عدالت عظمیٰ کا تھرکول بجلی منصوبے میں کرپشن کی تحقیقات کا حکم :عوام منرل واٹر پئیں ،چیف جسٹس 

115

اسلام آباد ( نمائندہ جسارت)چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے نیب کو تھرکول بجلی منصوبے میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلاول اور آصف علی زرداری اپنا پیساتھر کے لوگوں پر خرچ کریں۔ عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں ڈاکٹر ثمر مبارک کے خلاف تھرکول منصوبے کی تکمیل کے لیے فراہم کردہ فنڈز سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نیئر رضوی نے بتایا کہ تھرکول پاور جنریشن منصوبہ 1320 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا، اس پر 1.912 ملین ڈالر لاگت آئے گی، تاہم منصوبہ تاحال شروع نہیں ہو سکا ہے،چیف جسٹس نے ڈاکٹر ثمر مبارک مند سے کہا کہ آپ نے منصوبے سے ایک سو میگا واٹ بجلی پیدا کرنا تھی لیکن کیا کام ہوا اس کا فرانزک آڈٹ کروانا چاہتے ہیں،تھرکول پراجیکٹ میں آپ کا منصوبہ ناکام ہو گیا، آپ کا دعویٰ تھا اس سے پاکستان بجلی سے مالا مال ہو جائے گا، لیکن ایسا نہیں ہوا 13.4 ارب روپے منصوبے پر خرچ کردیے اور صرف 8 میگاواٹ بجلی پیدا ہوئی کیوں نہ منصوبہ کی تحقیقات نیب کو بھیج دیں۔سپریم کورٹ نے نیب کو تھر میں زیر زمین کوئلے سے بجلی بنانے کے منصوبے کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ نیب پتا لگائے کہ منصوبہ میں کتنی بے ضابطگیاں ہوئیں، جائزہ لیں گے کہ اتنا پیسہ کدھر لگا جس کے لیے سائنسدانوں، مالیاتی اور آڈٹ ماہرین پر مشتمل ٹیم تشکیل دیں گے۔عدالت عظمیٰ نے وکیل سلمان اکرم راجہ اور شہزاد الہی کو عدالتی معاون مقرر کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی ماہرین بھی ریکارڈ کا جائزہ لے کر رپورٹ دیں، منصوبے سے خزانے کو کتنا نقصان ہوا۔ چیف جسٹس نے تھر میں غذائی قلت سے بچوں کی اموات کیس میں سندھ حکومت کو تین ہفتوں میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ تھر میں ہر صورت بچوں کی اموات رکنی چاہییں‘بلاول اور آصف زرداری ان علاقوں میں پیسا خرچ کریں‘اہم معاملے پر چیف سیکرٹری اور وزیرا علیٰ سندھ کو بلالیتے ہیں ‘کیونکہ یہ عوام کی زندگی کا معاملہ ہے جمعرات کو عدالت عظمیٰ میں تھر میں غذائی قلت سے بچوں کی ہلاکت کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس نے متعلقہ حکام کو تھر سے متعلق تین ہفتے میں پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے عندیہ دیا کہ اتوار کو وہ مٹھی جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔دوسری جانب عدالت عظمیٰ میں منرل واٹر کمپنیوں کی جانب سے پانی کے استعمال سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کل بھی پانچ جعلی کمپنیاں پکڑی گئیں، متعدد بڑی کمپنیوں کا پانی بھی معیار کے مطابق نہیں، کئی ارب روپے کا پانی کمپنیوں نے مفت میں استعمال کیا، منرل واٹر کمپنیوں کی ٹربائن بند کر دیتے ہیں، میونسپل حکومتیں کمپنیوں کو نلکے لگا کر دیں۔کمپنی کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ پاکستان میں پانی کی قیمت سب سے زیادہ ہے، نیسلے کمپنی عدالت کی مقرر کردہ قیمت ادا کرنے کو تیار ہے، ہم 50 پیسے فی لیٹر دے سکتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ کمپنیاں ایک روپے کا پانی لے کر 52 روپے میں بیچتی ہیں۔پہلے نلکوں سے پانی بہہ رہا ہوتا تھا، منرل واٹر کمپنیوں کی موٹروں کی وجہ سے نلکے خشک ہو گئے، لاہور میں چار سو فٹ پر بورنگ پہنچ گیا ہے۔ چیف جسٹس نے عوام سے درخواست ہے کہ بوتلوں کا پانی پینا بند کر دیں اور نلکوں کا پانی پییں۔ دیہات میں آج بھی سادہ پانی پیتے ہیں یہ نخرے صرف شہریوں کے ہیں۔علاوہ ازیں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے نظرثانی اپیلوں کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ بحریہ ٹاؤن سے متعلق فیصلے پر عملدرآمد کے لیے خصوصی بینچ تشکیل دیں گے۔چیف جسٹس کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے بحریہ ٹاؤن نظرثانی اپیلوں کی سماعت کی۔ اس دوران سینئر وکیل اعتزاز احسن اور فاروق ایچ نائیک پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس کی جانب سے ریمارکس دیے گئے کہ عملدرآمد بینچ بہت اچھا اور جلد فیصلہ کرے گا، اگر آپ نظر ثانی کی درخواست واپس لیتے ہیں تو میں آج ہی عملدرآمد بینچ بنا دیتا ہوں۔اس دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بحریہ ٹاؤن کے کام سے میں بھی متاثر ہوں، یہ بہت اچھا منصوبہ ہے، پاکستان میں ایسا کوئی منصوبہ نہیں لیکن بنیادی طور پر اس میں جو کچھ ہوا اس پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔سماعت کے دوران وکیل اعتزاز احسن نے استدعا کی کہ عملدرآمد بینچ بنا دیں، جو یہ طے کردے کہ کتنا پیسہ حکومت سندھ کو دینا ہے۔دوران سماعت سندھ حکومت کے وکیل نے بتایا کہ ہم نے قانون کے تحت ملیر کی زمین بحریہ ٹاؤن کو دی۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن عملدرا?مد بینچ معاملے کو جلد از جلد حل کردے گا اور جو رقم عدالت میں جمع ہے وہ فیصلے تک جمع رہے گی جبکہ جو معاملہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے پاس ہے، اس میں مداخلت نہیں کریں گے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ نیب معاملات کو میرٹ پر دیکھے اور غیر ضروری ہراساں نہ کیا جائے۔بعد ازاں بحریہ ٹاؤن، رہائیشیوں، پراپرٹی ڈیلرز اور سندھ حکومت کی جانب سے نظرثانی اپیلیں واپس لینے پر عدالت نے معاملہ نمٹا دیا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ