گزشتہ روز بھی شہر کے کئی علاقوں میں شہری اداروں کی جانب سے کارروائی کی گئی تھی جبکہ بدھ کے روز بھی آپریشن جاری رہا۔دوسری جانب شہر قائد میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے تیسرے روز ایمپریس مارکیٹ کے سامنے مظاہرین نے احتجاج ریکارڈ کرانے کا انوکھا انداز اپنایا گیا۔ جس کے باعث مختلف شاہراہوں پر گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں جن سے شہریوں کو نقل و حرکت میں شدید مشکلات کا سامنا رہا۔مظاہرین نے احتجاج کرتے ہوئے روٹیاں ہاتھوں میں اٹھا لیں اور دکانیں خالی کرنے سے انکار کردیا۔تجاوزات کے خلاف ہونے والی کارروائی کے نتیجے میں گزشتہ روز بھی مظاہرین نے احتجاج کیا تھا جس کے بعد میونسپل کمشنرکراچی سیف الرحمن کا کہنا تھا کہ کسی قسم کا احتجاج آپریشن نہیں روک سکتا، شہر بھر میں بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تجازوات کے خاتمے سے ہی ہم شہرکا نقشہ بدل سکیں گے۔تجاوزات کے خلاف آپریشن کے باعث ایمپریس مارکیٹ، عبد اللہ ہارون روڈ،پریڈی اسٹریٹ اور اطراف میں شدید ٹریفک جام سے شہری پریشانی کا شکار ہیں۔ آپریشن کے آغاز کے ساتھ ہی شہر میں ٹریفک جام کا مسئلہ بھی زور پکڑ گیا ہے۔ خاص طو رپر دفاتر اور دیگر جگہوں سے گھروں کو واپس لوٹنے والے شہری گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسے رہے ۔ بدھ کے روزبھی کراچی کی پیشتر سٹرکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی رہیں اور شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا رہا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ