۔10 سال میں لیے گئے بیرونی قرضوں کا آڈٹ،کے الیکٹرک کے چینی کمپنی سے معاہدے کا جائزہ لیا جائے گا 

123
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت کابینہ کا اجلاس ہورہا ہے
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت کابینہ کا اجلاس ہورہا ہے

اسلام آباد ( نمائندہ جسارت) وفاقی کابینہ نے گزشتہ 10سال میں لیے گئے قرضوں کا آڈٹ اور سیاسی انتقام کا نشانہ بننے والوں کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا۔وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے بتایا کہ کے الیکٹرک اور چینی کمپنی کے درمیان معاہدے کا جائزہ لینے کے لیے عبدالزاق داؤد کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی گئی ہے جب کہ ائر وائس مارشل ارشد ملک کو چیئرمین پی آئی اے ، میاں محمد سومر و چیئرمین نجکاری کمیشن اور عون عباس کو ایم ڈی بیت المال تعینات کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے اسٹیل مل کے ملازمین کو رواں ماہ کی تنخواہوں کی ادائیگی اوریوریا کھاد خریداری کے لیے پیپرا رول 35 میں نرمی کی منظوری دے دی ہے ،ٹیکس ادا نہ کرنے والی سگریٹ وپینٹ کمپنیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا گیا ہے ، اسمگل شدہ موبائل کے استعمال پر رواں سال کے آخر تک پابندی عاید کر دی جائے گی ۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت ہیلتھ کارڈ کا اجراء کر رہی ہے، جس کے ذریعے غریب لوگ ساڑھے 3سے 4 لاکھ روپے تک کا علاج کراسکیں گے اور تمام اخراجات حکومت برداشت کرے گی ۔انہوں نے کہا کہ جس طرح پارلیمنٹ نے انتخابی دھاندلی پر پارلیمانی کمیٹی قائم کی ہے اسی طرح آج وزیراعظم عمران خان سے اجازت لینے کے بعد پارلیمنٹ میں قرار داد لاؤں گا جس میں یہ مطالبہ ہوگا کہ گزشتہ 10سال میں پاکستان کو موجودہ صورتحال تک پہنچانے والوں کا تعین کرنے کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے جو قومی مجرموں کے خلاف مقدمات چلانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے،وفاقی کابینہ نے چیئرمین نیب کو ہدایت دی ہے کہ نیب کے ہائی پروفائل کیسز پر کارروائی تیز کی جائے ۔علاوہ ازیں غریب اور کم آمدنی والے طبقات کو 50 لاکھ گھروں کی فراہمی کے لیے ’’نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم‘‘ کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا ہے اور اس ضمن میں رجسٹریشن کے لیے درخواست فارم 22 اکتوبر سے 21 دسمبر تک جمع کرائے جاسکیں گے، پہلے مرحلے میں پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت 7 اضلاع کاانتخاب کیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں سکھر، کوئٹہ، گلگت، مظفر آباد، سوات، اسلام آباد اور فیصل آباد کے اضلاع میں رجسٹریشن ہو گی۔ رجسٹریشن فارم نادرا کی ویب سائٹ سے بھی ڈاؤن لوڈ کیاجاسکتا ہے جبکہ اس فوٹو کاپی بھی قابل قبول ہو گی۔ اس کے علاوہ ضلعی ہاؤسنگ پروگرام آفس سے بھی یہ فارم حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ درخواست فارم 250 روپے رجسٹریشن فیس کے ساتھ جمع کرائے جاسکیں گے۔ رجسٹریشن کا عمل نادرا کے ذریعے 60 دنوں میں مکمل کیاجائے گا۔ رجسٹریشن کا مقصد گھر کے حصول کے خواہش مند افراد کی مرضی کی جگہ اور ضرورت کا تعین کرنا ہے۔ وفاقی ملازمین کے لیے فیڈرل گورنمنٹ ہاؤسنگ اسکیم کاآغاز ہوگیا ہے۔ اس سکیم کے لیے باقاعدہ نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی قائم کی جارہی ہے جو ون ونڈو آپریشن کے تحت منصوبے کے لیے درکار سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ حائل رکاوٹوں کو دورکرنے میں معاونت کرے گی۔ اپناگھر اسکیم میں زیادہ بااختیار ضلعی ہاؤسنگ اتھارٹی ہوگی جو حتمی فیصلہ کرے گی کہ کون سا درخواست گزار گھر کے لیے اہل ہے اور یہی ضلعی ہاؤسنگ اتھارٹی مالی لحاظ سے بھی فیصلہ کن کردار ادا کرے گی ۔ہاؤسنگ پروگرام میں ان لوگوں کو ترجیح دی جائے گی جن کے پاس پاکستان میں اپنی ملکیت میں کوئی گھر نہیں ہے جبکہ ایک خاندان میں سے صرف ایک فرد ہی اس اسکیم میں درخوست دینے کا اہل ہے ۔شہر بدلنے والے اور اس اسکیم میں شامل ہونے کے لیے شناختی کارڈز پر ایڈرس تبدیل کرانے والوں کو نااہل سمجھا جائے گا۔نادرا کے ذرائع نے بتایا کہ جمعرات کو اپنا گھر ہاؤسنگ اسکیم میں فارم ڈاؤن لوڈ کرتے ہوئے نادرا کی ویب سائٹ کریش کر گئی پہلے روز 174 ملکوں سے2 لاکھ لوگوں نے بیک وقت رسائی حاصل کی ایک سیکنڈ میں 10 ہزارہٹس موصول ہورہی ہیں جس پرویب سائٹ عارضی متاثر ہوگئی ہے نادرا ویب سائٹ اب معمول کے مطابق فعال ہے، پہلے ہی گھنٹے میں 62 ہزار فارم ڈاؤن لوڈ کیے گئے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ