ترک یونان سرحد سے 3 خواتین کی تشدد زدہ لاشیں برآمد

96
ایتھنز: یونان اور مقدونیا کی سرحد پر خطرناک راستے سے یورپ میں داخل ہونے والے مہاجرین کی مشکلات زیر نظر تصویر سے عیاں ہیں
ایتھنز: یونان اور مقدونیا کی سرحد پر خطرناک راستے سے یورپ میں داخل ہونے والے مہاجرین کی مشکلات زیر نظر تصویر سے عیاں ہیں

ایتھنز(انٹرنیشنل ڈیسک) یونان میں ترک سرحد پر 3خواتین کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ ایتھنزپولیس کے مطابق خواتین کے جسموں پر زخموں کے نشانات ہیں، جن سے اندازہ لگایا گیا کہ یہ مجرمانہ نوعیت کے قتل ہیں۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ابھی خواتین کی طبی جانچ باقی ہے، جس کے بعد ہی ان کی موت کی اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے گا۔ ان کی لاشیں بدھ کے روز دریائے ایروس کے قریب ایک کسان کو کھیت سے ملی تھیں۔ دریائے ایروس ترکی اور یونان کے مابین قدرتی سرحد کا کام دیتا ہے اور مہاجرین کے لیے یورپ میں داخلے کے لیے اہم گزرگاہ ہے۔ ان کی عمریں 15 سے 25سال کے درمیان ہیں اور ممکنہ طورپر ان کا تعلق کسی ایشیائی ملک سے ہو سکتا ہے، تاہم ان کے مہاجر یا تارک وطن ہونے کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ ان کی گردنوں کو کسی تیز دھار آلے سے زخمی کیا گیا۔یورپی یونین کی مشرقی ریاستوں کی جانب سے مہاجرین کے غیر قانونی طور پرسرحد پار کرنے کے خلاف کریک ڈاؤن کے سبب مہاجرین اور تارکین وطن اس دریا کو عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یونان اپنے سرحدی علاقے کو مضبوط بنانا چاہتا ہے اور اسی لیے یونانی پولیس نے مزید افرادی قوت کو بھی طلب کیا ہے۔ یونانی حکام کا کہنا ہے کہ جنوری سے جولائی کے دوران میں دریا پار کرتے ہوئے 12 تارکین وطن ڈوب کر ہلاک ہوئے ہیں۔ یونانی پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی میں یونانی سرحدوں پر رواں برس 8 ہزار 400 پناہ گزینوں کو گرفتار کیا گیا، جب کہ ایک سال قبل اسی مدت کے دوران یہ تعداد ایک ہزار600 تھی۔
خواتین/لاشیں برآمد

Print Friendly, PDF & Email
حصہ